کہا جاتا ہے کہ زندگی گزارنے کے بھی کچھ اُصول ہوتے ہیں اگر اس پر عمل کیا جائے تو توازن قائم اور اگر توازن بگڑجائے گا تو زندگی کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے،اصولوں کے بغیر زندگی بے معنی اور بے ترتیب ہوجاتی ہے آج ملک میں قانون کی موجودگی کے باوجود بچوں اور بچیوں کے ساتھ دلخراش واقعات کی روک تھام میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر آرہے ہیں، پولیس سے لیکر اعلیٰ عدلیہ تک نظام انصاف میں کہیں نہ کہیں جھول موجود ہے جس کی وجہ سے یہ محاورہ سچ ثابت ہونے لگتا ہے کہ قانون غریبوں کیلئے تگڑوں کیلئے ہر جگہ ریلف ہی ریلیف ہے جوہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے اسی لے آئے روزگھریلو ملازمائیں تشدد کا شکار ہوتی ہیں،کئی بد اخلاقی کی بھینٹ چڑھ کر موت کے منہ چلی جاتی ہیں میڈیا میں شور پڑتا ہے تو چاردن کیلئے قانون حرکت میں آ جاتا ہے پھر لمبی تان کے سو جاتا ہے جب تک کوئی نیا دلخراش سانحہ نہ ہو جائے آج کے اس حساس موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے کئی باردل دھڑکا کئی بارسوچ بچارکرتے ہوئے پھر قلم اٹھایا یہ سوچ کر کہ جہاد کی ایک قسم قلمی جہاد بھی ہے قارئین چند واقعات پر پردہ اٹھا رہا ہوں جن سے اخذکیا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام ؓکا نام لیکر مثالیں دینے والے حکمران ا صل میں بہروپیے ہیں2013 میں لاہور کے علاقے مغل پورہ کی پانچ سالہ بچی سنبل کے ساتھ بد اخلاقی کا مقدمہ اس کے والد کی مدعیت میں درج کیاگیا ،جس کے ملزم برسوں بعد آج تک گرفتار نہیں کئے جا سکے۔ درندے بچی کی حالت غیر ہونے پر گنگارام ہسپتال کے گیٹ پر پھینک گئے تھے ،پکڑ دھکڑ ہوئی پھر کیس سرد خانے چلا گیا اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا واقعہ پرنوٹس بھی کسی کام نہ آیا ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ملک پورہ محلہ میں 8 افراد نے 15 سالہ ملازمہ کو پانچ دن تک غیر اخلاقی حرکت کا نشانہ بنایا،ایف آئی آر درج ہوئی نتیجہ حسب معمول وہی نکلا جو دیگر کیسز کا آتا ہے؟ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر سول جج اسلام آباد کی اہلیہ نے تشدد کیا حالت بگڑنے پر جج کی اہلیہ نے بچی کی والدہ کو اڈے پر بلا کر بچی کو اس کے حوالے کیا اور رفو چکر ہو گئی، انصاف فراہمی کے ٹھیکیدارسول جج کی اہلیہ نے زیور چوری کا الزام لگا کر بیٹ اور ڈنڈے کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے بچی کو شدید زخم آئے اور اس کی حالت غیر ہونے لگی،جان چھڑانے کیلئے جوڈیشل اکیڈمی میں تعینات سول جج عاصم حفیظ نے اپنے موقف میں کہا کہ بچی پر کوئی تشدد ہوا ہی نہیں ،فیصل آباد میںدودھ گرنے پر گھریلو ملازمہ کوتشدد کا نشانہ بنایا گیا،تھانہ پیپلز کالونی کے مطابق بچی کا تعلق وزیر آباد سے ہے اور وہ گذشتہ چھ ماہ سے ملزم کے گھر پر بطور ملازمہ کام کر رہی تھیں، بچی سے دودھ ابالتے ہوئے گرا، جس پر دونوں میاں بیوی نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اس بارے میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے بارے پنجاب میں ڈومیسٹک ورکر ایکٹ 2019 موجود ہے، جس کے سیکشن تین کے مطابق 15 سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ گھریلو ملازم کے طور پر کسی بھی صورت کام نہیں کر سکتا اس کے باوجودقانون مکمل خاموش ہے ،راولپنڈی کے علاقے اصغر مال میں تشدد کا شکار ہونے والی گھریلو ملازمہ علاج کے دوران دم توڑ گئی،پولیس کے مطابق 12 سالہ ملازمہ ہسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی تھی،گھریلو ملازم بچے پر بدترین تشدد کا ایک اور واقعہ لاہور کے ایک عالیشان گھر میں پیش آیا جہاں 12 سالہ بچے پر انتہائی بد ترین ظلم کیا گیا، بنگلے کے مالکان کی سفاکیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 12 سالہ عامر کو استری سے جلایا جاتا اور ڈنڈوں سے مارا جاتا رہا، قصور کی رہائشی بد قسمت زینب کو بھی اغوا کرکے بد اخلاقی کا کا نشانہ بنایا گیا، قتل کر کے لاش کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی تھی علامہ طاہر القادری کے بچی کے گھر جانے پر وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی قصور کا رخ کیا تو کیس اجاگر ہوا ورنہ پولیس کیس بھی درج نہیں کر رہی تھی زینب الرٹ بنی اس کے باوجود قصور میں زینب کیس کے بعد 15سالہ کمسن بچے اور بچیوں سے بد اخلاقی کے 614 واقعات ہوئے قصور ضلع کئی بار میڈیا کی شہ سُرخیوں کی زینت بن چکا ، جس کے بعد قانون نا فذ کرنے والے ادارے متحرک ہوجاتے ہیں مگر کچھ ہی ماہ میں پھر سے تمام معاملات معمول پر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور بچوں سے بد اخلاقی کے نہ رکنے والے واقعات کا سلسلہ بتدریج جاری ہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ قصورمیں ہونے والے واقعات کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج خراب ہوا اور دنیا بھر کی این جی اوز اور اداروں نے یہاں کے واقعات کو رپورٹ کیا ان تمام تر معاملات کے بعد کہا گیا کہ اب پولیس بہترین کام کرے گی لیکن یہ سب ہی باتیں دعوؤں کی حد تک ہی رہیں،لاہور کے ہنجروال علاقے میں ایک کمسن گھریلو ملازمہ، جو مبینہ طور پر اپنی مالکن اور اس کے شوہر کے تشدد کا شکار ہوئی، جان کی بازی ہار گئی،لاہور کے اکبری منڈی نامی علاقے میں ایک خاتون رکن صوبائی اسمبلی شاہ جہاں کی بیٹی کی جانب سے اُن کے گھریلو ملازم اختر علی پر تشدد کیا گیا جس سے اس کی ہلاکت ہوئی یہ وہ چند واقعات ہیں جو رپورٹ کیے گئے کچھ ایسے بھی واقعات ہیں جن کا اندراج ہی نہ ہوااس میں بااثرمعاشرے میں رکھ رکھائویا پولیس کی ملی بھگت کہہ لیں اس سے بھی دکھ بھری داستانیں قلم کی نوک کی زینت بن سکتی ہیں پاکستان میں آئے دن گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن بھی لیا لیکن رات گئی بات گئی ہو گئی اور بچوں اور بچیوں سے نارواسلوک ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے جس کی وجہ ہمارا فرسودہ نظام انصاف بھی ہے کئی حکمران آئے اور گئے پولیس کونہ سدھارا جا سکا گزرے وقتوں میں لال ہنیری چڑھتی تھی تو کہا جاتاہے کہ کہیں ظلم ہوا ہو گاآج ہر روز گھر گھر ماتم ہو تا ہے روز قتل عام ہوتا ہے ہر روز عزتوں کے رکھوالے بھنورے بن جاتے ہیں اور کوئی پوچھتا بھی نہیں اور نہ ہی لال ہنیری چڑھتی ہے انصاف نام کی کوئی چیزکہیں نظرنہیں آتی زندگی اجیرن ہوتی جا رہی ہے حکمران صرف دعوئوں تک محدود ہیں اللہ اللہ خیر سلہ؟۔