اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 10 فروری 2025 کے بعد سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیراعظم کی پولیو کے لیے نمائندہ خصوصی عائشہ رضا فاروق، صوبائی وزرائے صحت، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، بین الاقوامی شراکت داروں اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے تمام اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین لازمی طور پر دی جائے، اور اس حوالے سے عوامی سطح پر مؤثر آگاہی مہم شروع کی جائے۔
انہوں نے پولیو مہم سے جُڑے ورکرز کو قوم کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ مشکل ترین حالات میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، اور پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 2024 کے دوران ملک بھر میں پولیو کے کل 74 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں بلوچستان سے 27، سندھ سے 23، خیبر پختونخوا سے 22، اور پنجاب و اسلام آباد سے ایک ایک کیس سامنے آیا۔
وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ نئی قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز 21 اپریل سے ہو رہا ہے، جس کے دوران ملک بھر میں 4 لاکھ 15 ہزار پولیو ورکرز تقریباً 45 لاکھ بچوں کو ویکسین پلائیں گے۔ مہم کی مؤثریت کی جانچ کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن 28 سے 30 اپریل کے دوران مکمل کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پولیو ویکسین کی کولڈ چین مانیٹرنگ کو جدید ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ٹریک کیا جا رہا ہے تاکہ مہم کے تمام پہلوؤں پر موثر نگرانی برقرار رکھی جا سکے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس تاحال مقامی سطح پر موجود ہے۔ سیکیورٹی مسائل، ویکسین سے متعلق خدشات، اور آگاہی کی کمی اس مرض کے خاتمے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔