Wed, September 16, 2026

اسرائیل نے یکطرفہ طور پر مذاکرات ختم کر دیے، غزہ میں فضائی حملوں میں 200 فلسطینی شہید

اسرائیل نے یکطرفہ طور پر مذاکرات ختم کر دیے، غزہ میں فضائی حملوں میں 200 فلسطینی شہید

غزہ: اسرائیل نے یکطرفہ طور پر فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ان حملوں میں 200 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، فلسطین کی ایمرجنسی سروس نے بتایا کہ غزہ میں صحری کے وقت اسرائیلی فوج نے 35 فضائی حملے کیے، جن میں وسطی غزہ کے دیرالبلاح میں تین گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ خان یونس اور رفح میں بھی حملے کیے گئے، جن میں بچے بھی شہید ہوئے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حماس کے اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں انکار اور دیگر تجاویز کو مسترد کرنے کے بعد اسرائیلی فوج کو غزہ میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حملوں سے قبل امریکا کو آگاہ کر دیا گیا تھا، جس پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل نے ان حملوں کے بارے میں امریکا کو اعتماد میں لیا تھا۔ دوسری طرف، فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے اسرائیلی حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یکطرفہ طور پر جنگ بندی معاہدہ ختم کر رہا ہے اور غزہ میں شہریوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ حماس نے اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ نیتن یاہو مستقبل کے واقعات کا ذمہ دار ہوگا۔

ٹیگز: