Wed, September 16, 2026

پاکستان کے تحفظ کے لیے سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر یکجہتی ضروری: آرمی چیف

پاکستان کے تحفظ کے لیے سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر یکجہتی ضروری: آرمی چیف

اسلام آباد: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی سب سے مقدم ہے اور اس سے بڑا کوئی ایجنڈا، کوئی تحریک اور کوئی شخصیت نہیں۔ انہوں نے قومی استحکام کے لیے ہم آہنگی اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔


جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پائیدار استحکام کے لیے قومی طاقت کے تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ ہماری اور آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔


آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو "Hard State" بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہم کب تک "Soft State" کے طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ گورننس کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ہمیں ہمیشہ فوج اور شہداء کے خون پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔


جنرل عاصم منیر نے علماء کرام سے درخواست کی کہ وہ دہشت گرد عناصر کی جانب سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کو بے نقاب کریں تاکہ انتہا پسندی کا سدباب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کا کردار انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم ہے۔


آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ کے لیے تمام طبقات کو یک زبان ہو کر سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ جو عناصر پاکستان کو دہشت گردوں کے ذریعے کمزور کرنا چاہتے ہیں، وہ ناکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف ان دہشت گردوں بلکہ ان کے تمام سہولت کاروں کو بھی شکست دیں گے۔


اپنے خطاب کے آخر میں جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ ہے، اور جو کچھ بھی ہو جائے، ان شاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ پاکستان کی افواج اور عوام مل کر ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور ملک کو استحکام اور سلامتی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

آرمی چیف کے اس خطاب نے قومی یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
 

ٹیگز: