Wed, September 16, 2026

نوجوانوں کو نوکری ڈھونڈنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا ہوگا، ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان

نوجوانوں کو نوکری ڈھونڈنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا ہوگا، ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان

اسلام آباد:سی  گلوبل اکنامک فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم اور روزگار کے درمیان واضح فرق موجود ہے، جامعات گریجویٹس تو پیدا کر رہی ہیں لیکن مارکیٹ میں اسی رفتار سے نوکریاں پیدا نہیں ہو رہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مواقع فراہم نہیں ہو رہے، تعلیم اور جاب مارکیٹ کے درمیان موجود خلا ختم کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے روزگار کے لیے درکار عملی مہارتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق اور عملی زندگی کی ضروریات کے درمیان بھی واضح فرق ہے، یونیورسٹیوں کو اپنی تحقیق کو صنعت اور مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑنا ہوگا تاکہ ریسرچ کو معاشی سرگرمی میں تبدیل کیا جاسکے۔

ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا ہوگا، انٹرپرینیورشپ اور عملی تربیت کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری، اکیڈمیا، ریسرچ، بزنس کمیونٹی اور طلبا کو ایک دوسرے سے جوڑنا ضروری ہے۔ مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی پروگرامز ترتیب دینا ہوں گے۔

ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ انڈسٹری، اکیڈمیا اور حکومت کے درمیان قومی سطح کا فریم ورک تشکیل دے کر تینوں شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت ہے۔ طلبا کو تعلیم کے ساتھ عملی تجربات اور مارکیٹ کی ضروریات سے روشناس کرانا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت، جامعات اور صنعت مل کر نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں، جبکہ تعلیم، تحقیق اور روزگار کے درمیان مضبوط رابطے کے بغیر نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔

ٹیگز: