Wed, September 16, 2026

فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کا بنوں دورہ، افغانستان کو وارننگ

فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کا بنوں دورہ، افغانستان کو وارننگ

اقوام عالم اس بات کی شاہد ہیں کہ پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں سے خطے میں دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ دشمن کے ناپاک عزائم نے اس پاک سرزمین کو قرب و جوار سے بے حد متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے ہر محاذ پر ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے سر توڑ کوششیں جاری رکھی ہیں اور افواج پاکستان کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ جنوبی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، یہ وہ علاقہ جات ہیں جہاں فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی نے افغانستان کے بل پر اپنی ساکھ کو مضبوط بنایا اور دہشت گرد کارروائیوں سے نہ صرف اس علاقے کی شدید مشکلات میں اضافہ کیا، بلکہ ملکی ساخت اور شناخت کو بھی بے حد متاثر کیا ہے۔ اقوام عالم ایک طرف تو ان فسادی گروہوں کو موت کے گھاٹ اترتے ہوئے دیکھ رہی ہیں اور دوسری جانب افواج پاکستان کے جری جوانوں کو بھی جام شہادت نوش کرتے ہوئے ملاحظہ کر رہی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عرصہ دراز سے افغانستان کا ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج کی سہولت کاری کرنا اس وقت ایک تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے جس کا بروقت تدارک اشد ضروری ہے۔
حال ہی میں خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 45 خوارج ہلاک ہوئے جبکہ 19 فوجی جوان شہید ہوئے۔ لوئر دیر میں فتنہ الخوارج کے 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 7 فوجی جوان شہید ہوئے، جنوبی وزیرستان، باجوڑ میں 35 دہشت گرد ہلاک اور 12 فوجی نوجوان وطن پر قربان ہوئے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے مطابق ان دہشت گرد گرہوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں جبکہ بھارت ان گروپوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور بیرونی سازشوں کی تشویشناک صورتحال پاکستان کیلئے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔
حالیہ صورتحال کے پیش نظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے ہمراہ بنوں کا دورہ کیا جہاں 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور دہشت گردی کے خلاف اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شامل ہوئے۔ کور کمانڈر پشاور کی بریفنگ میں یہ امر پیش نظر رکھا گیا کہ دہشت گردوں کی سہولت کاری میں افغانستان براہ راست شریک ہے جبکہ بھارت ان عناصر کی سرپرستی اور رہنمائی کر رہا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کا بھر پور جواب جاری رہے گا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں افغانستان کو واضح کر دیا ہے کہ افغانستان، خارجیوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے۔ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو رد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی خارجیوں اور بھارتی پراکسیوں کی سہولت کاری کی بات کرتا ہے وہ انہی کا آلہ کار ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں۔ دہشت گرد افغانستان سے آ کر پاکستانی سرحدوں اور بالخصوص جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں اس لیے غیر قانونی طور پر پاکستان میں موجود افغانیوں کا انخلا انتہائی اہم ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز پر فتنہ الخوارج کے اس حملے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا KP یا کسی بھی حکومتی نمائندے کا افواج پاکستان کے شہداء کے حوالے سے نہ تو کوئی تعزیتی بیان سامنے آیا ہے اور نہ ہی شہداء کے جنازے میں کے پی حکومت کے کسی نمائندے نے شرکت کی ہے۔ جو فی الحقیقت ایک افسوسناک امر ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے تمام پی ٹی آئی سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم این کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمران خان کی ہر پیشی خواہ اڈیالہ جیل میں ہو یا ہائی کورٹ میں، لازمی شرکت کریں۔ تو یہاں پی ٹی آئی قیادت کی ترجیحات غور طلب ہیں کہ ان کے نزدیک عدالت میں پیشیاں شہداء کے جنازوں میں شریک ہونے سے زیادہ اہم ہیں۔ دہشت گرد حملوں کے خلاف کے پی حکومت کا مذمتی بیان نہ آنا، شہداء کے جنازے میں عدم شرکت اور ورثاء سے تعزیت سے گریز کرنا، بلاشبہ ایسی صورتحال ہے جو کے پی حکومت کی تخریبی عناصر کی حمایت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
پی ٹی آئی کا PRO-TTP مؤقف انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ماضی میں عمران خان و پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی ذمہ داری خود لی تھی، تاہم پی ٹی آئی مسلسل انسداد دہشتگردی کی راہ میں رکاوٹ بنتی رہی اور مقامی جماعتوں (اے این پی، پی ٹی ایم ، این ڈی ایم) کے ساتھ ملکر سکیورٹی آپریشنز کو روکنے کی کوشش کی اور ان آپریشنز کی سماجی حیثیت ختم کر دی۔ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد افغان شہریوں کی دہشتگردی اور دراندازی میں شمولیت کئی گنا بڑھ گئی ہے، جبکہ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کو خوش کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اقوام عالم کے سامنے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ پاکستان میں انسداد دہشتگردی کے آپریشنز پر رائے تقسیم ہے۔ یہ امر پاکستان میں اندرونی خلفشار کو جنم دے سکتا ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت میں ملکی سالمیت کے موضوع کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہیے اور اس صورت حال میں افواج پاکستان کا ساتھ دے کر ملک کو دہشت گرد عناصر سے پاک کرنا چاہیے۔
یہاں افواج پاکستان کی قربانیوں کے حوالے سے ذکر نہ کرنا ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اورجذبوں کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہو گا۔ جہاں دہشت گردی کے حوالے سے کسی مخصوص علاقے میں معصوم جانوں کے زیاں کا ذکر ہو رہا ہے، وہاں افواج پاکستان کے شیر دل جوانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ یہ جوان اگرچہ پاکستان کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر دہشت گردی کے مقابلے میں یکجا ہو کر نہ صرف ملکی سرحدوں بلکہ ٹارگٹڈ علاقوں کی بحالی کے لیے اپنی جان داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔ ان ماؤں کے لال جنہیں امانت، دیانت اور شجاعت کا سبق پڑھا کر وطن کی ناموس پر جان لٹا دینے کا درس دیا گیا۔ انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کبھی پش و پیش نہیں کیا۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ ان بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حالیہ آپریشن میں بھی 45 خوارج کو جہنم واصل کرنے والے 19نوجوانوں کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور عوام نے خراج تحسین پیش کیا ہے۔
تاریخ انسانی گواہ ہے کہ معصوم انسانی جانوں پر ظلم کرنے والوں کا انجام عبرت ناک ہوتا ہے۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا پر حملہ کرنے والوں کی موت عبرت ناک ہوتی ہے جبکہ وطن عزیز کا دفاع کرنے والے سبز ہلالی پرچم میں ملبوس ہو کر پوری قوم سے خراج تحسین پاتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جو اپنی خودمختاری، سالمیت، بقا اور ملکی سلامتی کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرتی آئی ہے اور کروڑوں جانیں قربان کر سکتی ہے، مگر کبھی ملک دشمن عناصر، سہولت کاروں اور منفی پراپیگنڈا پھیلانے والوں کو اس کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ پاکستان ریاستی امن و آزادی کیلئے قائم ہوا تھا۔ افواج پاکستان، سکیورٹی ادارے اور غیور عوام اسے دشمن کی چال کا نشانہ نہیں بننے دیں گے۔ ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم اور بی ایل اے ہوں یا سیاسی چال بازیاں یا اندرونی و بیرونی دہشت گرد سہولت کار، پاک افواج ہر محاذ پر وطن عزیز کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار اور سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہیں۔

ٹیگز: