واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جلد مفاہمت ہو سکتی ہے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنا چاہیے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت دونوں فریقین کے درمیان متعدد ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے پُرامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ایران اور اسرائیل کسی نہ کسی معاہدے پر متفق ہو جائیں گے۔"
ٹرمپ نے اس ممکنہ معاہدے کو اپنی ماضی کی کوششوں سے جوڑا اور کہا کہ جیسے انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کیا تھا، ویسا ہی کچھ اب مشرق وسطیٰ میں بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت امریکا نے تجارت کو بطور دلیل استعمال کیا اور دونوں ممالک کے رہنماؤں سے براہ راست بات کر کے معاملات کو ٹھنڈا کیا۔
ٹرمپ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا، "میں بہت کچھ کرتا ہوں، مگر مجھے کبھی سراہا نہیں جاتا، لیکن عوام سب کچھ سمجھتے ہیں۔"
انہوں نے اپنی صدارت کے دوران سربیا اور کوسووو، نیز مصر اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے دور میں امن کے کئی اقدامات کیے گئے۔
بیان کے اختتام پر ٹرمپ نے نعرہ دیا: "مشرق وسطیٰ کو پھر سے عظیم بنائیں"۔