تہران :ایران نے ثالثی کی کوششوں میں مصروف قطر اور عمان کو صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ جب تک اسرائیل کے حملے جاری ہیں، تہران مذاکرات نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حالتِ جنگ میں کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں، مذاکرات کا امکان صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب اسرائیل کو مکمل جواب دے دیا جائے۔
ایرانی عہدیدار نے ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ ایران نے قطر اور عمان سے کہا ہے کہ اگر وہ کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو امریکا سے رابطہ کریں اور اسے جنگ بندی پر آمادہ کریں، کیونکہ ایران اس وقت کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔
ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ تاثر غلط دیا جا رہا ہے کہ ایران نے خود جنگ بندی یا جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے قطر یا عمان سے مدد مانگی ہے۔
یاد رہے کہ جمعے کی صبح اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کیا تھا، جس میں ایرانی فوج کے اہم کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا اور جوہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے جواب میں ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ "جہنم کے دروازے کھول دے گا"۔
قطر اور عمان ماضی میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، لیکن موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایران کا مؤقف بالکل دوٹوک ہے: پہلے اسرائیلی جارحیت کا جواب، پھر مذاکرات کی کوئی گنجائش ہو سکتی ہے۔