Wed, September 16, 2026

پاکستان کی بقاء ہمارا پانی اور صاف ہوا

پاکستان کی بقاء ہمارا پانی اور صاف ہوا

پاکستان اس وقت ڈے ٹوڈے پانی کی کمی اور اس کے ساتھ پیدا ہونے والے مسائل سے دوچار ہے گزشتہ دنوں ہندوستان نے جب سندھ طاس معطل کرتے ہوئے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی پاکستان پر آبی جارحیت کے ساتھ پاکستان کے شہروں، مساجد، مدرسوں پر میزائیل پھینکے۔ جب پاکستان نے جوابی حملہ کیا تو ہندوستان کے چھ لڑاکا طیارے مارگراے جن میں فرانس کے بنے ہوئے رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ پاکستان کی افواج نے ہندوستانی افواج کو اس طرح سے لپیٹا کہ انہوں نے مختلف جگہوں پر سفید جھنڈے لہرا کر پاکستانی فوج کے جنگجوؤں سے صلح کی۔ دوسری طرف ہندوستان کے حکمران یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم پاکستان کا پانی بند کرتے ہیں اور جواب میں پاکستان کے 25 کروڑ عوام یک زبان ہو کر ہندوستانی وزیراعظم مودی کو جواب دیتے ہیں کہ آپ ہمارا پانی بند کریں ہم آپ کی سانسیں بند کر دیں گے اس لیے پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر پاکستان میں پینے کے پانی اور کاشت کاری کرنے کے لیے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے تو ہمیں اس کا حل کیا نکالنا ہے۔ سندھ حکومت کسی بھی صورت میں چولستان کے علاقے کو پانی دینے کے لیے نہریں بنانے پر راضی نہیں ہے جب کہ اقوام عالم کے سروے کے مطابق جب تک حکمران عوام کی سہولت کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈیم نہیں بنائیں گے اس وقت تک ملک کی ترقی کا پہیہ جام رہے گا  آپ خود دیکھیں جب پاکستان کے گھر گھر میں سولر لگ گیا اور واپڈا سے عوام نے بجلی لینا بند کر دی تو حکومت نے موجودہ بجٹ میں سولر پر 17 پرسنٹ ٹیکس لگا دیا ہے۔ 
آئی ایم ایف سے قرض لیتے ہیں اور اپنی 600 گنا اور غریب عوام کی دس فی صد تنخواہ بڑھا کر لالی پاپ دیا جاتا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی مراعات اور تنخواہ میں اضافہ کیا گیا تو میں اپنے حکمرانوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف آپ دہائی دے رہے ہیں کہ ہم جب تک آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیتے ہمارا بجٹ نہیں بنتا دوسری طرف آپ کابینہ کی فوج ظفر موج کو کروڑوں روپیہ ماہانہ ادا کر رہے ہیں۔ پنجاب کی سینئر وزیر محترمہ مریم اورنگزیب صاحبہ پنجاب کی عوام کو صاف ہوا دینے کے لیے اور سانس لینے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہیں اس سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اور انوائرمنٹ کے کارندے حکومتی زور پر ایسے تمام اداروں سے بھتہ لے رہے ہیں جو کہ آلودگی پھیلانے کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔ میری وزیراعظم میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب سے اپیل ہے کہ وہ میرے اس درد بھرے کالم کو اہمیت دیتے ہوئے اس پر عمل کریں اور عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔

ٹیگز: