Wed, September 16, 2026

حج 2026 اور پاکستان کے انتظامات

حج 2026 اور پاکستان کے انتظامات

حج کا سفر بلاشبہ ایک مبارک اور منفرد سفر ہے۔ مشاہدہ اور عملی تجربہ کہتا ہے کہ یہ بلاوے کی بات ہے۔ کوئی متقی ہو یا گناہ گار، اس کی اجازت کے بغیر کوئی حاضر نہیں ہو سکتا۔ یہ سفر مبارک درویش وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کے ساتھ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ لوگ وزیروں کے ساتھ اس لیے سفر کرتے ہیں کہ ان کو پروٹوکول ملے گا۔ سہولیات ملیں گی۔ بہت سارے احباب کی خواہش تھی کہ وہ وہاں قیام کریں جہاں وزیر صاحب رہائش پذیر ہیں۔ متحدہ امارات سے ہمارے تعلق دار ربیعہ فیملی کا خیال تھا کہ وزیر مکہ ٹاور میں قیام پذیر ہوں گے، اور ان کو بھی رکھا جائے لیکن ان کو یہ سن کر مایوسی ہوئی کہ وزیر عزیزیہ کی ایک عام عمارت میں قیام پذیر تھے جہاں پوری عمارت میں پاکستان کے عام حاجی مقیم تھے۔ سردار محمد یوسف نے یہاں بھی آرام کرنے کی بجائے لوگوں سے ملنا مناسب سمجھا، جب تک تھک نہ گئے چلتے رہے چلتے رہے۔ 
مزدلفہ کی رات بھی عجیب ہے۔ نرم بچھونوں پر سونے والے، دنیا کے عظیم رہنما، اپنے اپنے ملکوں کی قیادت کرنے والے یہاں کھلے آسمان تلے کھردری زمین پر اپنے اللہ کو پکار رہے تھے اور شکر ادا کر رہے تھے۔ ڈی جی حج یا کسی عملہ کی بجائے گوجرانوالہ کے ہمارے دوست چوہدری خرم افتخار نے کمال یہ کیا کہ منیٰ اور مزدلفہ میں بہترین کھانے کا اہتمام کر کے بہت ثواب کمایا۔ سعودی اعداد و شمار کے مطابق اس سال 1707301 مسلمانوں کو یہ عظیم الشان سعادت نصیب ہوئی۔ بیرون ممالک سے 1546655 جبکہ سعودی عرب سے 160646 حاجیوں کو یہ سعادت ملی۔ جن میں مقامی سعودی اور یہاں مقیم غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ صنفی تقسیم بھی بہت دلچسپ رہی جس کے مطابق مرد اور خواتین قریب قریب برابر رہے۔ مرد 894396 جبکہ خواتین 813905 تھیں۔ دنیا کے ایک سو اسی ممالک کے مسلمان حاجیوں کا ترانہ اپنے لبوں پر جاری رکھتے ہوئے اس سعادت سے سرفراز ہوئے۔ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد سمو الامیر محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں حکومت رشیدہ نے اپنے تمام وسائل اس آپریشن کے لیے بروئے کار لائے۔ ولی عہد جو کہ وزیراعظم ہیں براہ راست اس آپریشن کی نگرانی میں مصروف عمل رہے۔ ایک لاکھ کے قریب سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے سخت ترین موسم کے باوجود حاجیوں کی بہترین انداز اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ رہنمائی کی۔
پاکستان سے ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب عازمین نے فریضہ حج ادا کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا موجودہ دور حکومت میں یہ دوسرا جبکہ مجموعی طور پر ساتواں حج تھا۔ وزیر مذہبی امور نے رواں برس کے حج انتظامات کے لیے سعودی عرب کے تین دورے کیے اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ پاکستان کا شمار ان دو تین ممالک میں ہوتا ہے جن کے حاجی سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سال سرکاری سطح پر ایک لاکھ بیس ہزار عازمین نے حج کیا۔ اتنی بڑی تعداد میں حاجیوں کا انتظام کر نا بہر حال ایک مشکل امر ہے۔ حج 2026 کے دوران بہترین کوآرڈینیشن کا ”لبیتم ایکسی لینس“ ایوارڈ ملا ۔ مدینہ منورہ میں فائیو سٹار سے ون سٹار تک بہترین ہوٹل حاصل کیے گئے تھے۔ 146 شدید بیمار اور ضعیف حجاج کو وقوف عرفات اور طواف زیارت سمیت دیگر مناسک ادا کرائے گئے۔ اس سلسلہ میں سعودی جرمن ہسپتال، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی حج رضاکار تنظیم اور حج میڈیکل مشن کا تعاون مثالی رہا۔ سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی کا ویزوں کے اجرا سے ہر عمل تک تعاون مثالی رہا۔ گزشتہ سال ہر گروپ کے اوپر ایک ناظم مقرر کیا گیا تھا، چند ایک کے سوا سب کی کارکردگی اچھی رہی۔ تاہم اس پر مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ کھانے کے حوالے سے لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سرکاری حج کے اچھا ہونے کی وجہ سے بہت سارے وہ عازمین جو امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے بھی اس سال کثیر تعداد میں سرکاری حج اسکیم سے استفادہ حاصل کیا۔ 
وزیر مذہبی امور کے لیے یہ چیلنج ہے کہ سعودی وزارت حج نے اگلے حج کی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے اور تمام مراحل کے لیے اوقات کار بھی متعین کر دئیے ہیں۔ سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ حج پالیسی فوری منظوری کے لیے پیش کی جائے گی اور جو لوگ حج پر جانا چاہتے ہیں وہ اپنے پاسپورٹ بنو لیں۔ انتظامات کو مزید اعلیٰ و ارفع کرنے کے لیے ازحد ضروری ہے کہ پاکستان کا حج مشن سو فیصد وزارت مذہبی امور کے ماتحت ہو، وزارت مذہبی امور اور حج مشن ایک پیج پر ہوں، آپس میں مکمل ہم آہنگی ہو تو پاکستان کے حج انتظامات پوری دنیا کے ممالک میں نمبر ون ہو سکتے ہیں۔

ٹیگز: