Wed, September 16, 2026

لفظ ’’پاکستان‘‘ کے موجد چودھری رحمت علی کا یوم ولادت آج منایا جا رہا ہے

لفظ ’’پاکستان‘‘ کے موجد چودھری رحمت علی کا یوم ولادت آج منایا جا رہا ہے

لاہور : آج پاکستان کے بانیوں میں سے ایک اہم شخصیت، چودھری رحمت علی کا یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔ چودھری رحمت علی کا شمار برصغیر کے سرگرم اور اثرورسوخ رکھنے والے سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

چودھری رحمت علی 16 نومبر 1897ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں ایک متوسط زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جالندھر سے حاصل کرنے کے بعد، 1918ء میں لاہور سے بی اے کیا اور پھر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔

چودھری رحمت علی نے 18 سال کی عمر میں اسلامیہ کالج لاہور میں ایک اہم اجلاس میں ہندوستان کے شمالی علاقوں کو مسلمانوں کی علیحدہ ریاست بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ بعد ازاں 1928ء میں وہ ایچی سن کالج میں لیکچرار بنے اور وہاں اپنی فکری قوت کو مزید مستحکم کیا۔

چودھری رحمت علی نے 1933ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے قانون اور سیاست میں ڈگریاں حاصل کیں۔ اسی دوران لندن میں تیسری گول میز کانفرنس کے موقع پر انہوں نے مشہور کتابچہ "ناؤ آر نیور" شائع کیا، جس میں پہلی بار "پاکستان" کا لفظ مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے لیے استعمال کیا۔

ان کی اس تجویز کا نتیجہ 14 اگست 1947ء کو سامنے آیا جب پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ چودھری رحمت علی نے اپریل 1948ء میں پاکستان کا دورہ کیا، مگر قائد اعظم کی وفات کے بعد وہ واپس انگلینڈ لوٹ گئے، جہاں 3 فروری 1951ء کو ان کا انتقال ہوا۔ ان کا جسم کیمبرج میں دفن کیا گیا۔

چودھری رحمت علی کی قربانیاں اور ان کا فکری ورثہ آج بھی پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ ہے، اور ان کے کردار کو قیام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ٹیگز: