Wed, September 16, 2026

پوسٹ پہلگام 2025: انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اور CSSPR کی جانب سے نئی سٹریٹجک رپورٹ کی رونمائی

پوسٹ پہلگام 2025: انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اور CSSPR کی جانب سے نئی سٹریٹجک رپورٹ کی رونمائی

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز ( IRS) اور سینٹر فار سکیورٹی، سٹریٹجی اینڈ پالیسی ریسرچ ( CSSPR) نے ایک مشترکہ تقریب میں اپنی تازہ ترین تحقیقاتی تصنیف ’’سٹریٹجک ریكننگ: ڈیٹرنس اور ایسکلیشن پر نظریات (پوسٹ پہلگام، مئی 2025)‘‘ کو باضابطہ طور پر متعارف کرایا۔ اس تقریب میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، محققین، سفارتکاروں، صحافیوں اور حکومتی نمائندوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اس وولیوم کی مدیر، ممتاز ماہرِ سٹریٹجک امور ڈاکٹر رابعہ اختر نے مئی 2025 کے پہلگام واقعے کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بحران جنوبی ایشیا کی سٹریٹجک صورتحال کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹرنس کے اصولوں، اشتعال انگیزی کے ردعمل اور بحرانوں کو قابو میں رکھنے کی اہمیت پر کتاب میں مفصل تجزیے پیش کیے گئے ہیں۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ حالات کو سمجھنے کے لیے ایک جامع ماخذ ہے۔ انہوں نے تمام اداروں اور محققین کو اس اہم کام پر مبارکباد دی۔

انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے صدر، سفیر جوہر سلیم نے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد کِد وائی نے پاکستان کی دفاعی تیاریوں اور حکمت عملی کو سراہا، جن کی بدولت بحران کو شدت اختیار کرنے سے روکا گیا۔

سابق صدر آزاد جموں و کشمیر، سفیر مسعود خان نے پہلگام حملے کو ایک خطرناک موڑ قرار دیا، جب کہ ڈاکٹر رابعہ اختر نے پاکستان کے تحمل کو ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے شایانِ شان رویہ قرار دیا۔

تقریب میں ایئر کموڈور (ر) خالد بنوری، ڈاکٹر سلمیٰ ملک اور تجزیہ کار اعجاز حیدر نے بھی خطاب کیا۔ خالد بنوری نے پاک فضائیہ کے بروقت اقدامات پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے خطے میں پیدا ہونے والے انسانی و معاشی بحران کو عالمی توجہ کا طالب قرار دیا۔ اعجاز حیدر نے بھارتی میڈیا کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سنسنی خیزی نے کشیدگی کو مزید بھڑکایا۔

کتاب کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ امن، تحمل اور حکمت پر مبنی پالیسی ہی خطے کو ایک بڑی جنگ سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تقریب کو علمی، پالیسی اور سٹریٹجک حلقوں کی جانب سے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔