Wed, September 16, 2026

پام آئل کی بڑھتی طلب: پاکستان اور پیدا کرنے والے ممالک میںتعاون ضروری

پام آئل کی بڑھتی طلب: پاکستان اور پیدا کرنے والے ممالک میںتعاون ضروری

1۔ درآمدی ملکوں میں تجارتی ضابطے کس طرح سے پام آئل کے پروڈیوسرز اور عالمی منڈیوں کو متاثر کرتے ہیں؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: درآمدی ملکوں کے تجارتی ضابطے نمایاں طریقے سے پام آئل کی عالمی مارکیٹوں کی تشکیل کرتے ہیں۔پالیسی فیصلے،خاص طور سے پائیداری اور ماحول سے متعلق قواعد ا س بارے میں براہ راست اثر ڈالتے ہیں کہ پام آئل کہاں اور کس پیمانے پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر،یورپ میں ریگولیٹری پابندیوں نے وہاں مانگ کم کر دی ہے،جس سے عالمی تجارت کا بہائو ایشیا کی جانب منتقل ہو گیا ہے جہاں اب پام آئل کی عالمی درآمدات کا زیادہ تر حصہ بھارت،چین اور پاکستان جیسے ملکوں میں جاتا ہے۔ یہ ضابطے قیمتوں کے استحکا م اور فوڈ سکیورٹی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔جب تجارتی قواعد ناقابل پیش گوئی یا پابند ہوں تو پھر وہ خاص طور پر پاکستان جیسے درآمد پر انحصار کرنے والے ملکوں میں مارکیٹ کی غیر یقینی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں،جہاں پام آئل خورنی تیل کی کھپت کا70-75 فیصد ہے اور گھریلو استطاعت اور فوڈ انڈسٹریز کے لیے ناگزیر ہے۔ تجارتی ضابطے،بالآخر یا تو مارکیٹوں کو توڑ سکتے ہیں یا پھر لچک کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ پیش گوئی کے قابل،سائنسی بنیاد پر اور ہمہ گیر پالیسیاں، جنہیں پروڈیوسر۔ کنزیومر بات چیت اورمدد کی حمایت حاصل ہو، گلوبل سپلائی چین کو مستحکم کرتی ہیں، فوڈ سکیورٹی کی حفاظت کرتی ہیں اور پائیداری کی کوششوں کو یقینی بناتی ہیں۔
2۔پاکستان،صارفین کے لیے لاگت میں اضافہ کیے بغیر اپنی درآمدی پالیسیوں اور صنعتی طور طریقوں کو پائیداری کے معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتا ہے؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: پاکستان بین الاقوامی طور پر قبول شدہ اور پام آئل پیدا کرنے والے ملکوں میں پہلے سے نافذ ISPO,MSPO جیسے پائیداری کے قومی معیارات اور بڑے پیمانے پر اختیار کردہ و الینٹری سرٹیفکیشن کو تسلیم کر کے اپنی درآمدی پالیسی کو ہم آہنگ کر سکتا ہے۔ ایسا کر کے تعمیل کی دوہری لاگت سے بچا جا سکتا ہے، ورنہ یہ صارفین پر منتقل ہو گی۔ پاکستان ، ایسی یک طرفہ پابندیاں عائد کرنے کی بجائے جو سپلائی میں خلل کا باعث بنیں اور قیمتوںمیں اضافہ کر یں، اطلاعات کے تبادلے اور پالیسی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے پیداواری ممالک اور سی پی او پی سی جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ پام آئل پاکستان کے خورنی تیل کی کھپت کا70-75 فیصد حصہ اورگھی،پکانے کے تیل اور پروسیسڈ فوڈز کا اہم جزو ہے،جو مجموعی قومی پیداوار(GDP) میں40% اور برآمدات میں25% حصہ ڈالنے والےSMEs کو تقویت دیتا ہے۔ مستحکم درآمدی قواعد اور پیش گوئی کے قابل پائیداری کے تقاضے،قیمت کے ایسے اچانک جھٹکوں کے بغیر جس کا بوجھ گھرانوں کو منتقل ہوتا ہے، انڈسٹری کو رفتہ رفتہ بہتر طور طریقوں میں سرما یہ کاری میں مدد دیتے ہیں۔
3۔ پام آئل کے عالمی بیانیہ کو بہتر بنانے کے لیے سی پی او پی سی کی طرف سے کیا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: سی پی او پی سی ،بات چیت کو مخالفانہ پوزیشوں سے پیداواری اور استعمال کرنے والے ملکوں کی یکساں تشویش کے معاملات کی طرف موڑ کر پام آئل کے بارے میں عالمی بیانیے کو مستحکم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ ہمارا کام پام آئل کو کموڈیٹی کا کوئی چھوٹا سا مسئلہ نہیں بلکہ فوڈ سکیورٹی ،قیمت کے استحکام،توانائی کی ضروریات اور دیہی ذرائع معاش سے منسلک ایک ایسے وسیع تر نظام کے طور پر اجاگر کرنا ہے،جو ویلیو چین کے دونوں طرف برابر اہمیت کا حامل ہے۔ ہم مکالمے کو ثبوت اور حقیقی تجربے کے دائرے میں لاتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں پام آئل ملک کی خورنی تیل کی کھپت کی نصف سے زیادہ ضروریات پوری کرتا ہے اور یہ چھوٹے اور درمیانے حجم کے فوڈ انٹرپرائزز کی مدد کرتے ہوئے پکانے کے تیل کو قابل استطاعت رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ چنانچہ پالیسی کی پیش گوئی کے فقدان یا سپلائی میں خلل کا صارفین اور گھروں کی فوڈ سکیورٹی پر فوری اثر پڑتا ہے۔ اس ضمن میں سی پی او پی سی خود کو کمرشل پلیئر کی بجائے کنوینر کی حیثیت پر لاتی ہے۔ ہمارا مقصد غلط معلومات کا قابل اعتماد ڈیٹا سے مقابلہ کرنا اور باہمی مفاہمت کے لیے پروڈیوسر۔ کنزیومر بات چیت میں مدد دیتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پائیداری کے مقاصد،تجارتی بہائو اور فوڈ سکیورٹی ایک متوازن اور باہمی طور پر مستحکم طریقے سے ترقی کر سکیں۔
4۔ مستقبل میں پام آئل کی طلب پوری کرنے کے لیے پاکستان اور سی پی او پی سی کے درمیان مزید کس پالیسی سپورٹ اور تعاون کی ضرورت ہے؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: پہلی بات تو یہ ہے کہ پالیسی کی پیش گوئی اور طویل المدت رابطہ ناگزیر ہے۔ پاکستان کی پام آئل کی طلب پہلے ہی 4.5 ملین ٹن کے قریب ہے اور 2030 سے کافی پہلے یہ پانچ ملین ٹن سے بڑھ جانے کی امید ہے۔یہ صورت حال پاکستان اور پام آئل پیدا کرنے والے ملکوں کے لیے اس بات کو اہم بناتی ہے کہ وہ آگے کی منصوبہ بندی،ریگولیٹری شفافیت اور پالیسی تبدیلیوں کے بارے میں جلد آگاہ کرنے کے لیے زیادہ قریب ہو کر کام کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ قیمت بڑھائے بغیر پائیداری کے قابل اعتبار فریم ورکس کوتسلیم کرنا تعاون کے لیے بہت اہم ہے۔یہ مسودہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ پائیداری کی ہم آہنگی کو ا ستطاعت مضوط بنانی چاہئے،اسے نقصان نہیں پہنچانا چاہئے۔پاکستان آئی ایس پی او ر ایم ایس پی او جیسی قابل اعتماد نیشنل سرٹیفکیشن سکیموں کو تسلیم کر کے مستقبل کی مانگ کی مدد کر سکتا ہے۔ یہ مدد، صارفین،ایس ایم ایز اور فوڈ مینو فیکچررز کو زیادہ لاگت سے محفوظ رکھتے ہوئے پائیداری کی ترقی کو یقینی بناتی ہے۔ تیسرے یہ کہ تجارت سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون کو بڑھانا ایک تزویراتی موقع سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان ،انڈونیشیا اور ملائشیا کے درمیان دیرینہ شراکت داری ریفائننگ کی استعداد،لاجسٹکس،سٹوریج اور علاقائی ڈسٹری بیوشن جیسے شعبوں میں مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔ آخری بات یہ کہ پروڈیوسر۔ کنزیومر بات چیت اور عوامی سطح پر ابلاغ ناگزیر ہوتا ہے۔ چونکہ پام آئل پاکستان کی خورنی تیل کی کھپت کا70-75% کے قریب ہے،اس لیے پالیسی فیصلوں کا براہ راست سماجی اور معاشی اثر پڑتا ہے۔مسلسل بات چیت ،حکومت کی کوششوں، صنعت کے تعاون اور سائنسی بنیاد پر عوامی ابلاغ کو یکجا کرنے سے غلط معلومات کا مقابلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔
5۔ سی پی او پی سی ،جنگلات کی کٹائی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پائے جانے والے خدشات کو کیسے دور کرتی ہے؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: سی پی او پی سی جنگلات کی کٹائی،حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں خدشات کو محض بیان بازی کی بجائے پالیسی کے عزم،قابل پیمائش ترقی اور تعاون پر مبنی عمل درآمد کے امتزاج کے ذریعے دور کرتی ہے۔ اول،سی پی او پی سی جنگلات کی کٹائی میں تصدیق شدہ کمی اور مضبوط فاریسٹ گورننس کو اجاگر کرتی ہے۔غیر جانب دار نگرانی ظاہر کرتی ہے کہ انڈونیشیا کا بنیادی جنگلاتی نقصان 2024 میں تقریباً11% کم ہو گیا،جب کہ ملائشیا نے 13% کمی ریکارڈ کی۔یہ رجحان مختصر مدت کے پالیسی رد عمل کی بجائے جنگلات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے پر برسوں سے عائد پابندی،مضبوط نفاذ اور اراضی کے استعمال کی منصوبہ بندی اصلاحات کی عکاسی کرتا ہے۔ دوئم، سی پی او پی سی قومی آب و ہوا اور حیاتیاتی تنوع کو قانونی طاقت کے ساتھ اجاگر کرتی ہے۔ ملائیشیا نے اپنے MSPO 2.0 معیار کو مستحکم کیا ہے جس کے تحت قدرتی جنگلات اور ہائی کنزرویشن ویلیو (HCV) علاقوں میںنئے پودے لگانے پر پابندی ہے۔31 دسمبر، 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پام آئل کے پودوں والا86.87% علاقہ ایم ایس پی او سرٹیفائیڈ ہے۔ سوئم، سی پی او پی سی چھوٹے مالکان کو پائیداری کے بنیادی ستون کی حیثیت سے شامل کرنے پر زور دیتی ہے۔ چھوٹے مالکان پام آئل کی عالمی پیداوار کا خاطر خواہ حصہ ہیں۔ مگر اس کے باوجود انہیں گلوبل ای ایس جی اور سسٹین ایبلٹی فنانسنگ کا بہت چھوٹا حصہ ملتا ہے۔سخت ضابطوں پر عمل درآمد کے ذریعے انھیں باہر کرنا کلائمٹ گولز اور دیہی ذرائع معاش، دونوں کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
6۔ پاکستان اور سی پی او پی سی کے رکن ملکوں کے درمیان قریب تر تعاون کس طرح مارکیٹ کے استحکام اور لمبی مدت کے سپلائی انتظامات کوبہتر بنا سکتا ہے؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: قریب تر تعاون ،اعتماد اور پیش گوئی کی اہلیت تعمیر کرتا ہے۔ طویل المدت سپلائی انتظامات، شفاف ابلاغ اور پالیسی ڈیویلپمنٹس کی مشترکہ سمجھ بوجھ قیمتیں مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہے اورقابل اعتماد سپلائی کو یقینی بناتی ہے۔ پیداواری ملکوں کے لیے پاکستان ایک تزویراتی شراکت دار ہے۔پاکستان کے لیے تعاون، استطاعت اور لچک یقینی بناتا ہے۔
7۔ دسمبر،2026 کے لیے شیڈولڈ EU ڈی فارسٹیشن ریگولیشن کیسا ہے،جو متوقع طور پر پام آئل کے عالمی تجارتی بہائو پر اثر انداز ہو گا؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: EUDR اپنی موجودہ شکل میں سخت،بڑے پیمانے پر احتیاط اور پتہ لگانے کے تقاضے متعارف کراتا ہے،جس کا اطلاق پہلے دن سے ہے،حالانکہ بہت سے فنی اور آپریشنل معاملات ابھی حل طلب ہیں۔عملی طور پر ایسے برآمد کنندگان،خاص طور سے چھوٹے مالکان جوفوری طور سے یورپی یونین کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے، وہ اپنی شپمینٹس کو کم ریگولیٹیڈ مارکیٹوں کی طرف موڑ سکتے ہیں،جبکہ یورپی یونین کے خریدار سپلائرز کے ایک ایسے چھوٹے پول پر توجہ مرکوز کرتے ہیں،جنہیں’’ کم خطرہ‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک صنعت کا تعلق ہے توجو کمپنیاں کسی وضاحت اور EU کے مجاز حکام کی متفقہ تشریح کے بغیرEUDR سے ہم آہنگ ہونے کے لیے پہلے ہی بھاری سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔وہ تعمیل کی لاگت بڑھا دیں گی۔امکان ہے کہ اس کا فائدہ جدید ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی سسٹمز رکھنے والے بڑے آپریٹرز کو ہو گا،جب کہ چھوٹے برآمد کنندگان اور چھوٹے مالکان EU کی سپلائی چینز میں جدو جہد کرتے رہ جائیں گے۔ آگے دیکھتے ہوئے سی پی او پی سی کو پختہ یقین ہے کہ اگرEUDR پر واضح رہنمائی،نیشنل سسٹمز کے ساتھ مل کر کام کرنے اور تصدیق شدہ نیشنل سرٹیفائیڈ سکیموں کو تسلیم کرنے کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو یورپی یونین کو پام آئل کی تجارت کسی خلل کے بغیر جاری رہ سکتی ہے۔
8۔ کیا پاکستان اور پام آئل پیدا کرنے والے ملکوں کے درمیان فنی تعاون،صلاحیت سازی یا معلومات کے تبادلے کے مواقع موجود ہیں؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: جی ہاں،ریفائننگ اور لاجسٹکس سے لے کر پائیداری پر عمل درآمد اور بائیو بیسڈ انرجی ڈیویلپمنٹ تک ا یسے مواقع موجود ہیں۔پام آئل پیدا کرنے والے ملکوں کے پاس دہائیوںپر محیط ایسا تجربہ ہے جو پاکستان کی صنعتی ترقی میں مدد دے سکتا ہے، جب کہ پاکستان سکیل اور مارکیٹ سے متعلق ایسی بصیرت افروز معلومات کی پیشکش کر سکتا ہے جن سے پروڈیوسرز کو فائدہ ہو۔
9۔ آئی ایس پی او اور ایم ایس پی او جیسے قومی معیارات کس طرح پائیداری اور تجارت کی مدد کرتے ہیں؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: تعاون کے لیے ایک اہم موقع قابل اعتماد پائیداری کے نظاموں کو اس طرح تسلیم کرنے میں ہے جو لاگت کے غیر ضروری دبائو کو شامل نہ کرے۔ پائیداری کی ہم آہنگی مارکیٹ استحکام اور استطاعت کو مضبوط بنائے، انہیں کمزور نہ کرے۔ پاکستان، آئی ایس پی او اور ایم ایس پی او جیسی مسلمہ نیشنل سرٹیفکیشن سکیموں کو تسلیم کر کے،مسلسل بہتری کی مدد کرتے ہوئے مستقبل کی مانگ برقرار رکھنے میںاعانت کر سکتا ہے۔ ایک دم یا زیادہ لاگت و الے تعمیل کے اقدامات کی بجائے ایک مرحلہ وار ترغیبی بنیادوالی سوچ صارفین، ایس ایم ایز یا فوڈ مینو فیکچررز پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر پائیداری کو آگے بڑھنے کا موقع دے گی۔
10۔ پاکستان پام آئل درآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔آپ سپلائی سکیورٹی،قیمتوں اور طلب کے حوالے سے پا کستان کی پام آئل کی موجودہ صورت حال کو کس طرح دیکھتی ہیں؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: پاکستان ساخت کے اعتبار سے خورنی تیلوں کی درآمد پر انحصار کرنے والا ملک ہے۔خورنی تیل کی کل کھپت 4.5 ملین ٹن کے قریب ہے،جب کہ داخلی پیداوار تقریباً0.5 ملین ٹن ہے۔سپلائی کا یہ وسیع خلاء درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔پام آئل اس درآمدی حکمت عملی کا محور ہے: یہ پاکستان کی ایڈیبل آئل کی ضروریات کا 50% سے زیادہ بنتا ہے اور خورنی تیل کی کل کھپت کا70-75% ہے۔ پام آئل پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ گھی اور کوکنگ آئل کی لاگت کا اہم محرک ہے اور گھی،اسنیکس اور پروسیسڈ فوڈز کی قیمتوں کو قابل استطاعت رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ پاکستان میںپام آئل کی مانگ مضبوط ہے اور بڑھ رہی ہے۔4.5 ملین ٹن کے قریب موجودہ کھپت اور حالیہ برسوں میں دو ہندسوں میں درآمد کی بنیاد پرامید ہے کہ پاکستان کی خورنی تیل کی طلب2030 سے کافی پہلے پانچ ملین ٹن سے اوپر چلی جائے گی۔اگر چہ پاکستان لچک کو بہتر بنانے کے لیے سویا اور کینولا کی درآمدات کی طرف آ رہا ہے مگر امید ہے کہ پام آئل اپنے معیار اور استطاعت کے باعث غالب رہے گا۔
11۔ پاکستان میںدرآمد شدہ پام آئل کے لیے سراغ لگانے( ٹریس ایبلٹی) کی موجودہ صورت حال کیا ہے؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: پاکستان میں پام آئل کی درآمدا ت بنیادی تجارتی اورماخذ کی سطح پر قابل سراغ ہیں،اس کے لیے رضاکارانہ سسٹین ایبلٹی ٹریس ایبلٹی دستیاب ہے مگر یہ لازمی نہیں ہے۔سسٹم تجویزی کی بجائے عملی ہے جو فوڈ سیکیورٹی اور کفایت کو ترجیح دیتا ہے ۔
12۔ پاکستان کو آنے والے برسوں میں اپنی خورنی تیل کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے کس چیز کو ترجیح دینی چاہئے؟
سیکریٹری جنرل سی پی او پی سی: پا کستان کو پیش گوئی کے قابل تجارتی تعلقات،سپلائی کے تنوع اور پام آئل پیدا کرنے والے ملکوں کے ساتھ جاری گفت و شنید پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔کفایت اور معیار کی وجہ سے پام آئل مرکزی اہمیت کا حامل رہے گا۔استحکام، اچانک پالیسی تبدیلیوں سے نہیں بلکہ تعاون،شفافیت اور طویل المدت منصوبہ بندی سے آتا ہے۔

ٹیگز: