عمر سرفراز چیمہ کچھ عرصہ کے لئے گورنر بنے تو اس دوران ان کے پاس جب بزدار کا استعفیٰ آیا تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو تحریک انصاف نے کہا کہ گورنر صاحب نے یہ ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے لیکن جب وہی کام خیبر پختون خوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کیا تو تحریک انصاف نے کہا کہ یہ تو آئین شکنی ہو گئی ۔ اسی طرح تحریک انصاف کے دور میں ایک مذہبی جماعت نے جب اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کوشش کی تو اسے ریاستی طاقت سے روکا گیا اور چناب کے پل پر تو اسے روکنے کے لئے خندقیں تک کھودی گئیں تو اس وقت کہا گیا کہ حکومتی رٹ اسی طرح قائم کی جاتی ہے لیکن اب اسی جماعت کے لانگ مارچ کو اگر ریاستی طاقت سے منتشر کیا گیا تو واویلا ہو رہا ہے کہ یہ تو ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ۔ سیاست میں اس طرح کے دوہرے معیار جب قائم ہوں اور ان پر کوئی شرم ساری نہ ہو بلکہ دیدہ دانستہ فیک مواد تک اپ لوڈ کیا جائے تو پھر سچ اور جھوٹ کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے متعلق کہا گیا کہ یہ تو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ڈبل گیم کھیل رہے ہیں لیکن جب انھوں نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کے حوالے سے خان صاحب کے گوش گذار کچھ ایسی باتیں کیں کہ جو ان کے لئے خوشگوار نہیں تھیں تو انھیں تبدیل کر دیا گیا ۔ ہمارے خیال میں علی امین گنڈا پور پر جو الزامات لگ رہے تھے تو انھوں نے جان بوجھ کر ایسا ماحول پیدا کیا کہ انھیں ہٹا دیا جائے تاکہ نیا آنے والا وزیر اعلیٰ بانی کا ایجنڈا پورا کرنے کا اپنا شوق پورا کر لے ۔ اس لئے کہ جسے تھوڑی سی بھی سیاسی سمجھ ہے اسے اس بات کا اندازہ ہے کہ بانی کے ایجنڈے کی تکمیل ممکن نہیں ہے اور پھر اس صورت میں تو بالکل بھی نہیں کہ جب اس ایجنڈے کا بیشتر حصہ ملک دشمن نکات پر مبنی ہو ۔
نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کو اگر درست مان لیا جائے تو انھوں نے منتخب ہونے کے بعد جو تقریر کی ہے وہ صرف براہ راست ٹکرائو کی ہی نہیں بلکہ ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے ملک دشمنی کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے ۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی کے لئے ان کے قائد عمران خان تو ریڈ لائن ہیں لیکن ملک دشمنی کی ریڈ لائن کراس کرنا ان کے لئے ریڈ لائن نہیں ہے ۔ نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اگر کہتے کہ وہ بانی کی رہائی کا عزم لے کر آئے ہیں تو اس پر کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا اس لئے کہ عمران خان ان کے قائد ہیں اور ان کی رہائی اور تمام مقدمات سے بریت کے لئے کوشش پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن اگر صورت حال یہ ہو کہ ایک طرف ہندوستانی آرمی چیف اور وزیر اعظم پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیں اور اس کو عملی جامہ اس طرح پہنایاکہ افغانستان کے وزیر خارجہ کو پتا نہیں کون سی پٹیاں پڑھائی گئیں کہ وہ ابھی ہندوستان میں ہی تھے تو افغانستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا لیکن پھر پاکستان کی بہادر اور غیور افواج نے انھیں وہ سبق سکھایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور اسلحہ چھوڑ کر بھاگے اور پاکستان نے ان کی 21 فوجی پوسٹیوں پر قبضہ کر کے وہاں پاکستانی پرچم لہرا دیا ۔ ایک طرف مودی اور انڈین آرمی چیف پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور دوسری جانب افغانستان پاکستان پر حملہ کر دیتا ہے اور اس عین حالت جنگ میں نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی صاحب ہندوستان اور افغانستان کے پاکستان دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا اعلان کرتے ہیں ۔ انھوں نے وفاق سے عدم تعاون کا کہہ کر یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ ملک کی سیاسی فضا کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں ۔ یہاں تک بھی بات کسی حد تک گوارہ تھی کہ سیاست میں اس طرح کے بیانات دے دیئے جاتے ہیں لیکن ان کا یہ بیان کہ وہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کے خلاف کسی آپریشن کو نہیں ہونے دیں گے اسے کسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ صریحاََ ملک دشمنی ہے کہ وہ عناصر جنھوں نے پاکستان کے 80ہزار سے زائد معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اب رہی سہی کسر کہ کچھ لوگ جو افغان طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے لیکن ہندوستان کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے افغانستان سے پاکستان پر براہ راست حملے کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کون پاکستان کا دوست ہے اور کون پاکستان کا دشمن ہے تو اس کے باوجود بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رکوانے کی باتیں کرنا نہ صرف یہ کہ کھلی ملک دشمنی ہے بلکہ دہشت گردوں کے خلاف جو ریاستی بیانیہ ہے اس پر بھی عوام کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش ہے ۔
آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات کا ڈرامہ بہت پرانا ہے اول تو وزیر خارجہ اسحاق ڈار افغانستان گئے تو وہ وہاں مذاکرات کرنے ہی گئے تھے اس کے علاوہ سفارتی سطح پر ہمیشہ بات چیت ہوتی رہتی ہے اور لا تعداد بار افغان حکومت کو یہ پیغام بھیجا کہ اپنی سر زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دیں لیکن نتیجہ صفر اور اب تو ہندوستان کے ساتھ پاکستان دشمن مشترکہ اعلامیہ کوئی ابہام باقی رہا ہی نہیں اورجب بھی دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوتا ہے تو مذاکرات کی چال چل کر انھیں دوبارہ منظم ہونے کا وقت دیا جاتا ہے اور خیبر پختون خوا کے نئے وزیر اعلیٰ یہی ایجنڈا لے کر آئے ہیں جو اس بار پورا نہیں ہو گا ۔