واشنگٹن: امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مدد فراہم کرنے والے چھ افراد اور بارہ کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان میں چند چینی شہری بھی شامل ہیں۔
یہ پابندیاں ان افراد اور اداروں پر لگائی گئی ہیں جو ایران کو ایسے سامان اور مواد فراہم کر رہے تھے جو میزائل بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت کو مقامی سطح پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو ایسے خطرناک میزائل بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا جو بین البراعظمی فاصلے تک مار کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل تیاری کی کوششیں پورے خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک ایسا معاہدہ بنانا ہے جس سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکا پہلے ہی ایران کی تیل اور جوہری صنعت سے وابستہ کئی اداروں اور افراد پر پابندیاں لگا چکا ہے۔