Wed, September 16, 2026

....اللہ اُس پر رحم نہیں کر تا 

....اللہ اُس پر رحم نہیں کر تا 


گزشتہ کچھ دنوں سے 9 مئی کے ملزمان کے حوالے سے عدالتی اورحکومتی رویہ جس طرح سوفٹ دکھائی دے رہا ہے اس سے خدشات کا ایک طوفان ہے کہ ذہن کو غرقاب کرنے پر تلاہے۔وسوسے ہیں کہ کسی صورت پیچھا نہیں چھوڑ رہے ۔کہیں عمران نیازی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پرچھوڑنے کی تیاری تو نہیں ہو رہی ؟ کہیں اُسے بنی گالہ یا کہیں اور تو منتقل نہیں کیا جارہا ؟ یقینا اس حوالے سے بہت سے دباﺅ حکومت اور ریاست دونوں پرہو ں گے لیکن حقیقی سیاست دان اور ریاستی نگہبان تو شاک آبزرور ہوتے ہیں ۔ اُن کے مضبوط اعصاب ہی انہیں اِن عہدوں تک پہنچا تے ہیں لیکن کبھی کبھی جلد بازی میں کیے فیصلے مستقبل کیلئے بہت نقصان دہ ہوتے ہیں اتنے نقصان دہ کہ اُس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔مجھے عمران نیازی کی گرفتاری سے کوئی فائدہ نہیں اور اُس کی رہائی بھی میرے لئے نقصان دہ نہیں ہو سکتی کیونکہ ہم دنوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔میں ہیرو پرست انسان نہیں ہوں اور عمران نیازی کو انسانوں سے ویسے ہی الرجی ہے وہ صرف اُن لوگوں میں راضی رہتاہے جنہیں وہ اپنے جیسا سمجھتا ہے یا اپنا سمجھتا ہے اوراُس کایہ معیار بھی بدلتا رہتاہے ۔ پاکستانی عوام نے جس جوش و خروش سے 9مئی پرافواج ِپاکستان سے اظہارِ یکجہتی کیااور جس طرح 10 مئی کو یوم ِفتح کے طور پر منایا اس سے اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو چکی ہے کہ اب عمران نیازی کازہر پہلے جیسا سریع الاثر نہیں رہاتو وہ غلطی پر ہے اور اُسے اپنی یہ غلطی سدھار لینی چاہیے ۔پاکستان میں دو خاندانوں کی بادشاہت قائم ہوچکی ہے کیونکہ عوام کے ساتھ رعایاجیساسلوک کیاجارہاہے۔ بلکہ مجھے تویہ احساس شدت سے ہوناشروع ہو چکا ہے کہ پولیس ¾ ٹریفک پولیس اورپیرو جیسے اداروں کو صرف عوامی تذلیل کیلئے بنایا کیاگیاہے۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن نے کاروبارحیات کو برباد کرکے رکھا ہے لیکن اصل ظلم تو 8بجے رات کے بعد شروع ہو تاہے جب طاقتوروں ¾رشوت دینے والوں اور سیاسی اثررسوخ رکھنے والوں کی دکانیں سرعام کھلی رہتی ہیں لیکن عام اوربے بسوں کو جرمانے ¾ تشدد اوردکانوں کے سیل ہونے تک کا دکھ سہنا پڑتا ہے ۔تاجروںپر جب بھی مصیبت کا وقت ہوتا ہے تاجررہنما اشرف بھٹی کبھی احتجاج کرتانظرنہیں آتا لیکن جب بھی اُسے حکومت کی طرف سے گرین سگنل ملتاہے وہ میدان میں آ کر پریس کانفرنسیں کرنا شروع کر دیتاہے یہ ٹوپی ڈرامہ میںچالیس سال سے دیکھ رہا ہوں ۔اشرف بھٹی صدرآل پاکستان انجمن تاجران و صدرانارکلی بازار لاہورہیں اُن کی دکان ایک دن بھی لاک ڈاﺅن میں بند نہیں ہوئی جبکہ دکانیں بندرکھنے کاہر حکم نامہ انہیں کی طرف سے جاری کیا جاتا تھا ۔ اشرف بھٹی کو پریس کانفرنسوں میں دیکھ کرمجھے یقین ہوچکاہے کہ سمارٹ لاک ڈاﺅن ختم ہونے جا رہا ہے۔ چنددنوں بعد یہ شہبازشریف اورمریم نواز کا شکریہ ادا کرتے نظر آئیں گے اور پھر سب ہنسی خوشی رہنا شروع ہو جائیں گے ۔بیروز گاری ¾مہنگائی ¾ پولیس گردی¾ ¾ محکمانہ منہ زوری عروج پر ہے اوران حالات میں کوئی غلط سیاسی فیصلہ سوائے بربادی کے اورکچھ نہیں لائے گا ۔عمران نیازی کسی گارنٹی اور کسی انسانی ہمدردی کی بنیاد کو ماننے والی مخلوق نہیں ہے ۔اگر آپ نے اُسے پاکستان سے نکال دیاتو یاد رکھیں اُسے ابلاغ کی کوئی پرابلم نہیں ہے ¾جھوٹ بولنے اورجھوٹے بیانیے بنانے میں اُس کا کوئی ثانی نہیں ¾ مغربی میڈیااُن کے گھرکی لونڈی ہے سو ان حالات میں کوئی بھی ایسا فیصلہ جو عمران نیازی کو کوئی بھی رعایت دینے سے متعلق ہے سوچ لیں کہ وہ کیاکیا کر سکتا ہے۔ بھوکے انسان کوانقلاب ¾ تبدیلی ¾ خوشخالی اور بغاوت جیسے نعروں میں دلکشی نظر آتی ہے اور یہ اُس وقت اور خطرناک ہو جاتی ہے جب بیرونی قوتیں اوراُن کی پراکسیز ایسی غیر سیاسی سوچ رکھنے والوں کی پشت پر کھڑی ہوں اورغیرتربیت یافتہ سیاسی افرادکا ہجوم کسی بڑے المیے جو جنم دیدے ۔
معرکہ حق“بنیان مرصوص”کو ایک سال مکمل ہونے پر صدر استحکام پاکستان پارٹی و وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے پاک مسلح افواج، فیلڈ مارشل اور آپریشن میں شریک تمام ہیروز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے 10 مئی کو پاکستانی عسکری تاریخ کا ایک یادگار دن قراردیا جب پاک افواج نے جرات، حکمت عملی اور بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔عبدالعلیم خان نے پاک فضائیہ، بری فوج اور پاک بحریہ کے افسروں اور جوانوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں پوری قوم کا سر فخر سے بلند کرنے پر قوم اپنے بہادر بیٹوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ عبدالعلیم خان نے پاک فضائیہ کے شاہینوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں دشمن کے گھر میں گھس کر مارنے اور پوری دنیا کو اپنا معترف کرنے پرسلام پیش کیا۔ عبد العلیم خان نے اپنے شاہینوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں فضا¶ں پر حکمرانی کا حقیقی حقدار قرار دیا اورکہا کہ جن کے سینوں پر سبز ہلالی پرچم سجا ہو اُن کی مدد کیلئے اللہ کی خصوصی امداد بھی پہنچ جاتی ہے۔ 
 صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی کے اگلے ماہ ہونے والے انتخابات کیلئے 14 حلقوں کیلئے امیدواروں کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔مرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود اور صوبائی صدر رانا نذیر احمد خان نے امیدواروں میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کئے۔ گلگت، سکردو، دیامر، غذر، استور اور ہنزہ سمیت مختلف اضلاع میں مضبوط اور متحرک امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیںجن کی کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔ میں نے ذاتی حیثیت میں بھی گلگت بلتستان رابطے کیے توعبد العلیم خان کی قیادت میں آئی پی پی کے امیدواروںجیتنے کی پوزیشن میں ہیںاورجن امیدواروں کو ٹکٹ دیاگیاہے ان میں سے بڑی تعداد فتح سے ہمکنار ہو گی ۔عبد العلیم خان کی بہترین حکمت عملی سے ا سلامی تحریک پاکستان اور استحکام پاکستان پارٹی کے مابین گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے مختلف نشستوں پر انتخابی اتحاد بھی قائم کیا جا رہا ہے جس کے تحت دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لیں گی اوربہترین نتائج کی توقع کی جا رہی ہے ۔انتخابات تو ہو تے رہیں گے اورہار جیت کایہ کھیل ہمیشہ چلتا رہے گاکہ اسی کا نام جمہوریت ہے لیکن کوئی غیر جمہوری فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں بہت کچھ سوچنا ہو گا ۔اس اثرکو زائل ہو نا چاہیے کہ عمران نیازی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پررہا کیا جا رہا ہے کیونکہ رسالتماب محمد کافرمان ہے کہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اُس پر رحم نہیں کرتا ۔ سو میرے نزدیک جس شخص نے اپنے دورِ حکومت میں کسی پر بھی رحم نہیں کیا ¾ کیا وہ کسی بھی رعایت کامستحق ہے ؟ اگر اتنے بڑے مجرم کو چھوڑنے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے یا سوچا جارہا ہے تو پھر جو بے چارے چھوٹے موٹے جرائم میں جیلیں کاٹ رہے ہیں انہیں بھی آزاد کردیا جائے۔

ٹیگز: