Wed, September 16, 2026

اسرائیل نے امریکی مدد سے حملہ کیا، جنگ نہیں چاہتے مگر دفاع کریں گے ، ایران

اسرائیل نے امریکی مدد سے حملہ کیا، جنگ نہیں چاہتے مگر دفاع کریں گے ، ایران

تہران: ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس کی جوہری تنصیبات پر حملے امریکا کی مدد سے کیے، اور یہ حملے ایران کی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اسرائیل نے تمام سرخ لکیریں پار کر دی ہیں، اور ایران کو اپنے دفاع میں جواب دینا پڑا۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا، "ہم جنگ کے خواہاں نہیں، مگر اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہماری جوابی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں، اور یہ ہمارا اصولی حق ہے۔"

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی جارحیت کا سنجیدگی سے نوٹس لے، کیونکہ ایران مزید کشیدگی نہیں چاہتا، خاص طور پر ایسی جنگ جو پورے خطے میں پھیل جائے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے اسرائیل کی پشت پناہی کرنے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے پرامن جوہری توانائی حاصل کرنے سے روکے۔

دوسری جانب چین نے ایران کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران کو پرامن جوہری توانائی کا مکمل حق حاصل ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق، وانگ یی نے اسرائیل کو مشورہ دیا کہ وہ فوجی کارروائیاں بند کرے اور خطے میں کشیدگی کو مزید نہ بڑھائے۔ وانگ یی نے اس بات پر زور دیا کہ چین ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گا جو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہو۔

ٹیگز: