پاکستان کے حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں وہاں سماجی انصاف اور قانون کے سامنے برابری ہی سب سے بڑا سوال ہے ۔ موجودہ صورتحال میں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال بار بار اٹھ رہا ہے کہ آخر کیوں کچھ حلقے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے لیے خصوصی رعایت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ان پر الزام ہے کہ وہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں، انہوں نے حساس تنصیبات پر حملے کیے یا ان کی پلاننگ اور پشت پناہی بھی کی۔
یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ چونکہ ان سرگرمیوں میں کچھ خواتین بھی شامل ہیں، اس لیے انہیں سزا نہ دی جائے۔ بہت خوب، ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر اسی بات کو اصول مان لیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف الزامات کے تحت ملک کی جیلوں میں بند ہزاروں عام خواتین کو بھی یہ رعائتی پیکج کیونکر نہیں ملنا چاہیے ؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو کسی جذباتی نعرے سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، چاہے وہ عام شہری ہو یا سیاستدان، چاہے وہ عورت ہو یا مرد۔ جرم جرم ہے اور اس کی سزا ایسا کرنے والے کو ملنی ہی چاہیے۔ انصاف کا اصول تو یہ ہے کہ عدالت جرم دیکھتی ہے، مجرم کی شناخت نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقتور کے لیے اکثر الگ پیمانہ استعمال ہوتا ہے اور کمزور کے لیے الگ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا یہ صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے؟
9 مئی کے واقعات کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ریاستی اداروں پر براہِ راست حملہ ہوا۔ فوجی عمارتوں کو آگ لگائی گئی، شہداءکی یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا، یہاں تک کہ ملک کی سلامتی کی علامت سمجھے جانے والے ادارے بھی محفوظ نہ رہے۔ یہ کوئی عام احتجاج نہیں تھا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس قسم کے واقعات ناقابل برداشت تصور کیے جاتے ہیں اور وہاں اگر کوئی شہری یا سیاستدان ایسے کام میں شریک ہو تو اسے سخت ترین سزا دی جاتی ہے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت کرنے کی جرات نہ کرسکے۔
لیکن ہمارے ہاں کیا ہوا؟ کچھ حلقے اس قسم کے کرداروں کے لیے رعایت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ چونکہ یہ سیاسی قیادت ہے اس لیے اسے چھوڑ دیا جائے اور کوئی کہتا ہے کہ خواتین پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ ہرکسی کا نظریہ یا فلسفہ اپنی جگہ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس قسم کا رویہ انصاف اور قانون کی جڑ کاٹنے کے مترادف ثابت ہو سکتا ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ جیلوں میں بیٹھی عام عورتوں کا کیا حال ہوگا جب وہ اس قسم کی خبریں سنتی ہوں گی۔ ایک عورت جس پر قتل کا الزام ہے اور جو پچھلے دس سال سے جیل میں ہے، وہ اپنے دل میں تو ضرور سوچتی ہوگی کہ اگر صرف عورت ہونے کی وجہ سے رعایت ملتی ہے تو مجھے کیوں نہیں ملی؟ ایک عورت جس پر چوری یا منشیات کا الزام ہے، وہ کہے گی کہ میرا جرم تو شاید اس سے کم تھا جو ان سیاستدان عورتوں نے کیا، لیکن چونکہ میرا تعلق کسی بڑی سیاسی جماعت سے نہیں ہے، اس لیے مجھے آج بھی جیل کاٹنی پڑ رہی ہے۔ یہ سوال ان کے ذہنوں میں اٹھنا بالکل فطری ہے۔
اگر سیاستدان خواتین کو رعایت د ینے کے لیے قانون میںگنجائش نکالی جاتی ہے تو پھر اسی قانون کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ کسی عام خاتون کو سزا دے۔ قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے، ورنہ انصاف کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہے گا۔
ہمارے ہاں ہمیشہ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ عورت کمزور ہے، اس کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے۔ یہ دلیل اپنی جگہ درست ہے، لیکن یہ صرف اس وقت تک قابل عمل ہے جب تک عورت قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی زندگی گزارے۔ اگر عورت خود قانون توڑنے پر اتر آئے، ریاست کے خلاف بغاوت کرے، لوگوں کو جلاو¿ گھیراو¿ پر اکسانے میں شریک ہو تو پھر وہ محض عورت نہیں رہتی بلکہ ایک مجرم بن جاتی ہے۔ اور مجرم کو قانون کی گرفت سے آزاد نہیں کیا جا سکتا۔
اب تو خیر عورتیں ڈکیتیوں اور دیگر سنگین قسم کی وارداتوں میں بھی ملوث ہو گئی ہیں لیکن اگر کوئی غریب عورت روٹی بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جائے تو اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے گھر والے کتنا بھی روتے رہیں، لیکن عدالت یہی کہتی ہے کہ جرم ہوا ہے اور سزا ملے گی۔ اگر ایک عورت اپنے شوہر کے قتل میں ملوث ہو تو اسے عمر قید یا پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے، اور کوئی بھی یہ دلیل نہیں دیتا کہ چونکہ وہ عورت ہے اس لیے اسے چھوڑ دیا جائے۔ پھر سیاستدان عورتوں کے لیے یہ رعایت کیوں؟
کیا سیاستدان ہونا عورت کی عزت کو بڑھا دیتا ہے یا جرم کو کم کر دیتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سیاستدانوں سے تو زیادہ ذمہ دارانہ رویے کی توقع کی جا نی چاہیے۔ اگریہی لوگ ریاست کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو یقینا ان کا جرم عام آدمی کے جرم سے بھی بڑھ کر ہو گا۔
انصاف کا اصول ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جرم کرنے والا چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، سزا اس کے لیے بھی ہے۔ اگر طاقتور کو رعایت ملنے لگے تو پھر انصاف صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے۔ معاشرہ بگڑ جاتا ہے، لوگ قانون کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور ہر شخص یہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر آپ طاقتور ہو تو کچھ بھی کر لو کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
ہمارے دشمن پہلے ہی ہماری کمزوریوں پر نظر رکھے بیٹھے ہیں۔ اگر ہم اپنی ہی صفوں میں موجود اس قسم کے کرداروں کو سزا دینے کے بجائے رعایتیں دینے لگیں تو پھر دشمن کو جیتنے کے لیے کوئی بڑی کوشش کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
کسی جیل میں جا کر دیکھیں تو آپ کو کئی ایسی عورتیں بھی ملیں گی جن کے ساتھ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی جیل میں رہتے ہیں۔ شائد وہ عورتیں غربت کی وجہ سے کوئی جرم کر بیٹھی ہوں گی یاکسی جھگڑے وغیرہ میں ملوث ہو گئی ہوں، لیکن وہ بھی عورتیں ہیں، مائیں ہیں۔ اگر عورت ہونا ہی سزا سے بچنے کا معیار ہے تو پھر سب سے پہلے انہیں رہا کرنا چاہیے۔ لیکن کیا کبھی کسی سیاسی جماعت نے یہ مطالبہ کیا؟ نہیں۔ کیونکہ یہاں عورت ہونے کی بنیاد پر رعایت نہیں مانگی جا رہی، یہاں سیاستدان ہونے کی بنیاد پر رعایت مانگی جا رہی ہے۔ اور یہ دوہرا معیار، انصاف کے ساتھ زیادتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم سب مل کر یہ طے کریں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ سیاستدان ہو یا عام شہری، عورت ہو یا مرد، امیر ہو یا غریب، اگر کوئی جرم کرے گا تو سزا پائے گا۔ یہی انصاف ہے، یہی اصل برابری ہے اور یہی پاکستان کو مضبوط بنانے کا راستہ ہے۔