سوات میں تفریح کے لیے جانے والے پورے خاندان کے دریابرد ہونے کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے ۔خیبر پختونخوا کی حکومت نے26جون 2025ءکو پیش آنے والے اس سانحے کے تقریباً تین ہفتے کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد غفلت برتنے کے الزام میں ریسکیو 1122کے سربراہ کو معطل کر کے اب نیا افسر مقرر کر دیا ہے ۔ کے پی کے کی حکومت کے مطابق نیا افسر پیشہ ور یعنی اپنے کام میں ماہر ہے۔ سابقہ سربراہ اگر پیشہ ور اور اہل نہیں تھا تو اسے اس انتہائی اہم ادارے کا سربراہ تعینات ہی کیوں کیا گیا۔غیر پیشہ ور نا اہل افسران کا تقرر سیاسی بنیادوں پر ہو یا کسی سفارش سے ،اہم اداروں کی باگ ڈور ان کے سپرد کی گئی جنہوںنے پاکستان کے متعدد اہم اداروں کی کارکردگی صفر کر دی ہے۔دریائے سوات میں پیش آنے والے اس سانحے پر پوری قوم افسردہ ہے۔ایک ہی خاندان کے اٹھارہ افراد کا دریا کے ٹھاٹیں مارتے پانی میں ڈوب جانا اور تمام نعشوں کی تلاش میں کئی دن گزر جانا افسوسناک ہے۔اللہ تعالیٰ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت،انہیںجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام،ان کی بشری کمزوریوں سے درگزر اور تمام کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات قدرتی حسن سے مالامال ہیں ۔ بلند و بالا ہریالے اور برف پوش پہاڑ، بہتے دریا،ندی نالے چشمے، بلندی سے گرتی ہوئی آبشاریں اور پر کشش خوبصورت مناظر دیکھنے کےلئے ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ ان پر فضا مقامات پر جاتے ہیں۔حالیہ دنوں میں خصوصاً ملک کے شمالی علاقوں میں کئی جان لیواحادثات ہوئے جن میں گلگت میں گجرات کے چاردوستوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے ہونے والی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ایسی افسوسناک خبریں روزانہ دن میں کئی بار سننے کو ملتی ہیں کہ سیاحوں کی کار یا مسافر بس گہری کھائی میں گر گئی ،دریا میں نہاتے ہوئے کئی افراد ڈوب گئے،باراتیوں سے بھر کشتی ڈوبنے سے دولہا سمیت متعدد باراتی ہلاک اور چند کو بچا لیا گیا۔ہوائی جہاز گرنے سے عملے سمیت تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔کچھ عرصہ قبل لاہور میںجوہر ٹاو¿ن کی نہر میں انتہائی تیز رفتار کار گرنے سے تین نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ سمندر میں ڈوبنے کے واقعات عام ہیں۔سندھ اور بلوچستان کی150کلو میٹر طویل ساحلی پٹی پر متعدد تفریح گاہیں ہیں۔گرمی کے ستائے ہوئے سکولوں میںموسم گرما کی تعطیلات کے دوران وسیع تعداد میں ساحل سمندر کے تفریحی مقامات پر جاتے ہیں۔تفریح کےلئے ساحل سمندر پر جانے والے بغیر کسی حفاظتی انتظام کے سمندر کے گہرے پانی میںنہانے کےلئے چلے جاتے ہیں۔ تیز لہریں انہیں اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہیں۔اس کے علاوہ سڑکوں پر پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں ہونے والی ہلاکتیں روزانہ کا معمول ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان حادثات کو فوراً سیاسی رنگ دے دیا جاتا ہے۔ حادثات کو سیاسی رنگ دے کر مخالفین کو برا بھلا کہنا ہماری منفی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔حزب اختلاف حزب اقتدار پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتی ہے۔ کہیں اس علاقے کی انتظامیہ کو برا بھلا کہا جاتا ہے ۔کوئی کہتا ہے کہ جائے حادثہ پر موجود لوگوں نے بے حسی دکھائی اور مدد کو نہیں پہنچے۔کوئی زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سیلفیاں اور تصاویر بنانے کے جنون میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔بلا شبہ حقائق سے چشم پوشی نہیں برتی جا سکتی لیکن اس طرح کی بیان بازیاں ان حادثات میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے زخم مندمل کرنے کی بجائے ان کے دکھ میں مزید اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔
سوات میں پیش آنے والے سانحے کے بعد الزام تراشیوں اور جعلی وڈیوزکا جو سلسلہ شروع ہوا وہ مختلف زاویوں سے اب بھی سوشل میڈیا پر نظر آ رہا ہے۔ دریا میں جانے سے پہلے مرنے والوں کی آخری وڈیو کے حوالے سے کئی جعلی وڈیوز منظر عام پر آرہی ہیں۔جن میں سیلفی بنانے والے لڑکے اور لڑکیاں پس منظر میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ ” یہ ہوں میں اور میرا خاندان “وڈیوز پر لکھا ہوا ہے کہ یہ وڈیو دریائے سوات میں اترنے سے پہلے لی گئی۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ کئی وڈیوزمیں دریائے سوات کی بجائے پس منظر میںساحل سمندر اور سمندر کی لہریں نظر آ رہی ہیں۔کئی جعلی وڈیوز میںدریا کے کنارے بیٹھ کر کھانا کھانے کے بعد سیلفی بنانے کے لیے دریا کے کم پانی میں اتر نے اور دریا میں ڈوبنے والوں کے کپڑوں کے رنگ بہت مختلف ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے چینل کو سبسکرائب کرانے اور چینل دیکھنے والوں کی تعداد بڑھانے کے لیے چینل بنانے والے جعلی وڈیوز بنانے کی اخلاقی حدود پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔کیا ہمارا اپنا کوئی پیارا موت کے منہ میں جا رہا ہو تو ہم ایسی وڈیوز بنا کر ان کی تشہیر کرنا پسند کرتے ہیں ہر گز نہیںتوپھر دوسروں کے لیے ہماری سوچ اتنی منفی کیوں ہے۔قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی متعدد جعلی وڈیوز منظر عام پر آئیں جن کا حادثے کی جگہ اور جاں بحق ہونے والوںسے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔اس حادثے کے علاوہ سوشل میڈیا پر متعددایسی جعلی وڈیوز کی بھی بھر مار ہے جن میں کسی میں ناپسندیدہ دحضرات اور خواتین سیاستدانوں کی کردار کشی اور کسی میںجھوٹی خبریں چلا کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ تنہائی کی زندگی گزارنے اور تنہائی میں ہی اپنے سفر آخرت پر روانہ ہونے والی شو بز کی بعض معروف خواتین کے بارے میں بھی انتہائی غیر اخلاقی وڈیوز چلائی جا رہی ہیں۔مرنے والے کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو جاتا ہے۔ان کی پردہ پوشی کرنا ہم سب کا اخلاقی فرض ہے۔قانونی کارروائی کے لیئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں موجود ہیں۔تنہائی کی زندگی گزارنے والوں کی موت کو اپنے چینل کی تشہیر کا ذریعہ بنانے کی بجائے اپنے اطراف کا جائزہ لیں کہ کیا ہمارا کوئی رشتے دار،بزرگ یا ہمسایہ تنہائی کے مسائل اور مشکلات کا شکار تو نہیں ہے۔اگر ایسا ہے تو ان کی خیریت پوچھنے کےلئے کبھی کبھی ان کے گھر جانا،انہیں فون کرنایا فون پر کوئی پیغام دینا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
تفریح گاہوں پرتصاویر اورسیلفی بنانے کا جنون اب تک کئی جانیں لے چکا ہے۔ ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچانے کےلئے دریا اور سمندر کے پانی میں کودنے والے کئی افراد کسی کی جان بچانے میں کامیاب اور کئی ا للہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔دنیا کی زندگی ہم سب کےلئے عارضی ہے اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح کےلئے موت کا ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے۔
”اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مر جائے۔اس نے موت کا وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے“۔(آل عمران۔145)
جن کا دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آگیا وہ رخصت ہو گئے۔دوسروں کو دنیا سے جاتے دیکھ کر ہم یہ کم ہی سوچتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے ابھی ہمارے پاس مہلت عمل اوراپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے پاس اپنی اصلاح کرنے کا وقت ہے۔
اس وقت ملک بھر میں برسات سے سیلابی صورتحال ہے،شمالی علاقوں میںپہاڑی تودے گررہے ہیں،دریاو¿ں اور سمندر میں طغیانی ہے حفاظتی بند ٹوٹ رہے ہیں، سڑکیں زیر آب اور کئی علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ ہے ۔جان لیواحادثات روکنے کے لیئے پہاڑی،سمندری اوردریا ئی تفریح گاہوں اور سڑکوںپر حفاظتی انتظامات نہ ہونا تشویشناک ہے ۔ لوگوں کی جانوں کا تحفظ کرنا گرچہ متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے لیکن لوگوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ موجودہ سیلابی صورتحال میںتفریح کے لیے ان مقامات پر جا کر خود کو مشکل میں ڈالنا عقلمندی نہیں۔