Wed, September 16, 2026

جرمن تحقیق: اے آئی کے الفاظ انسانی بات چیت کا حصہ بن گئے

جرمن تحقیق: اے آئی کے الفاظ انسانی بات چیت کا حصہ بن گئے

جرمنی:چاہے اسے اچھا کہیں یا برا، مگر چیٹ جی پی ٹی کے رائٹنگ ٹول، سرچ انجن اور بات چیت کے پلیٹ فارم کے طور پر ابھرنے نے لوگوں کے ایک دوسرے سے بات کرنے کے طریقے کو خاصا بدل دیا ہے۔ کم از کم جرمنی کے محققین کا یہی ماننا ہے۔

میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ہیومین ڈویلپمنٹ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اب انسان بھی چیٹ جی پی ٹی کی طرح بات کرنے لگے ہیں، جس کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے چیٹ بوٹ سے بات کر رہے ہیں یا کسی حقیقی شخص سے۔

تحقیق میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے افراد کے استعمال کردہ الفاظ کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ لوگ اب چیٹ جی پی ٹی کے مخصوص الفاظ اور انداز کو اپنانے لگے ہیں، جو پہلے عام نہیں تھا۔

محققین نے لاکھوں ای میلز، مضامین، تدریسی مقالے اور خبریں چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کر کے ان کو بہتر بنانے کی ہدایات دیں۔ پھر یہ دیکھا کہ چیٹ جی پی ٹی کون سے الفاظ زیادہ استعمال کرتا ہے۔

ان الفاظ کو تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار یوٹیوب ویڈیوز اور 7 لاکھ 71 ہزار پوڈکاسٹس میں بھی ٹریک کیا گیا۔

تجزیے کے دوران پتہ چلا کہ انگریزی زبان میں جی پی ٹی کے مخصوص الفاظ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اے آئی کی زبان کا انداز واپس انسانی سوچ میں منتقل ہو گیا ہے۔ اگرچہ انسان ایک دوسرے کی نقل کرتے ہیں، لیکن عام طور پر ہم صرف ان کی نقل کرتے ہیں جنہیں ہم زیادہ ماہر یا اہم سمجھتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ آج کل زیادہ لوگ اے آئی کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور اس کا اثر انسانی ثقافت اور رویوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

ٹیگز: