دہقاں نے وقت پر بیج نہیں ڈالا، پانی بھی باقاعدگی سے نہیں دیا، جب کوشش کا ہل چلایا تو موسم، آخری موسم تھا۔ جب اس کے بھائی بند صبح سویرے اٹھ کر اپنے کھیتوں کو جاتے، یہ سویا پڑا رہتا۔ اس نے سونے کو بیداری پر ترجیح دی۔ سونا.... سونے والوں کو کہاں ملتا ہے؟ ا یسے میں کھیت کا ویراں ہو جانا عین فطری ہے۔ یہ دہقان پر ظلم نہیں، یہ تقدیر کا جبر نہیں.... بلکہ یہ اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے جو اصل کمائی سے محروم کر رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہوچکا ہو.... اس وقت کیا کرنا چاہیے۔ کیا نوشتہِ دیوار دیکھ کر گھر واپس آ جانا چاہیے اور چپ چاپ لیٹ کر ہر دم، دمِ مرگ کا انتظار کرنا چاہیے؟ کیا اپنی کوتاہیِ عمل کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر خاموش ہو جانا چاہیے؟ کیا کوشش سے دست کش ہو جانا چاہیے؟ کیا دعا کے لئے ا±ٹھے ہوئے ہاتھ گرا دینے چاہئیں؟ کیا کسی اچھے مستقبل یا خوشگوار مابعد کا انتظار ترک کر دینا چاہیے؟۔
زمینی حقائق تو یہی ہیں کہ محنت رنگ لاتی ہے، بے عملی زنگ لاتی ہے۔ جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے۔ کوشش کرنے والا پا لیتا ہے۔ کوشش ترک کرنے والا کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا۔ گویا عمل سے زندگی بنتی ہے ، جنت بھی جہنم بھی۔ انسان کو عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، بے عمل انسان اس جہان والوں کو قبول نہیں۔ مقبولیت عوام میں ہو تو کافی ہے، سرفرازی کے لیے— قوت کا سرچشمہ عوام نہیں، مقتدر قوتیں ہیں۔ غریب، غریب رہے گا، امیر، امیر۔ رعایا کا امیر ہر حال میں امیر رہے گا، حکمران خاندان ہمیشہ حکمران رہے گا اور رعایا ، غلام۔
اگر اس عالمِ اسباب میں فقط سبب اور نتیجے سے داستانِ عالم مرتب ہوتی ہے تو تاریخ ِ عالم میں کبھی انقلاب برپا نہ ہوتے۔ انقلاب نام ہی اس پیغام کا ہے، کہ "سٹیٹس کو" ٹوٹ چکا ہے۔ اگر سبب اور نتیجے کا رشتہ اٹوٹ ہے تو د±عا کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ اگر انسان کا عمل اور صرف عمل ہی فلاح کا ضامن ہے تو شفاعت کا تصور کیا ہے؟ اگر یہ کائنات ایک گھڑی کی طرح طے شدہ مادی اصولوں پر ٹک ٹک چلتی چلی جارہی ہے تو اس میں خالقِ کائنات کا عمل دخل کیا ہے؟ کیا خالقِ کائنات، کائنات تخلیق کرنے کے بعد قادرِ مطلق ہونے کی صفت سے ( معاذاللہ) دست کش ہو گیا ہے؟ کیا د±عا مانگنے کا حکم دینے والا ، دعا سننے کا دعویٰ کرنے والا ، خالقِ ک±ل، مالک ِ ک±ل ، قادرِ ک±ل.... د±عا کی قبولیت کو قوانین ِ فطرت سے مشروط کر دیتا ہے؟۔
کیا زمینی حقائق انسان کو اس کے تخیل سے محروم کر دیتے ہیں؟کیا انسان اس کائنات کی عظیم الجثہ مشین میں ایک پرزے کی طرح فٹ کر دیا گیا ہے جو پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک فٹافٹ چلے جا رہا ہے؟ کیا یہ کائنات انسان کی قوتِ فکر و عمل پر متصرف ہے یا انسان اپنی قوتِ فکر و عمل سے اس کائنات میں تصرف کر رہا ہے؟ کیا انسان بے رحم زمینی حقائق کو تسلیم کر لینے پر مجبور ہے؟ کیا آسمانی ہدایت اسے زمینی حقائق کو جھٹلانے پر مجبور کرتی ہے؟۔
یہ سب سوالات قابلِ غور ہیں اور ان کے جوابات تلاش کرنا ایک جیتے جاگتے متلاشی شعور پر فرض ہیں۔ اگر ان سوالات کا جواب سادہ "ہاں! ایسے ہی ہے" میں ہے تو پھر انسان کو کوئی خواب دیکھنے کی اجازت نہیں، پھر اسے کسی خیال کے دَر پر دستک دینے کی ضرورت نہیں.... پھر اسے خود کو چند بائیلوجیکل اسباب کا نتیجہ سمجھ کر خود پر غور کرنا چھوڑ دینا چاہیے.... پھر اسے کسی فکرِ لطیف کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں.... پھر اسے کسی الہامی ہدایت کی طرف رجوع کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ فقط مادہ ہے، مادے کی ایک ترقی یافتہ ، ارتقا یافتہ شکل ہے .... مادے پر مادہ متصرف ہے، انسانی وجود میں روح نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ اسے جان لینا چاہیے کہ خواب ، خیال، کشف، القاءیا الہام کی اس کی زندگی میں گنجائش نہیں.... اسے کسی حقیقت کی تلاش کے سفر پر روانہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ حقائق صرف زمینی ہیں اور یہ چیزیں انسان کو آسمان سے متعلق کرتی ہیں۔
مگر انسان بھی عجب چیز ہے.... انسان ہے کہ جستجو چھوڑتا ہی نہیں.... انسان ہے کہ مادے پر اکتفا نہیں کرتا.... انسان ہے کہ اپنی تمام تر کم مائیگی کے باوجود ا±مّید ترک نہیں کرتا.... کوتاہیِ عمل کے باوجود حسین مستقبل اور حسین تر مابعد کا خیال دل سے رخصت نہیں کرتا۔ دراصل انسان کسی وہم یا زعم میں نہیں بلکہ، وہ تعلق میں ہے....انسان اپنے رحمان سے متعلق ہے .... اس لیے وہ فانی ہونے کے باوجود لافانی ہونے کے لیے ہمہ حال محوِ جستجو رہتا ہے۔ اس کے پاو¿ں میں اسباب کی زنجیر ضرور ہے لیکن وہ بلاسبب سے رابطے میں ہے۔ یہ محدود ہے.... لیکن کسی لامحدود سے ہم کنار ہونے، یا بے کنار ہونے کی تمنا دل میں لیے بیٹھا ہے۔ قلزمِ ہستی میں ایک قطرہِ بے مایہ ہے ، لیکن اِس کے دل میں سازِ اَنالبحر کا نغمہ موجزن رہتا ہے۔ اس کے وجود میں "ونفخت فیہ من روحی" کی ایک دھونکنی چل رہی ہے جو اسے کشاں کشاں اپنے رب کی طرف لیے چلے جارہی ہے۔ مادے سے روح کی طرف، محدود سے لامحدود کی طرف، ناممکن سے ممکن کی طرف ، سیّاٰت سے حسنات کی طرف اور معصیت سے مغفرت کی طرف سفر کرنے والا یہ شہسوار جس اہوار پر سوار ہے ، ا±س کا نام اُمّید ہے۔ اگر ا±مّید کی یہ سواری چھوٹ گئی تو سب کچھ چھوٹ گیا۔ اگر اس کی ڈکشنری سے فقط لفظِ ا±مّید حذف ہو جائے تو دین سے لے کر دنیا تک سب عبارتیں بے ترتیب ہو جائیں۔ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی کچھ ہو جانے کی ا±مّید انسان کی زندگی کا جواز ہے۔ یہ جواز قائم رہنا چاہیے۔ ا±مّید قائم رہنی چاہیے۔ انسان کا رحمان سے رابطہ دعا کا رابطہ ہے۔ زمینِ وجود کی زرخیزی کے لیے نمی درکار ہوتی ہے۔ مٹی ایسی بے جان چیز نم آلود ہو جائے تو حیات آفریں ہو جاتی ہے۔ آنکھوں میں ذرا نم ہو تو عمل کی کشتِ ویراں سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ ندامت کے آنسو فصلِ ا±مید کو بارآور کر دیتے ہیں۔ ا±مّید ایمان ہے، مایوسی کفر ہے.... کوتاہیِ عمل کے باوجود مایوسی کفر ہے۔ جسے ساقیِ کوثر نے ایمان کا جام پلا دیا ہو، وہ ناا±مّید نہیں ہوتا۔ رحمت کا امیدوار ہر حال میں رحمت پا لیتا ہے۔ ا±س کی رحمت ا±س کے غضب پر حاوی ہے۔ تخلیق سے پہلے رحم اور رحمت موجود تھی۔ رحمت للعالمین کی ہستی "کن" سے پہلے کی حقیقت ہے۔ ایمان اور ا±مّید کا قبلہ گنبدِ خضریٰ ہے۔
سرسبز ہے ا±مّید تو پکنے کو ثمر ہے
صد شکر مری گنبدِ خضریٰ پہ نظر ہے