Wed, September 16, 2026

عرفان صدیقی صاحب بھی رخصت ہو ئے!!

 عرفان صدیقی صاحب بھی رخصت ہو ئے!!

سینیٹرعرفان صدیقی صاحب بھی میرے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کی منازل اسی طرح آسان کرئے جس طرح وہ اپنی زندگی میں دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرتے رہے۔ آمین۔صدیقی صاحب کے ساتھ میری بیسیوں ملاقاتیں رہیں۔ بے شمار یادیں ہیں۔ تاہم آج چند سطروں پر مشتمل کالم لکھنا بے حد مشکل ہو رہا ہے۔ 
 یورپ کے آٹھ دس روزہ دورے سے واپس آئے تو ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔مختلف ٹیسٹ اور چیک ۔اپ ہوتے رہے۔ صدیقی صاحب نہایت حوصلے سے بیماری کی تشخیص اور علاج میں مصروف رہے۔ آخری وقت تک کالم لکھتے رہے۔ ٹی وی پروگراموں میں آن۔ لائن شریک ہوتے رہے۔گھر بیٹھے دفتری امور نمٹاتے رہے۔ کچھ برس پہلے انہوں نے اپنی خود نوشت لکھنا شروع کی تھی۔ کئی ابواب لکھ ڈالے۔پھرکتاب لکھنے کا یہ سلسلہ پیشہ وارانہ مصروفیات کی نذر ہو گیا۔ میری بات ہوئی تو کہنے لگے کہ اپنی خود نوشت پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ اپنے لکھے ابواب پڑھے ہیں، مجھے خود بے حد دلچسپ لگے ہیں۔ عرض کیا کہ اتنے برسوں میں واحد یہ کام ہے جو تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ آپ تو ہر کام ڈیڈ لائن کے مطابق کرنے کے عادی ہیں۔ کہنے لگے کہ واقعی ، کتاب چھپوانے میں کافی تاخیر ہوگئی ہے۔ اب ایک دو ماہ میں اس کام کو مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ تاہم یہ کام ادھورا رہ گیا۔ہمیشہ سے تاثر تھا کہ صدیقی صاحب مسلم لیگ(ن) کے قریب ہیں۔تاہم میرا خیال مختلف ہے۔ وہ دراصل میاں نواز شریف کے قریب تھے۔ سچ پوچھیں تو ان کی محبت میں گرفتار تھے۔ ان کا روزانہ کی بنیاد پر میاں صاحب سے رابطہ تھا۔ میاں صاحب بھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ صدیقی صاحب بیمار ہوئے تو میاں نواز شریف صاحب کی ہدایت پر ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور پنجاب حکومت ان کی بیماری کی تشخیص سے جڑے معاملات دیکھتے رہے۔ ایک دن صدیقی صاحب ائیر ایمبولینس کے ذریعے لاہور آئے ، تو میاں صاحب پیشگی اطلاع کے بغیر ان کی عیادت کیلئے ہسپتال چلے آئے۔ میری بات ہوئی تو کہنے لگے کہ میاں صاحب نے خوامخواہ زحمت کی ۔ مجھے تب پتہ چلا جب میاں صاحب گھر سے چل پڑے تھے۔ ورنہ میں انہیں آنے سے روک دیتا۔ ان کی طبیعت ناساز ہے، انہیں آرام کرنا چاہیے۔ 
بیماری کے دوران میں نے دو، چار مرتبہ اصرار کیا کہ میں ملنا چاہتی ہوں ۔ وہ منع کر دیتے۔کہتے کہ چند دن بعد معمول کے مطابق چلنے پھرنے لگوں گا تب آنا۔ ان کے آئی۔ سی۔ یو میں داخلے کی اطلاع ملی تو عمران بھائی کو پیغا م بھیجا کہ میں اسلام آباد آ رہی ہوں۔ جواب آیا کہ ابو نے آنے سے منع کیاہے ۔ پھر صدیقی صاحب نے مجھے واٹس ایپ میسج کیا کہ ابھی مت آو۔ دو دن بعد میں آئی۔ سی۔ یو سے شفٹ ہو جاوں گا تب آجانا۔ لیکن میں اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گئی۔ آئی۔ سی۔ یو میں انہیں دیکھ کر مجھے دھچکا لگا۔ وہ کافی کمزور ہوگئے تھے لیکن ہمت حوصلے سے باتیں کرتے رہے۔ کہنے لگے کہ کیا ضرورت تھی آنے کی ۔ اپنی بچیوں کو کدھر چھوڑا ہے۔ فلاں فلاں کا کیا حال ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ برسوں سے میرا معمول تھا کہ حساس موضوعات پر لکھتے وقت ان سے راہنمائی لیا کرتی تھی۔ مجھے سیاست سے دلچسپی ہے۔ تاہم وہ نصیحت کرتے کہ سماجی موضوعات پر لکھا کرو۔ چند دن پہلے میں نے ایک مذہبی سیاسی جماعت پر کالم لکھا تھا ۔ ہسپتال سے صدیقی صاحب کا میسج آیا کہ تمہارا کالم پڑھا ۔ اچھا لکھا ہے۔ لیکن بے حد فضول موضوع ہے۔ کیا ضرورت تھی اس پر لکھنے کی۔ مجھے ان کا ڈانٹ بھرا پیغام پڑھ کر خوشی ہوئی ۔ سوچاکہ ان کی طبیعت سنبھل رہی ہے جو میرا بے کار کالم بھی پڑھ لیا ہے۔ اس ملاقات میں بھی یہ بات دہرائی۔ حسب معمول بزرگانہ انداز میں نصیحت کی کہ احتیاط کیا کرو۔ گزارش کی کہ میں چند دن اسلام آباد رکنا چاہتی ہوں۔ خفگی سے کہنے لگے کہ مجھ سے مل لیا ہے، اب و اپس چلی جاو۔ تمہاری پچیاں اکیلی ہیں۔ میں ٹھیک ہو جاوں تب آجانا۔ اس دن وزیر اعظم کے دفتر سے پیغام آیا کہ پرائم منسٹر عیادت کیلئے آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے منع کر دیا ۔ کہنے لگے کہ یہ نہایت بے ادبی ہے کہ شہباز صاحب مجھ سے ملنے آئیں اور میں لیٹے لیٹے ملوں۔ چند دن بعد گھر جاوں گا تو آدمی ویل چیئر پر بیٹھ کر مل لیتا ہے۔
 آدھ پون گھنٹے کی ملاقات کے بعد میں آئی۔ سی۔ یو سے نکلی تو مجھے لگا کہ یہ ان سے میری آخری ملاقات ہے۔ ان کی ناراضی کے خیال سے میں نا چاہتے ہوئے بھی لاہور واپس آگئی لیکن یہ خیال میرے ذہن سے چپک گیا۔ اس سوچ کے زیر اثر میں نے میاں نواز شریف صاحب کو اطلاع دی کہ صدیقی صاحب ٹھیک نہیں ہیں۔ ان کی حالت اس سے بہت مختلف ہے جیسی آپ سے ہسپتال میں ملاقات کے وقت تھی۔ فکر مندی بھرا جوا ب ملا کہ جلد ان سے ملاقات کروں گا۔ لاہور واپسی کے دو دن بعد صدیقی صاحب کی طبیعت بگڑنے لگی۔ اس صورتحال کے باوجود میں پرامید رہتی کہ صدیقی صاحب جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔ خیال آتا کہ جن غریبوں ، یتیموں، مسکینوں کا یہ بے لوث خیال رکھتے ہیں، ان کی دعاوں کے طفیل یہ صحت یاب ہو جائیں گے۔ اگلے د ن میں نے ان سے ملنے کیلئے اسلام آباد جانا تھا کہ ان کی وفات کی اطلاع آگئی۔ 
 برسوں سے میں جس عرفان صدیقی کو جانتی ہوں وہ سادہ آدمی تھے۔ ذہین و فطین ، شائستہ، منکسر المزاج اور دوسروں کی مدد کیلئے ہر آن تیار۔ وہ کالم نگار تھے۔ تب بھی عرفان صدیقی تھے۔ وزیر اعظم نوازشریف کے مشیر بنے، وزارت کے سربراہ ہوئے، سینیٹر بنے، مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر بنے یا تعلیم اور امور خارجہ کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئر مین، وہ اول و آخر عرفان صدیقی رہے۔ ان کے لب ولہجے اور انداز و اطوار میں سادگی اور انکساری تھی۔ جو لوگ انہیں جانتے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ ان سے ملنا ، بات کرنا، تعلقات استوار کرنا کس قدر آسان تھا۔ ہمارے گھروں میں صدیقی صاحب کی مثال دی جاتی تھی کہ کس طرح ایک آدمی انتہائی غربت و افلاس سے اٹھا اور محنت و مشقت کیساتھ سیاست اور صحافت کے اعلیٰ درجات تک جا پہنچا۔صدیقی صاحب نے کبھی اپنے پس منظر کو چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ مفلس اور بے سہارا لوگوں کا ہاتھ تھاما۔ میں ذاتی طور پر کئی لوگوں کو جانتی ہوں جن کی وہ مدد کیا کرتے تھے۔ کسی یتیم ،مسکین کا علاج کروا رہے ہیں۔ کسی کی نوکری کا بندوبست کر رہے ہیں۔ کسی کی تعلیم کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ کسی کے گھر کے خرچے کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ کسی کو عمرہ کروا رہے ہیں۔ اور پتہ نہیں کیا کیا۔ دفتر کے سٹاف کا خیال رکھتے۔ کس کے بچے چھوٹے ہیں اور اسے جلد ی گھر جانا ہے۔ کس کا باپ بیمار ہے۔ کس کی تنخواہ کم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ 
 میرا ان سے نہایت احترام اور محبت کا تعلق تھا۔ اسلام آباد میں میرے کئی جاننے والے ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز اور اقتدار کے ایوانوں سے منسلک بھی۔ میرے لئے لیکن اسلام آبا د کا دوسرا نام عرفان صدیقی تھا۔ میں اسلام آبا د جاتی تو صدیقی صاحب سے ملاقات رہتی۔گھنٹوں ان سے سیاست اور حالات حاضرہ پر بات ہوتی ۔ گھر اور دفتر کے قصے کہانیاں اور نجانے کیا کیا۔ صدیقی(صفحہ 4پر بقیہ نمبر1)
 صاحب نخرے اور تکبر سے کوسوں دور تھے۔ وزیر بنے تو پروٹوکول وغیرہ سے اجتناب کرتے۔ لاہور آتے تو کسی پنج ستارہ ہوٹل ، گورنر ہاوس یا سی۔ایم انیکسی وغیرہ میں رہنے کے بجائے، ایچ۔ ای۔ سی کے گیسٹ ہاوس میں قیام کرتے ۔ میرے گھر آتے اور میں کھانے پینے کا اہتمام کرتی تو خفگی کا اظہار کرتے۔ پوچھنے پر کہتے کہ بھنڈی بنوا لو ۔قیمہ یا پکوڑے اور تندور کی روٹی۔ میرے میاں ناراض ہوتے کہ اتنے بڑے آدمی کو مزدووں والا کھانا کھلا رہی ہو۔ چند ماہ پہلے میرے گھر آنے سے پہلے فرمائش کی کہ پکوڑے اور تندور ی روٹی کھاوں گا۔ میں کھانا لگانے لگی تو کہنے لگے کہ فلاں خاتون وزیر مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔ میں نے اسے یہیں بلا لیا ہے۔ وہ آ جائے تب کھانا لگوانا۔ میں حیرت سے ان کی شکل دیکھنے لگی۔ ایک وزیر گھر آئے تو بھلا آپ اس کے آگے پکوڑے اور تندور کی روٹی رکھتے ہیں؟۔ صدیقی صاحب بس ایسے ہی درویش مزاج تھے۔ (جاری ہے)

ٹیگز: