حکومت کی جانب سے گریڈ سترہ سے بائیس تک کے سرکاری افسران کو دو ہزار چھبیس تک اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کا حکم بظاہر ایک سادہ سا انتظامی نوٹس ہے، مگر درحقیقت یہ ریاست کی کمزوری، افسر شاہی کی بدعنوانی اور نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کا باضابطہ اعتراف ہے۔ اگر نظام واقعی شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد ہوتا تو حکومت کو اپنے ہی افسروں سے اس انداز میں حساب مانگنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کے باوجود اگریہ اقدام ملک کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی سمت ایک قدم قرار پائے تو یہ خوش فہمی نہیں بلکہ آخری امید کی ایک کمزور سی کرن ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بے تحاشا دولت مند افسران سے اثاثوں کے گوشوارے مانگ لیے گئے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ حکم ایک ایسے نظام میں دیا گیا ہے جہاں سچ بولنا جرم اور اصول پسندی خودکشی سمجھی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں اچانک شفافیت کا مطالبہ کرنا حالات کو سیدھا کرنے کی موثر کوشش ہے۔
اس حکم کے بعد افسر شاہی جس نفسیاتی خوف میں مبتلا ہے، وہ کسی خفیہ رپورٹ یا انٹیلی جنس بریفنگ کا محتاج نہیں۔ خود افسران کی نجی محفلوں میں یہ بات فخر یا طنز کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ ستانوے فیصد افسر کرپٹ ہیں اور باقی تین فیصد یا تو پاگل ہیں یا نیم پاگل۔ ایسے ماحول میں اچانک اثاثوں کا حساب مانگا جائے تو افسر کا ردِعمل اصلاحی نہیں، دفاعی ہوتا ہے۔ وہ سچ بتانے کے بجائے بچ نکلنے کے راستے تلاش کرتا ہے، کیونکہ اس نے نظام سے یہی سیکھا ہے۔
یہاں ملک ریاض کا وہ جملہ یاد آتا ہے جو دراصل نظام پر فردِ جرم ہے کہ ہر سرکاری دفتر اور ہر اہلکار کی ایک قیمت ہے۔ اس نے یہ قیمت ادا کی اوراس کے لیے دروازے کھل گئے۔ یہ کوئی ذاتی کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی کا اعلان ہے۔ جب نظام خود فروخت ہو جائے تو پھر حساب مانگنے کا اخلاقی جواز کہاں باقی رہتا ہے؟
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ خوف زدہ افسر ریاست کے لیے سب سے مہنگا افسر ہوتا ہے۔ وہ فیصلہ کرتا ہے نہ ذمہ داری لیتا ہے اور نہ ہی کسی فائل کو اپنے دستخط سے آگے بڑھاتا ہے۔ وہ نظام کا حصہ بن کر نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔ آج اگر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افسر گوشواروں سے سہمے ہوئے ہیں تو اس کا نقصان صرف انہیں نہیں بلکہ پوری معیشت، سرمایہ کاری اور ریاستی عمل داری کو ہو رہا ہے۔ فیصلے رکتے ہیں، منصوبے لٹکتے ہیں اور نظام اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ محض نوٹس جاری کر کے اصلاح ہو جائے گی تو یہ خود فریبی ہے ۔
اس خوف اور ریاست کی مالی مجبوری، دونوں کا علاج ایک ہی ہے، اور وہ ہے ایک واضح، جرات مندانہ اور حتمی ایمنسٹی سکیم۔ میں یہ بات پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور آج پوری شدت کے ساتھ دہرا رہا ہوں کہ اگر اچانک، غیر لچکدار اور نمائشی احتساب شروع کیا گیا تو افسر بچے گا اور نہ ہی نظام۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ نیب کے چھاپے، میڈیا ٹرائل اور اخلاقی خطبے ہمیشہ ایک ہی انجام پر پہنچے ہیں کہ افسر بچ نکلتے ہیں، پیسہ بیرونِ ملک منتقل ہو جاتا ہے اور ریاست مزید کمزور ہو جاتی ہے۔
ریاست کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہنا ہوگا کہ جن افسروں کے پاس غیر ظاہر شدہ اثاثے ہیں، وہ ان کا پچاس فیصد ریاست کو دیں اور باقی اثاثے قانونی طور پر ڈیکلیئر کرا لیں۔ نہ نیب کے چھاپے، نہ ٹی وی کیمرے، نہ اخلاقیات کے وعظ۔ خاموشی سے پیسہ آئے، نظام کو سانس ملے اور ریاست اپنے پاؤں پر کھڑی ہو۔ اگر یہ سکیم سنجیدگی سے نافذ کی گئی تو پاکستان کے مالیاتی مسائل کا ایک بڑا بوجھ اسی ایک فیصلے سے ہلکا ہو سکتا ہے۔
یہ تجویز بظاہر سخت اور غیر اخلاقی لگ سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاستیں اخلاقی نعروں سے نہیں بلکہ عملی فیصلوں سے چلتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ مثالی حل ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں اس کے سوا کوئی قابلِ عمل راستہ موجود بھی ہے یا نہیں۔ اگر دانشمندی نہ دکھائی گئی تو نتیجہ وہی ہوگا جو ہم بار بار دیکھتے آئے ہیں کہ افسر بچ جائیں گے، پیسہ بھی باہر ہی رہے گا اور نظام مزید مفلوج ہو جائے گا۔
یہاں حکومت سے ایک بنیادی سوال بنتا ہے کہ کیا ہم واقعی نہیں جانتے کہ افسر شاہی میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس، عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط اور خود ایف بی آر کے اعترافات کافی نہیں؟ سب ایک ہی بات دہراتے ہیں کہ پاکستان کی کمزور معیشت کی بنیادی وجہ ادارہ جاتی بدعنوانی ہے۔ ٹیکس نیٹ محدود ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح دنیا کے نچلے ترین درجوں میں ہے، اور اصل دولت فائلوں میں نہیں بلکہ زمینوں، پلازوں اور بینک اکاؤنٹس میں بولتی ہے۔
آج وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے پاس ایک غیر معمولی موقع ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان جو ہم آہنگی دکھائی دے رہی ہے، اسے صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سخت اور غیر مقبول فیصلوں میں ڈھلنا چاہیے۔ ریاست نے منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف طاقت استعمال کی، تو سوال یہ ہے کہ افسر شاہی کی تطہیر اس سے کم ضروری کیوں سمجھی جا رہی ہے؟۔
اس پورے عمل میں سب سے اہم عنصر اعتماد ہے۔ افسران کو واضح یقین دہانی کرانا ہوگی کہ یہ عمل خفیہ ہوگا، ان کی عزت محفوظ رہے گی اور جمع کرائی گئی معلومات سیاسی انتقام یا ذاتی دشمنی کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔ حکومت اگر وقار دے گی تو تعاون ملے گا، اگر تضحیک ہوگی تو مزاحمت ہوگی۔ یہ کوئی فلسفیانہ نکتہ نہیں بلکہ ایک تلخ عملی حقیقت ہے۔یہ سکیم صرف موجودہ افسران تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ گزشتہ اٹھہتر برس کے زندہ سابق افسران اور مرحومین کے ورثا تک پھیلنی چاہیے۔ پچاس فیصد جمع کرا کے باقی اثاثے قانونی بنا لینے کا موقع دینا کوئی غیر اخلاقی سودا نہیں بلکہ ریاستی مفاد کا تقاضا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں نے اسی طرح کے تلخ مگر جرأت مندانہ فیصلوں سے اپنی مالی بنیادیں مضبوط کیں۔
ہمیں یہ خوش فہمی ترک کرنا ہوگی کہ معیشت صرف قرضوں کے سہارے سنبھل سکتی ہے۔ صنعت، زراعت اور روزگار کے لیے سرمایہ چاہیے اور وہ سرمایہ نئے ٹیکس لگا کر نہیں بلکہ پرانے کھاتوں کو قانون کے دائرے میں لا کر ہی آ سکتا ہے۔ اگر حکومت نے اس موقع پر بھی محض انتباہ پر اکتفا کیا تو افسر پریشان بھی ہوں گے، نظام بھی رکے گا اور خزانہ بھی خالی رہے گا۔ اگر اعتماد، وقار اور حقیقت پسندی کے ساتھ فیصلہ کیا گیا تو وہ پیسہ سامنے آ سکتا ہے جو برسوں سے فائلوں کے سائے میں دفن ہے۔ ریاستیں خوف سے نہیں، سچ کو ماننے کی ہمت سے بنتی ہیں۔ اب فیصلہ یہی ہے کہ ہم ہمت دکھاتے ہیں یا ایک بار پھر آنکھیں بند کر کے وقت کے بہاؤ کے حوالے ہو جاتے ہیں۔