Wed, September 16, 2026

عالمی یوم ہیموفیلیا: آگاہی سے عمل تک

عالمی یوم ہیموفیلیا: آگاہی سے عمل تک

ہر سال 17 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یوم ہیموفیلیا منایا جاتا ہے۔ یہ صرف آگاہی کا دن نہیں بلکہ غور و فکر اور عملی اقدامات کا موقع بھی ہے۔ دنیا بھر میں ہیموفیلیا اور دیگر خون بہنے کی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے لاکھوں افراد کے لیے یہ دن ان کی مشکلات کو تسلیم کرنے اور بر وقت تشخیص، م¶ثر علاج اور مساوی طبی سہولتوں کے لیے کوششوں کو مضبوط بنانے کی ایک اہم یاد دہانی ہے۔
سال 2026 کا موضوع ”تشخیص، نگہداشت کی طرف پہلا قدم“ ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ تشخیص کے بغیر علاج کا آغاز ممکن نہیں۔ افسوسناک طور پر دنیا بھر میں ہیموفیلیا کے 75 فیصد سے زیادہ مریض تشخیص سے محروم رہتے ہیں۔ یہ خاموش قاتل لاکھوں افراد کو ناقابل روک تھام پیچیدگیوں، معذوری اور حتیٰ کہ موت کے خطرے سے دو چار کر دیتا ہے۔ ابتدائی تشخیص محض ایک طبی مرحلہ نہیں بلکہ بقا اور بہتر معیار زندگی کی بنیاد ہے۔
ہیموفیلیا ایک نایاب موروثی بیماری ہے جس میں خون میں جمنے والے عوامل (Clotting Factors) کی کمی ہوتی ہے، جس کے باعث جسم کے لیے خون بہنا روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی دو بنیادی اقسام ہیں: ہیموفیلیا اے (Hemophilia) فیکٹر Vill کی کمی، ہیموفیلیا بی (Hemophilia B) فیکٹر IIX کی کمی۔ کچھ افراد میں اس کی علامات ہلکی ہوتی ہیں، جبکہ بعض میں شدید صورت اختیار کر لیتی ہے جس میں بغیر کسی واضح چوٹ کے اندرونی خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔
پہ بیماری ایکس کروموسوم سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے یہ مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جبکہ خواتین عموماً اس کی کیریئر ہوتی ہیں۔ تاہم خواتین اس سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتیں۔ بہت سی خواتین میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن اکثر انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا پہچانا نہیں جاتا، جو صحت کے نظام میں کم تشخیص اور صنفی تعصب کی ایک بڑی مثال ہے۔ ہیموفیلیا کی خطر ناک بات بیرونی خون بہنا نہیں بلکہ اندرونی خون بہنا ہے، خاص طور پر جوڑوں، پٹھوں اور اہم اعضا میں۔ بار بار جوڑوں میں خون بہنے سے مستقل درد، جسمانی بگاڑ اور عمر بھر کی معذوری پیدا ہو سکتی ہے۔ مناسب علاج کے بغیر معمولی چوٹ بھی جان لیوا صور تحال اختیار کر سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں نظامی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اندازوں کے مطابق 10 سے 20 ہزار افراد خون بہنے کی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن 10 فیصد سے بھی کم مریض علاج کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ آگاہی کی کمی، علاج کی زیادہ قیمت، سماجی بد نامی اور کمزور طبقی نظام م¶ثر علاج میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے جان بچانے والی کلاٹنگ فیکٹر تھراپی مالی طور پر ممکن نہیں رہتی، جس کی وجہ سے انہیں فلاحی اداروں کے سہارے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے صرف انفرادی کوششیں کافی نہیں بلکہ قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ عوامی آگاہی مہمات کو بڑھانا ہو گا تا کہ خون بہنے کی بیماریوں کے بارے میں سمجھ بوجھ بہتر ہو سکے۔ صحت کے نظام میں تشخیصی سہولیات اور لیبارٹری خدمات کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی تربیت بھی لازمی ہے تاکہ بیماری کی جلد تشخیص اور درست علاج ممکن ہو سکے۔
اسی طرح سستے اور قابل رسائی علاج کو یقینی بنانا بھی انتہائی اہم ہے۔ ہیموفیلیا کے علاج کے لیے کلاٹنگ فیکٹر کنسنٹر میں خصوصاً فیکٹر VIII اور (X) ضروری ہیں، مگر یہ زیادہ تر مریضوں کے لیے بہت مہنگے ہیں۔ حکومت، غیر سرکاری تنظیموں اور بین الا قوامی اداروں کے تعاون سے ان ادویات کو ضرورت مند افراد کے لیے مفت یا سبسڈی کے ساتھ فراہم کرنا ضروری ہے۔ ہیموفیلیا کے مو¿ثر علاج کے لیے کثیر شعبہ جاتی (Multidisciplinary) طریقہ کار بھی اہم ہے۔ علاج صرف ہمیٹولوجی تک محدود نہیں بلکہ اس میں بچوں کے ماہرین، آرتھو پیڈک سرجنز، فزیو تھراپسٹ، ماہر نفسیات اور سماجی معاونت کی خدمات بھی شامل ہونی چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی مریض رجسٹری کا قیام منصوبہ بندی، نگرانی اور وسائل کی بہتر تقسیم میں مدد دے سکتا ہے۔
احتیاطی حکمت عملیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہے۔ قبل از پیدائش تشخیص کی جدید تکنیک جسے Chorionic Villas Sampling اور Aamiocentesis خاندانوں کو ابتدائی تشخیص اور باخبر فیصلے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ جینیاتی مشاورت کے ساتھ مل کر یہ طریقے بیماری کے بوجھ کو کم کرتے اور بہتر نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی یوم ہیموفیلیا صرف ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک فوری ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ تشخیص اور علاج تک رسائی جغرافیہ، آمدنی یا سماجی حیثیت پر منحصر نہیں ہوئی چاہیے یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ آگے کا راستہ واضح ہے: آگاہی میں سرمایہ کاری کریں، صحت کے نظام کو مضبوط بنائیں، علاج کو قابل برداشت بنائیں اور جامع نگہداشت کو ترجیح دیں۔ خاص طور پر خواتین اور محروم طبقات کے لیے۔
مسلسل عزم اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ ہیموفیلیا کو ایک جان لیوا بیماری سے قابل انتظام مرض میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے۔

ٹیگز: