Wed, September 16, 2026

جنگ تو ہو گی

جنگ تو ہو گی

پہلگام واقعے کے بعد سے دنیا بھر کے سیاسی سٹیج کے منظر نامے بہت تیزی سے بدل رہے ہیں، ایک طرف ٹیمو کے نیتن یاہو کی سفارتی شکست کے چرچے ہیں تو دوسری طرف چین کی اسلحہ مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے، ایسی صورتحال میں بھارت کی بوکھلاہٹ قدرتی ہے۔ پہلے حال ہی میں 10-9 جون کی میڈیا کوریج کو دیکھتے ہیں، پھر اقوامِ متحدہ میں ششی تھرور بمقابلہ بلاول بھٹو زرداری سفارتی رسہ کشی پہ روشنی ڈالیں گے اور آخر میں دشمن کی نیت پہ تبصرہ کریں گے۔
بھارتی میڈیا کوریج نے اپنی ڈوبتی ساکھ کو بچانے کی ایک ناکام کوشش میں شاندار بڑھکیں ماری ہیں، کوریج میں انڈین ائیر فورس کی شاندار کاوشوں کو سراہا گیا، خدا گواہ ہے ہمارے ہمسایہ دنیا کی وہ آخری اور واحد قوم ہیں جو طیارے گروا کر اس پر فخر کرتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس قدر جدید جنگی طیاروں کا استمال اس پاک بھارت جنگ میں ہی کیا گیا، نیوز ویک اور Azer نیوز کے بقول رافیل، میراج 2000، سکھوئی 30 کی پروازیں بھارت کی فضائی عسکری تیاری کی مظاہر ہیں وہ علیحدہ بات ہے کہ طیارہ چاہے جتنا مرضی جدید ہو جب اڑانے والا ہی کھچ نکلے تو انجام وہی ہوتا ہے جو ہمارے ہمسایہ کا ابھی چند روز قبل ہوا ہے۔
ہندو بزنس لائن اور بلومبرگ کے بقول چینی ہتھیاروں کی مانگ بڑھ چکی ہے اور چین جو چالیس J35 پاکستان کو دینے جا رہا ہے اس سے خطے کا بیلنس آف پاور بگڑنے کا خدشہ ہے۔ اسی تناظر میں نیوز ویک کا کہنا ہے کہ بھارت سٹار سرویلنس اینڈ سٹرائیک ائیر کرافٹ کے لیے 10,000 کروڑ لگانے جا رہا ہے۔ عرب نیوز کا ماننا ہے کہ ثبوت ہو یا نہ ہو ایک اور دہشت گردی کا واقعہ جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بھارت نے اس سلسلے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے سندھی پشتون اور بلوچ عوام ریاستِ پاکستان کے خلاف جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے، ہمارے عوام نے جس جذبے سے اپنی افواج کا حوصلہ بڑھایا وہ قابلِ ستائش ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کی اس میڈیا کوریج کا آخر مقصد کیا ہے؟ جواب عام فہم ہے، بھارت کو عسکری و سفارتی شکست کا جو بوجھ اپنے نازک کندھوں پر اٹھانا پڑا ہے وہ بس اپنی عزت بچانے کی تگ و دو میں ہے۔ اب یہ تمام اقدام پاکستان کو اور دنیا کو یہ پیغام دینے کے لیے کیے گئے کہ جنگ ابھی رکی نہیں، جنگ تو ہو گی، دوسری جانب بھارت مغرب بالخصوص امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر آپ کے بچے کو شکست دی ہے اور اگر آپ خطے میں اپنا اثر رسوخ چاہتے ہیں تو اپنے بچے کی امداد کو پہنچیں، دوسری جانب پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس خطے میں اگر کوئی بڑی طاقتیں ہیں تو وہ بس چین اور پاکستان ہی ہیں، دوسری جانب بلاول بھٹو کا موقف پُر عزم دکھائی دیا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، اور ہم امن کے حصول کے لیے لڑ مر جانے کو تیار ہیں، گودی میڈیا نے پہلگام واقعے سے لے کر آج تک جس قدر جھوٹ کا پلندہ بیچنے کی کوشش کی وہ پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔
ہمارے ادارے متحرک ہیں، ہمارے عوام متحد ہیں، ہمارے افواج تیار ہیں، ہم کسی بھی قسم کے حملے یا جنگ کی صورت میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ ابھی ایران اسرائیل سے اپنی استطاعت مطابق بہترین مقابلہ کر رہا ہے، کیا اس کے عوام سکون کی بیند سو پا رہے ہیں؟ نہیں! کیا اس کے نوجوان سوشل میڈیا پر میمز بنا رہے ہیں؟ نہیں! وجہ؟ بہت سادہ اور آسان ہے، نہ انہیں یہ اطمینان حاصل ہے کہ وہ ایک نیوکلیئر سٹیٹ ہیں، نہ ان کے فوجی دستے اس قدر ٹرینڈ ہیں کہ اسرائیل جیسے دیو قامت دشمن کا مقابلہ کر سکیں یہ پاکستان ہی تھا جو خود سے پانچ گنا بڑے ملک سے اپنی سالمیت کی خاطر نہ صرف بھڑ گیا بلکہ اسے نانی یاد دلا دی۔ اس وقت سوشل میڈیا پر پوسٹس کا جائزہ لیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آدھا بھارت تیل ابیب میں ہی رہائش پذیر ہے۔ جنگ ایران اور اسرائیل کی ہو رہی ہے اور دم پہ پاؤں بھارت کی پڑ گیا ہے۔ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے ایران کو اپنی سپورٹ کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے، اور ویسے بھی تہتر کے آئین کی شق چالیس کہتی ہے کہ برادر اسلامی ممالک سے دوستانہ رکھا جائیگا۔ اسرائیل اور بھارت خطے کے امن کے لیے ناسور  ہیں، بھارت اس سمے اسرائیل کے بل بوتے پہ اچھل اچھل کر پاکستان پر جھپٹنے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن اسے یہ جان لینا چاہیے کہ اس کا مقابل کوئی کمزور ملک نہیں، پاکستان اس کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دے گا، رہی بات ایران کی تو وہ جھکنے والی قوم ہیں نہ سر بیعت میں جھکانے والی، اور یہی درسِ کربلا ہے، ہر دور کی عفریت اور یزیدیت کے آگے ڈٹ جانے کا نام ہے کربلا، ہماری تمام تر دعائیں اور نیک تمنائیں ہیں برادر اسلامی ملک کے ساتھ، پاک پروردگار اسرائیل کو نیست و نابود کرنے میں ایران کا حامی و ناصر ہو۔ مالکِ کائنات فلسطین کے مظلوموں کی غیبی امداد کرنا۔ (آمین) اقوامِ متحدہ کو اب جاگنے کی ضرورت ہے، اسرائیل کی جارحیت روکنے کی ضرورت ہے، فلسطین کے عوام کا استحصال روکنے کی ضرورت ہے، اگر اسرائیل کو آج نہ روکا گیا تو کچھ بعید نہیں کہ آنے والا وقت دنیا کو کس قدر تباہی دکھلا دے۔

ٹیگز: