Wed, September 16, 2026

بھارت-اسرائیل خفیہ اتحاد : مودی، اڈانی اور موساد کے روابط بےنقاب

 بھارت-اسرائیل خفیہ اتحاد : مودی، اڈانی اور موساد کے روابط بےنقاب

لندن: بی بی سی کی ایک حالیہ ویڈیو رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان معاشی، خفیہ اور دفاعی تعاون نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اب ایک گہرا اور خفیہ اتحاد بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، صنعتکار گوتم اڈانی، اور اسرائیلی حکومت کے درمیان تعلقات نے خطے کی سیاست اور سکیورٹی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ویڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے اہم شہر حائیفہ کی بندرگاہ پر اب بھارت کا اثر و رسوخ غالب ہے۔ گوتم اڈانی کے گروپ نے 2023 میں اس بندرگاہ کا 70 فیصد حصہ خرید لیا، جبکہ باقی 30 فیصد اسرائیلی کمپنی کے پاس ہے۔ یہ بندرگاہ نہ صرف اسرائیل کی سب سے بڑی آئل ریفائنری بلکہ کئی بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں کا مرکز بھی ہے، اس لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے تعلقات 1980 کی دہائی سے چلے آ رہے ہیں، لیکن مودی حکومت کے دور میں یہ تعلقات ایک باقاعدہ انٹیلیجنس اور دفاعی شراکت داری میں بدل گئے ہیں۔ بھارتی ایجنسیاں اسرائیلی ٹیکنالوجی کی مدد سے ملک کے اندر اور باہر نگرانی اور جاسوسی کا نیٹ ورک چلا رہی ہیں۔

مزید برآں، فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران بھارت نے اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی استعمال کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری اتحاد بھی ظاہر ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت، اسرائیل کے اسٹریٹجک ایجنڈے کا حصہ بنتا جا رہا ہے، جو نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ رہا ہے بلکہ بھارت کی غیرجانبدار پالیسی پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ بی بی سی کی اس رپورٹ نے مسلم دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور عالمی سطح پر بھی بھارت-اسرائیل تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔

ٹیگز: