سانحہ دریائے سوات میں ڈسکہ ، ضلع سیالکوٹ کے ایک ہی خاندان کے چودہ چھوٹے چھوٹے بچوں، جوان بیٹیوں، خواتین اور مردوں کی وفات نے ہر دل افسردہ اور ہر آنکھ اشکبارکردی ہے ۔اس پر سب کے اپنے اپنے انداز میں تبصرے ، تجزیے ، پروگرام اور وی لاگ جاری ہیں۔ دریا کی سرکش موجوں نے اتنی قیمتی جانوں کو نگل لیا۔۔۔کچھ دریا کے کنارے مدد کے لیے بھاگ دوڑ کرتے رہے اور ’’ستم رسیدہ‘‘ دریا کے بیچ ریت کے ایک چھوٹے سے ٹیلے (بریتے) پر ملتجی نظروں سے سب کو دیکھتے رہے، مدد کے لیے پکارتے رہے۔۔ موت کو دھیرے دھیرے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر معصوم بچے اپنے والدین کے سینوں سے چمٹتے رہے۔۔اور والدین ایسے تہی دست کہ نہ اپنے لیے کچھ کر پائے نہ اپنے بچوں اور خواتین کے لیے کچھ کر سکے ۔۔ سب کی آنکھوں کے سامنے بے بس تنکوں کی طرح موت کے بہاؤ میں بہہ گئے اور آنے والے وقت کے لیے ہر حساس دل پر درد کے نشتر لگائے اپنی زندگی کا باب دردناک انداز میں پورا کر گئے۔۔۔!
حکومتی بے حسی ، غفلت ، سستی اور نا اہلی اپنی جگہ پر ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔اس پر باتیں ہوتی رہیں گی ، کوئی کسی ایک کا قصور نکالے گا ، تو کوئی کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرائے گا،حتیٰ کہ کچھ لوگ مرنے والوں کو بھی نہیں بخشیں گے اور بہت دور کی کوڑی لائیں گے کہ وہ وہاں گئے ہی کیوں تھے اور گئے تھے تو اس جگہ بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی وغیرہ وغیرہ۔۔اس سانحہ پر شور و واویلا بھی ہوگا، کمیٹیاں بھی بنیں گی، مرنے والوں کے ورثا کے لیے مدد کا اعلان بھی ہوگا، وہ مدد کسی کو مل بھی جائے گی اور کوئی اس کے لیے مارا ماراپھرتا رہے گا، اس کی کہیں شنوائی نہیں ہوگی اور ایک دن وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے گا۔۔۔حکومتی کھیل چلتے رہیں گے لیکن جانے والے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔!
میڈیا جلد کسی اور واقعے کی رپورٹنگ میں مصروف ہو جائے گا، لوگ اپنے مسائل کے مدار کی الجھنوں سے نپٹنے میں لگ جائیں گے اور یوں ’’جس تن لاگے سو تن جانے ‘‘کے مصداق ، درد مندوں کے آنسو ان کی زیست کا حصہ بن کر ان کے دامن بھگوتے رہیں گے، باقی سب رفتہ رفتہ بھول جائیں گے اور ایک دن قبر کی مٹی بھی اپنا نشان کھو دے گی اور کسی کی قبر کی بے نام ہڈیوں میں کوئی دوسرا اس کا رفیق بن جائے گا۔۔۔کوئی خوش قسمت ہوگا کہ جس کا اچھا نام اور مقام دنیا میں باقی رہ جائے گا ورنہ وقت کی گرد میں سب گم اور خاک میں مل کر خاک ہو جائیں گے۔۔۔! یہی دنیا ہے ، یہی زندگی ہے۔۔!
بے رحم موت جب اپنے پنجے گاڑتی ہے تو نہ راجے چھوڑتی ہے نہ مہاراجے، نہ کسی نیک کو اس سے رہائی ہے نہ کسی بد کو اس سے رستگاری ہے۔۔اس کا ذائقہ ہرذی نفس نے چکھنا ہی چکھنا ہے۔۔ اس سے کسی چھوٹے ، بڑے، ادنیٰ ، اعلیٰ، صحت مندیا بیمار کو کوئی استثناء حاصل نہیں ہے۔البتہ ’’ موت سے پہلے موت‘‘ کا راز جان لینے والے فنا کی وادیوں میں بقا کا سراغ ڈھونڈ لیتے ہیں۔۔ان کی یادیں اور کارہائے نمایاں ان کی یاد کے چراغ دلوں میں روشن رکھتے ہیںاور اکثر ان کی قبروں پر چراغاں کرتے رہتے ہیں۔۔وہ بظاہر مر کر بھی سنگ میل کی صورت’’ زندہ دلوں‘‘ کو حیات ابدی کا راستہ دکھاتے رہتے ہیں۔ وگرنہ تو یہی دستور حیات ہے کہ ’’ آج مرے تو کل دوسرا دن ‘‘ ہے۔۔۔!
یہ زندگی کے میلے ، چل رہے ہیں، چلتے رہے ہیں اور قیامت تک چلتے رہیں گے۔۔۔خوشی اور غم کے موسم آتے رہیں گے، جاتے رہیں گے۔۔۔دنیا کے گرویدہ ، اس کے فریب سے ڈسے جاتے رہیں گے اور آخرت کے شائق ، اسے مات کرتے رہیں گے۔۔فطرت کی بھٹی میں برتن پکتے رہیں گے اور اپنے اپنے وقت پر استعمال، بے استعمال ٹوٹتے رہیں گے۔۔ حضرت علی رضی اللہ کا فرمان ہے: ’’ تم کس دنیاپر پر فخر کرتے ہو۔جس کا بہترین مشروب مکھی کا تھوک( شہد )ہے، جس کا بہترین لباس کیڑے کا تھوک( ریشم )ہے۔۔۔ اورمجھے اس دنیا سے کیا لینا، جس کے حلال میںحساب اور حرام میں عذاب ہے۔‘‘
یہ دنیا، یہ زندگی ایک میلے کی مانند ہے ، دن نکلتا ہے، آہستہ آہستہ میلے کی رونقیں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور پھر کچھ سہ پہر، کچھ شام ڈھلے اور کچھ رات گئے اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، پیچھے ویرانی سی ویرانی اورتنہائی سی تنہائی رہ جاتی ہے۔۔تماشے اور دکھاوے کے ’’ میک اپ ‘‘ زدہ چہروں کے نقاب اترتے ہیں، کرداروں کے کردار بدلتے ہیں اورمنظر کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔۔۔ دنیا کے وقتی میلوں میں لوگ آتے ہیں، لطف اٹھاتے ہیں، خرید و فروخت کرتے ہیںاور واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔۔۔۱
دنیاوی زندگی بھی کیا زندگی ہے۔۔۔انسان کچھ وقت کے لیے دنیا میںآتاہے اور اکثر یہاں کے کھیل تماشے، حرص و ہوا، شہرت و دولت اور جھوٹی آسائشوں میں کھو کر اپنے اصل مقام اور حیات ابدی کو بھول جاتا ہے۔میلے کی عارضی خوشی اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے اور دنیاکی رنگینی، چمک دمک، دکھاوے اور مقابلے کا ماحول نفس کو مغرور اور روح کو محروم بنا دیتا ہے۔ انسان آہستہ آہستہ اپنی اصل شناخت ،انسانیت ، خلافت، عبدیت، عاجزی اور تقویٰ سے دور ہوتا چلاجاتا ہے۔جو لوگ دنیا کے میلے کو مستقل ٹھکانہ سمجھ بیٹھتے ہیں، وہ واپسی پر خالی ہاتھ اور حسرتوں سے بھرے ہوتے ہیں۔فطرت کی پکار یہی ہے کہ میلہ دیکھو ضرور مگر اس میں اپنے آپ کو اس طرح سے محو مت کرو کہ اپنا آپ ہی گم کر بیٹھو۔۔۔اسلام دنیا سے الگ تھلگ ہونے کی بجائے شعور و حکمت کے ساتھ جینے کا درس دیتاہے۔حدیث نبوی ﷺ ہے : ''دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی پردیسی یا مسافر ہو'' ۔۔۔!
صوفیا دنیا کے میلوں کو عشقِ حقیقی سے غافل کرنے والے ''پردے'' قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل ''میلہ'' وہ ہے جہاں دل اللہ کی یاد سے لبریز ہو اور روح اپنے اصل محبوب سے ہمکلام ہو۔ علم و فکر کا تقاضا یہی ہے کہ اس میلے کو ایک امتحان سمجھ کر اس سے عبرت لی جائے اور اپنی اصل منزل ’’اللہ کی رضا اور ابدی زندگی‘‘ کو کبھی فراموش نہ کیا جائے۔ دنیا کا میلہ گزر جائے گا، مگر جو کچھ ہم نے یہاں جمع کیا ہے، وہی ہمارے ساتھ جائے گا۔اِدھراُدھر کی باتوں میں ’’اصل بات ‘‘ بھول جانا دانش مندی نہیں۔۔ ہاتھوں سے سرکتی ریت کی طرح ، وقت چپکے چپکے گزر جاتا ہے ،کچھ عرصہ یاد وں کے دیپ کی لو ٹمٹماتی رہتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ بھی معدوم ہو جاتی ہے ۔ یہی زندگی کا چلن ہے۔ انسانی آنکھوں کے سامنے ہری بھری ہو کر لہلہانے والی کھیتی ایک دن زرد ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے چورا چورا ہو جاتی ہے۔۔۔!
ایسے میں کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ ، جوعرفان ذات میں یکسو ہو کر اپنے مقصدِ حیات کو ایک بند مٹھی کی طرح اپنی طاقت بنا لیتے ہیں اور کتنے نادان ہیں وہ ، جو ادھر ، ادھر کے بیکار اور وقتی جھمیلوں میں ، اپنی زندگی کی مٹھی کھول کر خاک در خاک ہو جاتے ہیں۔۔اس لیے تو کہتے ہیں: بند ہو مٹھی تو لاکھ کی ۔۔کھل گئی تو پھر خاک کی۔۔۔! اور کچھ نہیں تو اس زندگی کا حاصل اتنا تو ہو کہ دم رخصت حسرت اور اے کاش کی بجائے سرخروئی اور طمانیتِ قلب، انسان کے دامن کا تابندہ ستارہ ہو۔۔۔!