اسلام آباد:عالمی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان سمیت دوست ممالک کی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب میں کیے جائیں گے، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا اور ایران نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جاری فوجی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے اور ایران پر عائد بعض امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز فوری طور پر کیا جائے گا، جبکہ اقتصادی اور تکنیکی امور پر آئندہ دو ماہ تک مزید مذاکرات جاری رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو عالمی امن کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے اس کامیابی پر وزیراعظم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔
اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں استحکام پیدا ہوگا اور عالمی سطح پر امن و سلامتی کو فروغ ملے گا۔
معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جسے سرمایہ کاروں نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور تجارتی راستوں کی بحالی کا مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔