انطالیہ: وزیراعظم شہباز شریف اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میں ترکیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر 5 ویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم (ADF 2026) میں شرکت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس فورم کے موقع پر عالمی فورم پر پاکستان کا موقف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر بھی اہم بیانات دیے ہیں۔انطالیہ پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ترک وزیر خارجہ سے ملاقات: وزیراعظم نے ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات کی اور ترکیہ کو اپنا "دوسرا گھر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم فورم میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ وزیراعظم آج ترک صدر رجب طیب اردوان سے ون آن ون ملاقات کریں گے، جس میں دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی پر بات ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے انطالیہ میں میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی 10 روزہ جنگ بندی کا خیر مقدم کیا۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو "دلیرانہ اور دانشمندانہ" قرار دیتے ہوئے سراہا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عارضی جنگ بندی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کرے گی۔ شہباز شریف پاکستان کے علاقائی امن مشن، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں پر دنیا کو اعتماد میں لیں گے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک نئے علاقائی سیکیورٹی پلیٹ فارم کی تشکیل پر بھی سائیڈ لائن ملاقاتوں میں غور کیا جا رہا ہے۔