Wed, September 16, 2026

’’ہسپتال، سفارش اور چاچا چھکن ‘‘

’’ہسپتال، سفارش اور چاچا چھکن ‘‘

چوپال میں آج چاچا چھکن تشریف فرما تھے۔ ان کا اصل نام تو کسی کو نہیں معلوم لیکن سب ان کو چاچا چھکن کے نام سے ہی جانتے تھے ۔ وہ کافی دیرسے نتھو اور پھتو سے چپ سائیں جی کے بار ے میں دریافت فرما رہے تھے کہ وہ کب آئیںگے ، مجھے بہت ضروری کام ہے۔ نتھو اور پھتو نے ان کو تسلی دی اور کام کے بارے میں پوچھنا چاہا لیکن چاچا چھکن بضد تھے کہ وہ تو چپ سائیں کو ہی بتائیں گے۔۔ خیر ۔۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے ۔۔ چوپال میں آئے۔۔ آتے ہی سب کو مسکرا کر سلام دعا کی۔۔۔ بیٹھنے کے بعد بولے ۔۔ واہ بھئی واہ آج تو چاچا چھکن ہماری چوپال میں آئے ہیں۔۔ اس پر چاچا چھکن فی البدیہہ بولے۔۔ صرف چھکن۔۔ چاچا کے بغیر ۔۔۔ وہ بھی آپ کے لیے۔۔ اس پر چپ سائیں مسکراتے ہوئے بولے۔۔ بھئی وہ تو میں یوں ہی بس مذاق کررہا تھا خیر۔۔ بتائیں ۔ آج یہاں کا رخ کیسے کیا؟ اس پر چاچا چھکن بولے۔۔ چپ سائیں جی دراصل لوگ آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اور کچھ شاگرد بڑے عہدوں پر ہیں۔۔ مجھے گائوں سے آئے ہوئے اپنے عزیز کے لیے سرکاری ہسپتال میں کام پڑگیا ہے۔۔ میں تو خوار ہوکر آگیا ہوں۔۔ میرے تو بس چکر پر چکر لگ رہے ہیں اور بے انتہا رش کی وجہ سے میں اپنے عزیز کا علاج نہیں کروا پارہا ہوں۔۔ مجھے تو۔۔ ہسپتال جاکر اس بے چارے کا کام کروانا جوئے شیر کے مترادف ہی لگ رہا ہے۔ ۔۔ اس پر چپ سائیں برجستہ بولے۔۔۔ ہے تو چاچا چھکن ایسا ہی لیکن آپ فکر نہ کریں۔۔ میں اپنے ’’شاگرد خاص ‘‘ کو فون کردوں گا انشا اللہ ہوجائے گا۔
چپ سائیں بولے۔۔ دوستو!برسوں پرانی بات ہے، جب آتش جواں تھا اور خاصا جذباتی بھی تھا۔۔۔ میرے والد گرامی کو بخار ہوا۔۔ ان کی عمر کوئی پچاس پچپن کے پیٹے میں ہوگی۔۔ دوستو! خیر دو تین روز علاج معالجہ کرایا۔۔ بخار نہیں اترا۔۔ ڈاکٹر صاحب بولے۔۔ بھئی ان کوکسی ہسپتال میں لے جائو۔۔یہ کوئی موسمی بخار نہیں ہے۔ڈینگی ہوا ہے اور ذرا جلدی کرو۔۔ یہ دوستو اس وقت کی بات ہے جب ڈینگی کے خلاف اقدامات انتہائی نوعیت کے تھے اور لوگوں کو آگہی نہیں تھی۔۔ خیر والد گرامی کی حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔۔ وہ انتہائی کمزور ہوگئے تھے۔۔ ہسپتال پہنچ گئے۔۔ دیکھا تو ہر طرف مریضوں کا تانتا بندھا ہوا تھا ۔۔۔جیسے تیسے کرکے ایک دو دوستوں کو فون کیا کہ بھائی یہ معاملہ ہے۔۔ سفارش درکار ہے یہاں تو کوئی کسی کی سن ہی نہیں رہا ۔۔ وہ بھی کیا کریں۔ لگتا تھا کہ پورا شہر ہی بیمار پڑا ہے اوراس کلموئے ڈینگی نے گھیرا ہوا ہے۔ خیر تین چار گھنٹے کی جد وجہد کے بعد بڑی مشکل سے وارڈ میں جگہ ملی اور علاج معالجہ شروع ہوا۔۔۔ نجانے یہ ’’سالا‘‘ یہ زہریلا مچھر کہاں سے آگیا تھا کہ شہر کاشہر ہی ڈینگی میںمبتلا ہوکر ہسپتال آگیا۔۔ خیر ان دنوں سب سے اچھی بات یہ تھی کہ’’ اعلی حکام ‘‘کی خاص توجہ کی وجہ سے ڈاکٹروں کی دوڑیں لگ رہی تھیں اور سرکاری ہسپتال بھی کسی پرائیویٹ سے کم نہ تھے۔خیر حقیقت بھی ایسی ہی ہے۔۔۔ دوستو!سرکار کے’’ مال‘‘ کو تو کچھ لوگوں نے مال مفت اور دل بے رحم کی طرح سمجھا ہوا ہے۔ اور جن لوگوں تک یہ پہنچنا چاہئے یہ ان کی دسترس سے باہر ہے۔۔ دوستو مدعا تو میں نے بیان کردیا آپ سمجھ ہی گئے ہوںگے بلکہ آپ میں سے اکثر کو تو تجربہ بھی ہوا ہوگا۔۔۔
صاحبو! سچ ہے تو کڑوا لیکن یہ ہی ہے کہ سادہ لوح شہری بیچارہ پہلے بیمار ہوتا ہے توخرچ سے ڈرتا ہے اور پھر علاج معالجے سے۔۔ میں نے سن رکھا ہے کہ بیرون ملک میں تو تعلیم اور صحت کا خرچ ٹیکس سے نکلتا ہے ۔ان کواس کی کوئی ٹینشن نہیں ہوتی کہ اب کوئی فون یا سفارش کرانا پڑے گا۔ دوستو!ہسپتال معاشرے کا وہ اہم ادارہ ہے جہاں ہر مریض کو اس کی حالت اور ضرورت کے مطابق بلا تفریق اور میرٹ کی بنیاد پر علاج فراہم کیا جانا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرتی نظام میں سفارش کلچر کی وجہ سے ہسپتالوں میں غیر منصفانہ رویہ اور خدمات کی فراہمی ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ کلچر ہر شعبے میں پایا جاتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ذاتی تعلقات اور سفارش کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، اور لوگ اسے ایک معمول کی بات سمجھتے ہیں۔ہسپتالوں میں نظام کی شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے سفارش کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج اور سہولیات کی فراہمی کو مکمل شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے تاکہ ہر مریض کو اس کی ضرورت کے مطابق سہولت ملے۔ مریضوں کی رجسٹریشن، اپوائنٹمنٹ اور علاج کے عمل کو ڈیجیٹل اور خودکار بنایا جائے تاکہ انسانی مداخلت اور سفارش کے مواقع کم ہوں۔
چوپال کے دوستو! آگہی کے لیے یہ بھی بیان کرتا چلوں کہ ہسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت بھی ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں تو ادویات کی صورت میں ریلیف ملتا ہے لیکن کچھ بڑے پرائیویٹ اداروں میں پیچیدہ امراض کے لیے صحت کارڈ کی سہولت ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اب پنجاب حکومت چھوٹے چھوٹے علاقوں میں کلینک آن ویلز کی سہولت دے رہی ہے یعنی جہاں پر ہسپتال نہ ہو یا طبی سہولیت کا فقدان ہو وہاںپر سرکار کی گاڑی اور ڈاکٹر کچھ امراض کے علاج میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔۔ تاہم اس بارے میں ابھی آگہی کی ضرورت ہے۔ جو طبقہ کم پڑھا لکھا ہے اور دو ر دراز کے علاقوں میں جہاں ہسپتال کی سہولیات کم ہیں وہاں کے لوگ لاہور سمیت بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں، اسی وجہ سے پنجاب حکومت اب چھوٹے شہروں میں ہسپتالوں کی طرف توجہ دے رہی ہے لیکن دوستو! طب کے شعبے میں کرنے والے بہت سے کام ہیں ہماری حکومت اور صاحب اقتدار اس پر توجہ دے رہے ہیں اور ترجیحا کام کرتے جارہے ہیں لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگر حکومت، ہسپتال انتظامیہ، اور معاشرہ مل کر شفافیت، میرٹ کی پاسداری، اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنائیں تو سفارش کا کلچر ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف صحت کی خدمات کا معیار بہتر ہوگا بلکہ ہر مریض کو اس کا حق ملے گا اور وہ بلا خوف و خطر علاج کروا سکے گا۔۔اللہ کریم آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے اور ۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!

ٹیگز: