خلیج میں جنگ کی وجہ سے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کے بعد مہنگائی کا ایک طوفان امڈ آیا لیکن کہتے ہیں کہ ہر شر میں خیر کا کوئی پہلو ہوتا ہے اور یقین جانئے کہ ہم نے منگیائی ایسے مسئلہ پر سوچنا شروع کیا تو نروان کی منازل طے کرتے ہوئے انکشافات ہونے لگے کہ اس ایک شر میں تو خیر کے بہت سے پہلو ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ منگیائی کے تو اس قدر ثمرات ہیں کہ ان کا علم ہونے کے بعد انسان خوشی سے نہال ہو جاتا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ کمی کمین عوام کو تو بس کوئی بات چاہئے کہ جس پر وہ ہمارے معصوم حکمرانوں کو برا بھلا کہہ سکیں اب یہی دیکھ لیں کہ معاشرے میں فسق و فجور کی بھرمار ہو چکی تھی اور مذہبی طبقہ بیچارہ عوام کو سمجھا سمجھا کے تنگ آ گیا تھا لیکن مجال ہے کہ اس کا کوئی اثر ہوا ہو لیکن اب دودھوں نہائے پوتوں پھلے آپ دیکھیں کہ منگیائی کے ایک ہی ہلے نے کیسے سب کی توبہ توبہ کروا دی اور سب کو خدا یاد کروا دیا ۔وہ کمبخت جو بھولے سے بھی کبھی مسجد میں نہیں جاتے تھے اب مسجد تو کیا مزاروں اور پیروں فقیروں کے پاس منتیں ماننے جاتے ہیں کہ بابا جی میری تنخوا میں اضافہ کروا دو مزار پر سفید چنوں کی 12کلو چاولوں کی دیگ چڑھاﺅں گا ۔
یہ بھی منگیائی کے ثمرات میں سے ایک ہے کہ اب گھر میں چار چار پنکھے چلنے سے بجلی کا بل ہی اتنا آ جاتا ہے کہ سب ایک ہی کمرے میں بیٹھنے پر مجبور ہیں اوراسی ایک پنکھے کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں ۔ ہمارے ایک عزیز ہیں جنھیں بڑا شکوہ رہتا تھا کہ ان کے بیٹے اپنی بیویوں کے کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور ان کے پاس کم کم ہی بیٹھتے ہیں لیکن گذشتہ دنوں جب ان سے ملاقات ہوئی تو بڑے خوش تھے اور منگیائی کو دعائیں دے رہے تھے ہم نے جب خوشی کا سبب پوچھا تو کہنے لگے کہ اب بیٹھتے تو ہیں ہی لیکن پندرہ بیس دن بعد جب ائر کنڈیشنر چلیں گے تو سوئیں گے بھی سب ایک کمرے میں اور ایک ساتھ ایک کمرے میں سونے اور بیٹھنے سے پاکستانی معاشرہ جو بے راہ روی کا شکار ہو چکا تھا اب بہتری کی جانب لوٹ رہا ہے کہ ایک ساتھ بیٹھ کر فقط لکھ کر چیٹ ہی ہو سکتی ہے اور وہ بھی آخر ایک حد تک تو منگیائی نے اولاد کو ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے لا بٹھایا ہے ۔پاکستانی معیشت کی ترقی میں یہ منگیائی کس طرح مثبت کردار اد کر رہی ہے کہ نوجوان اور بوڑھے مرد اور خواتین سب ملازمتوں کی تلاش میں ہر روز صبح گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو لوٹتے ہیں لیکن ملازمت نہیں ملتی اور دوسرے دن پھر نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ شدید گرمی میں لوگ شربت بھی پئیں گے اور بھوک لگنے پر اور کچھ نہیں تو آلو چھولے کی پلیٹ یا بھنے چنے تو کھائیں گے تو اندازہ لگائیں کہ اس سے ٹرانسپورٹ ، ، فوڈ اور بیوریج انڈسٹری کو کتنی ترقی ملے گی ۔رشتے داروں میں بڑی ناراضگیاں رہتی تھیں ۔ امیر رشتے دار اگر کسی غریب رشتے دار کی امداد کرتا تھا تو غریبوں کے تو نخرے ہی بڑے ہو گئے تھے لیکن اب اس منگیائی نے رشتے داروں کے دلوں میں عجیب سی محبت پیدا کر دی ہے ۔ اب غریب رشتے دار امداد کے چکروں میں امیر رشتہ داروں کے آگے بچھا جاتا ہے اور پرانی رشتے داریاں بحال ہو رہی ہیں ۔غریب اب ایسے ہی امیر جاننے والوں کے گھر چلے جاتے ہیں کہ بھائی جی آپ کی بھابی کہہ رہی تھی کہ بڑے دن ہو گئے ہیں ملاقات نہیں ہوئی امیر بھی منگیائی کی لپیٹ میں آنے کے خوف سے صدقہ خیرات کی مد میں کچھ دے ہی دیتا ہے کہ کہیں کچھ نقصان نہ ہو جائے ۔
ساس بیچاری من ہی من میں کتنا کڑھتی تھی کہ بیٹا ہر دوسرے دن بہو کو تو نئے کپڑے لا کر دے دیتا تھا لیکن ماں اگر کہتی تو کم آمدن کا بہانہ بنا کر انکار کر دیتا ۔ اب منگیائی نے جب بہو کے کپڑوں پر بھی فل اسٹاپ لگا دیا ہے تو ساس کے من میں تو لڈو پھوٹتے ہیں اور تو اور اس منگیائی نے ہمارے ٹوٹتے خاندانی نظام کو ایک بار پھر سے یکجا کر دیا ہے ۔ شادی کے بعد بیٹے کی پرموشن ہوئی تھوڑی سی تنخوا کیا بڑھتی تھی اگلے دن علیحدہ ہو جاتے تھے لیکن کیا بات ہے اس منگیائی کی بچھڑوں کو ملا رہی ہے ۔ایک دوست کے بیٹے شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی الگ ہو گئے تھے اور دوست کا اپنی اور بیچارے چھوٹے بیٹے کی تنخواہ میں گذارہ ہوتا تھا لیکن پھر بیٹوں کے مالک مکان نے کرایہ میں اضافہ کی ڈیمانڈ کی تو ہوش ٹھکانے آ گئے اور یہ کہہ کر واپس آئے کہ ابا جی ماں باپ کے سائے میں اکٹھے رہنے میں ہی اولاد کی دنیا اور آخرت میں بھلائی ہے ۔صحت کے نقطہ نظر سے بھی منگیائی بڑا اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ حکومتیں سگریٹ کے پیکٹ پر وارننگ لکھ لکھ کر تھک گئی کوئی اثر نہیں ہوا لیکن مہنگائی نے بہت سوں کے سگریٹ تو چھڑوا ہی دیئے ہیں اور جو باقی بچے ہیں انھوں نے آدھے کر لئے ہیں اس کے علاوہ فاسٹ فوڈ سے جو بیماریاں پیدا ہوتی تھیں تو اب گھر میں پکا ہوا دو وقت کا کھانا مل جائے تو یہی غنیمت ہے ۔دامن کالم میں گنجائش نہیں رہی ورنہ اس موضوع پر تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے بس یہ سمجھ لیں کہ منگیائی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی آپ بڑے مقدر والے ہیں کہ آپ کو نصیب ہوئی ہے لہٰذا اس کے ثمرات سے فیض اٹھائیں اس لئے کہ کچھ کر لیں یہ اتنی جلدی جانے والی نہیں ہے ۔