Wed, September 16, 2026

ایک بدمعاش ریاست....! 

ایک بدمعاش ریاست....! 

ویسے تو بھارت کا ہولناک چہرہ پوری دنیا دیکھ چکی ہے مگر ایک حالیہ رپورٹ نے ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ایک طویل، منظم اور ریاستی سرپرستی میں جاری ظلم کی داستان پھر سے دنیا کے سامنے پیش کردی ہے۔ ناقابل تردید ثبوت جسے اب عالمی سطح پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ باکو انیشیٹو گروپ (BIG) کی حالیہ رپورٹ نے بھارت کے اس بیانیے کو بری طرح چکنا چور کر دیا ہے جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور اقلیت دوست ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں پیش کیے گئے حقائق، اعداد و شمار اور شواہد ایک ایسی بھیانک تصویر دکھاتے ہیں جہاں سکھ برادری کو محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا گیا، ان کی جان، مال اور وقار کو ریاستی پالیسی کے تحت پامال کیا گیا اور انصاف کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں دس ہزار سے زائد سکھوں کو ریاستی سرپرستی میں قتل کیا گیا، جن میں صرف دہلی میں تین ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار محض اتفاقی فسادات یا عوامی غصے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کا ثبوت ہیں، جس کے تحت سکھوں کے گھروں، کاروبار اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ چن چن کر لوگوں کو قتل کرنا، گھروں کو نذر آتش کرنا اور لاکھوں افراد کو جبری طور پر بے گھر کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے مگر دنیا جان چکی کہ بھارت میں گنگا الٹی بہتی ہے۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ 54 ہزار سے زائد گھروں کی تباہی اور دو لاکھ سات ہزار سے زیادہ سکھوں کی جبری ہجرت کرائی گئی۔ 
بھارتی ریاستی جبر کی سنگینی اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب یہ ظلم صرف بھارت کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ بیرونِ ملک سکھ کارکنوں اور رہنماو¿ں تک پھیل جاتا ہے۔ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ کے قتل کے بعد کینیڈین حکومت کی جانب سے مودی سرکار پر براہِ راست الزام، اور پھر 2024 میں چھ بھارتی سفارت کاروں کی ملک بدری، اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت نے اپنی خفیہ جنگ کو عالمی سطح تک پھیلا دیا ہے۔ یہ کوئی معمولی سفارتی اختلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے، جس نے بھارت کو ایک ذمہ دار ریاست کے بجائے ایک بدمعاش ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
اعداد و شمار اس المیے کی وسعت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ صرف کینیڈا میں سات لاکھ اکہتر ہزار سے زائد، برطانیہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ اور امریکہ میں تقریباً دو لاکھ اسی ہزار سکھ اس جبر کے نتیجے میں ان ممالک میں ہجرت پر مجبور ہوئے۔ یہ لوگ بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں نہیں بلکہ اپنی جان بچانے کے لیے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب ان ممالک میں بھی سکھ کارکن خود کو محفوظ نہیں سمجھتے، کیونکہ بھارتی ایجنسیوں کے مبینہ ہٹ سکواڈز کے سائے وہاں بھی منڈلا رہے ہیں۔ برطانوی خفیہ ایجنسی MI5 کی جانب سے پرمجیت سنگھ پمّا کے حوالے سے جاری کی گئی وارننگ اور امریکہ میں گورپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ناکام سازش نے اس خطرے کو ایک حقیقت بنا دیا ہے۔
امریکہ میں بھارتی انٹیلی جنس افسر وکاش یادو کی مبینہ شمولیت اور ایف بی آئی کے وارنٹس نے بھارت کے اس دعوے کو خاک میں ملا دیا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کا علمبردار ہے۔ اگر ایک ریاست اپنے ناقدین اور اقلیتی رہنماو¿ں کو خاموش کرانے کے لیے سرحد پار قتل و غارت گری کا سہارا لے تو یہ طرزِ عمل کسی بھی صورت میں سیکولرزم یا جمہوریت کے زمرے میں نہیں آ سکتا۔ یہ وہی سوچ ہے جس نے 1984 میں سکھوں کے خلاف اجتماعی تشدد کو جنم دیا اور آج بھی مختلف شکلوں میں زندہ ہے۔
26 جنوری 1986 کو امرتسر میں پانچ لاکھ سے زائد سکھوں کا کرفیو توڑ کر اکٹھا ہونا اس بات کی علامت تھا کہ ظلم جتنا بھی شدید ہو، مزاحمت کی چنگاری کو مکمل طور پر بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ اجتماع صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک اجتماعی اعلان تھا کہ سکھ برادری اپنی شناخت، حقوق اور شہدا کے خون کو فراموش نہیں کرے گی۔ آج چار دہائیاں گزرنے کے باوجود 1984 کے شہدا کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں، اور بھارتی ریاست خاموشی، تاخیر اور انکار کے ذریعے اس ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کے برعکس اگر خطے میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ریاستی رویے کا موازنہ کیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات، خصوصاً کرسمس جیسی تقریبات کی ریاستی سطح پر سرپرستی، ایک مثبت مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انٹرنیشنل کرسچن کنسرن کی جنوری 2026 کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کرسمس 2025 نہ صرف مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا بلکہ ریاستی اداروں نے مسیحی برادری کے تحفظ اور شرکت کو یقینی بنایا۔ فیلڈ مارشل ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی راولپنڈی کے چرچ میں کرسمس سروس میں شرکت ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان میں اقلیتیں قومی دھارے کا حصہ ہیں اور ان کی عزت و سلامتی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
باکو انیشیٹو گروپ کی رپورٹ نے عالمی برادری کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھ دیا ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف سیاسی مفادات تک محدود رہیں گے یا واقعی مظلوموں کے لیے آواز اٹھائی جائے گی۔ جب تک بھارت کو ان جرائم پر عالمی سطح پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، اقلیتوں کے خلاف تشدد کا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ سکھ برادری کی جدوجہد آج صرف ایک مذہبی گروہ کی نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کی جدوجہد بن چکی ہے۔ دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنی رہے گی یا تاریخ کے اس نازک موڑ پر حق کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

ٹیگز: