Wed, September 16, 2026

مودی سرکار نے امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے: بھارتی "خود مختاری" کا غرور خاک میں مل گیا

مودی سرکار نے امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے: بھارتی

نئی دہلی: بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی نام نہاد آزاد خارجہ پالیسی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھٹ گیا ہے۔ امریکی دھمکیوں کے سامنے ڈھیر ہوتے ہوئے مودی حکومت نے بھارتی عوام کو سستی توانائی سے محروم کر کے معاشی بحران کی کھائی میں دھکیل دیا ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے "این ڈی ٹی وی" کے مطابق، امریکہ نے روس سے تیل خریدنے کے لیے بھارت کو دی گئی خصوصی رعایتیں ختم کرنے کا دو ٹوک اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی ریفائنریوں کے 3 کروڑ بیرل روسی تیل کے آرڈرز اب کاغذ کے ردی بننے کا خدشہ ہے، جس نے بھارتی صنعتی حلقوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔
مودی حکومت، جو پہلے روسی تیل کی خریداری کو اپنی "بہادرانہ پالیسی" قرار دے رہی تھی، اب واشنگٹن کے دباؤ پر خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ 3 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل رکنے سے بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔عالمی سطح پر یہ تاثر پختہ ہو گیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی محض ایک دکھاوا ہے اور اہم فیصلوں کی ڈوریاں آج بھی واشنگٹن سے ہلائی جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی سرکار نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے عوام کو مہنگائی کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ سستے روسی تیل کی خریداری سے دستبرداری مودی کی سفارتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کی بھاری قیمت اب عام بھارتی شہری کو چکانی پڑے گی۔

ٹیگز: