دنیا کی بدترین جنگ میں مذاکرات کا ایک دور مکمل ہو چکا ہے اور دوسرے دور کے لئے تیاری کی جا رہی ہے۔ ایران اور امریکہ مذاکرات کی میز پر تو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں مگر انکو بٹھانے کیلئے ایک اور ملک بھی تیار ہے۔ امن مذاکرات کے دور میں ایک بیانیہ سامنے آیا کہ اگر سپر پاور امریکہ اور اسکا دیرینہ مخالف ایران پاکستان میں مذاکرات کے لئے آ سکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کو بھی سیاسی، سفارتی اور سٹرٹیجک ڈائیلاگ کی ضرورت یے۔ امریکہ ایران ثالثی میں پاکستان کے اہم کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ مگر یہ پورا خطہ ہی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں پاکستان کے ساتھ ہمسایہ بھارت بھی ہے، چین بھی ہے، ایران بھی ہے اور روس بھی ہے۔
پاکستان کی ثالثی کا دور شروع ہوتے ہی بھارت میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بھارتی حکومت کی طرف سخت گیر ہوتا گیا ہے۔ ملک میں اندرونی اور بیرونی دباو¿ پڑتے ہی بھارتی جنتا پارٹی نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے پارلیمانی وفود تشکیل دئیے اور انہیں بیرون ملک بھارت کی لابنگ کے لئے بھیجا۔ تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہئے بلکہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے۔ بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر جے ایس شنکر نے پاکستان کے عالمی تنازعے میں ثالثی کے کردار کو ان کیمرہ پارلیمانی اجلاس میں دلالی سے تشبیہ دی تھی۔ مگر آج بھارت سفارتی تنہائی سے نکلنے کے لئے دلال بھی بننے کو تیار ہے۔ بھارت میں آج پاکستان سے بات چیت/ ڈائیلاگ کی باز گشت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
راشتر سوائم سویک سنگھ آر ایس ایس بھارت میں مذہبی انتہاپسندی کی غیر قانونی تنظیم ہے۔ اور اسی آر ایس ایس کی ذیلی سیاسی جماعت بی جے پی برسراقتدار ہے۔ آر ایس ایس لیڈر دتاتریہ ہوسابلے نے ایک میڈیا پوڈ کاسٹ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر بات کی ہے۔ جس نے بھارت کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ہوسابلے نے کہا ماضی کی بھارتی حکومتیں پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم رکھتی تھیں اور اب بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرے۔ اس کے بعد بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل منوج مکھڑ نروانے نے بھی اس بات کی تائید کہ عوام اور جنتا کے لئے بات چیت کے دروازے کھلنے چاہئے۔ اسے بھارت کی پالیسی تبدیل کہیں یا یوٹرن آج بھارت پاکستان سے بات چیت اور سفارتی آداب دونوں سیکھنا چاہتا ہے۔
اسی دوران بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔ اجیت دوول کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ڈاکٹر موسیٰ بن محمد العیبان نے بھارت کی قومی سلامتی پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان مخالف نفرت انگیز مہم کو بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعد کرغستان میں وزراءدفاع کانفرنس میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی ملک ہے۔ جس پر بھارت کے اندر شدید احتجاج کیا گیا۔ لیکن یہ بات سن کر ایسا معلوم ہوا جیسے بھارت اب پاکستان کی لائن بول رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ سے کہا ہے دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی ملک ہوتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھارت نے نئی دہلی میں برکس وزراءخارجہ کانفرنس کروائی۔ مگر اسکا کوئی خاص نتیجہ نہ نکل سکا۔ کیونکہ اس میں چین کے وزیر خارجہ وینگ یی شریک نہیں ہوئے۔ اس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خطے میں بھارت کی موجودگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کی جنگ میں ثالثی کروا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات طویل مدتی ہوتے ہیں تو بھارت بھی اس میں ثالث بن سکتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے یورپ جاتے وقت متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ابوظہبی میں ملاقات کرنے کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا کہ بھارت کو خطے میں طاقتور ممالک کی صف میں شامل کیا جائے۔ اس ملاقات کے بعد بھارت اور یو اے ای نے تیل اور گیس کے منصوبے کا اعلان بھی کیا یے۔ آپریشن سندور کے ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان اور بھارت کے بیک ڈور سفارت کاری کے چار ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔جن میں دونوں ممالک کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے حصہ لیا ہے۔
بھارت کو اسی موقع کی تلاش تھی۔ بس کوئی دعوت دے دے۔ کوئی ثالثی نہ بھی کروائے تو مہمان ملک کی حیثیت سے شریک ہونے کا خواہش مند بھارت آج سفارتی مفادات کے حصول کے لئے ہر ملک جا کر اپنی کمزور عالمی پوزیشن کا رونا رو رہا ہے۔ وقت کی ستم ظریفی نے بھارت کو بنیادی سفارتی تعلقات سیکھنے پر مجبور کر دیا یے۔ مگر کیا سیکھنے والے کے لئے ماحول ہمیشہ سازگار رہے گا؟۔