دنیا مختصر عرصے میں اتنی جنگیں دیکھ لے گی شاید کبھی اس کا گمان کم ہی لوگوں نے کیا ہوگا۔جنگیں وہ بھی اس جدید دنیا میں ؟ یہ سوال اہم ہے لیکن لڑائی انسانی فطرت اور جبلت میں ودیعت کردہ ان اوصاف باطلہ کی نمائندگی کرتی ہے جن سے باز رہنے کو انسانیت کی معراج کہا گیا ہے لیکن انسان انسانیت کی معراج کی بجائے اسفلا سافلین کے گہرے گڑھوں میں گرنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ہم ابھی ہندوستان کی طرف سے مسلط کردہ جنگ سے نکلے نہیں تھے کہ گجرات کے قصائی کے بڑے بھائی فلسطین کے قصائی بنیامین نیتن یاہو نے وہ حرکت ایران پر حملہ کرکے دہرانے میں دیر ہی نہیں لگائی۔ تادم تحریر اسرائیلی حملے کے بعد ایران اپنی بساط بھرفوجی قوت کو استعمال میں لاچکا۔ ایران نے جمعہ کی رات پاکستانی وقت کے مطابق گیارہ بجے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا۔اس حملے میں اسرائیلی دارلحکومت تل ابیب پر میزائلوں کی بارش کی گئی اور اسرائیل کا توقع سے زیادہ نقصان ہوا۔ویسے بھی میں ایرانی حملے میں اسرائیلی نقصان سے زیادہ ایران کی ہمت اور میزائلوں کو اسرائیل تک پہنچانے کی داد دیتا ہوں۔
اس جنگ میں ایران اسرائیل کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔اسرائیل کے پاس امریکہ کی دی ہوئی بھرپور فضائی قوت ہے تو ایران کے پاس لڑنے کا حوصلہ ہے۔دونوں طرف نقصان کا فرق بھی وہی ہے جو زمین اور آسمان کا ہے ۔اسرائیل نے ایران کا بہت زیادہ نقصان کیا ہے۔گوکہ اس حملے کا پوری دنیا کو علم تھا لیکن کسی نے بھی اسرائیل کو روکنا مناسب نہیں سمجھا۔دنیا کے لیے یہ کافی ہے کہ اسرائیلی حملے کے بعدایران اپنے فرجی سربراہوں اور ایٹمی سائنسدانوں کا ماتم منانے کی بجائے جوابی حملے کے لیے اپنی جنگی حکمت عملی بنانے میں مصروف رہا اور کم ترین وقت میں جوابی حملہ کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔ اسرائیلی حملے اور ایرانی نقصانات کے بعد بہت سے تجزیہ کار یہ کہتے پائے گئے کہ ایران کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ ایک ہی آپشن ہے کہ وہ میزائل فائرکرے اور اسرائیل کا ’’ آئرن ڈوم ‘‘ان تمام میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ کرکے کہانی ختم کردے جیسا کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ہم نے دیکھا تھالیکن ایران نے ایسا سوچنے والوں کی توقع کے الٹ پرفارم کیا۔
یہ بات حقیقت ہے کہ ایران کے لیے یہ جنگ ایک مشکل جنگ ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ہزاروں نہیں تو سیکڑوں میل کا فاصلہ ہے۔ یہ جنگ ایک مضبوط فضائی قوت سے ہی لڑی جاسکتی ہے جو ایران کے پاس نہیں ہے اور ایک بات سورج کی طرح حقیقت کہ ہر ملک کو اپنی جنگ خود ہی لڑنی پڑتی ہے۔ دوسرا ملک ہتھیار اور ٹیکنالوجی دے سکتا ہے وہ بھی زمانہ امن میں۔ کوئی ملک جہاز دے سکتا ہے لیکن ان جہازوںکو چلانے اور لڑنے کے لیے پائلٹ اسی ملک کو دینا پڑتے ہیں جو جنگ لڑ رہا ہو۔ پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کی مثال تو ابھی کل کی بات ہے ۔ہمارے پاس بھی جہاز چین کے ہیں دوسری طرف بھی جہاز روس اور فرانس کے ہیں لیکن پائلٹ دونوں ملکوں کے اپنے اپنے ہیں اور اصل مقابلہ جہازوں کا نہیں پائلٹوں کا ہی ہوتا ہے کم ازکم ہمارے پائلٹوں نے تو ہمیں یہی کچھ دکھایا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کی جنگ فوری سیز فائر پر پہنچ گئی کیونکہ دنیا جانتی تھی کہ یہ مکمل تباہی کی جنگ ہوگی لیکن کیا ایران اسرائیل جنگ بھی ایسے ہی جلد ختم ہوجائے گی یہ سوال اہم ہے ۔
اس ایران اسرائیل جنگ پر بہت سے سوال ہیں لیکن دو سوال انتہائی اہم ہیں ۔ایک سوال تو وہی ہے کہ اس جنگ کا بنے گا کیا کیا یہ جنگ پاک بھارت کی طرح جلد سمٹ جائے گی یا روس یوکرین کی طرح سالوں پر محیط ہوجائیگی جبکہ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بیٹھے بٹھا ئے آخر کس بات کی تکلیف ہوئی کہ اس نے ایران پر حملہ کردیا۔دونوں سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ جنگ کیوں مسلط کی گئی ؟ اس حملے کا جواز تلاش کرنے کے لیے ہمیں اسرائیل کی اندرونی سیاست اور امریکی عزائم کی طرف جانا پڑے گا۔اس وقت فلسطینیوں کے قاتل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اپنے ملک میں سیاسی حالت بہت ہی پتلی ہے۔ ایران پر حملے کے ایک دن پہلے اس کیخلاف عدم اعتماد کی کارروائی ہوئی جس میں وہ صرف دو ووٹوں سے بچ پایا تھا اور اپوزیشن نے اعلان کیاتھا کہ وہ کل یعنی جمعہ کے دن دوبارہ عدم اعتماد لائیں گے اور ووٹنگ ہو گی۔ بنیامین نیتن یاہوکو یقین تھا کہ وہ دوسرے راؤنڈ میں بچ نہیں پائے گا اور اس کی حکومت گر جائے گی۔ میرے نزدیک یہ وجہ ایران پر حملے کے لیے کافی تھی۔ ماحول وہ دو تین دن سے بنا ہی رہا تھاصرف اپنے ابا جی (امریکا) سے اجازت لینی تھی جو اس نے جمعرات کو امریکی صدر کو فون کرکے لے لی اور رات کو ایران پر دوسو جنگی جہازوں کے ذریعے حملہ کر دیا۔ اس نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی اس طرح اس کی حکومت کو جس سیاسی بحران کا سامنا تھا وہ وقتی طورپر ٹل گیا اور اس جنگ میں اس نے جتنا نقصان ایران کا کردیا ہے وہ اس کے مزید اقتدار کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور فائدہ لینا بھی ہوسکتا ہے جس کا اظہار جمعہ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کردیا کہ ایران فوری جوہری معاہدہ کرلے ورنہ وہ زندہ ہی نہیں بچے گالیکن یہ حملہ اگر ایران کو زبردستی کوئی معاہدہ کروانے کے لیے تھا تو اس میں ناکامی ہونی تھی جو ہوچکی کیونکہ ایران عین جنگ کے درمیان ایسے کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔
اب آتے ہیں دوسرے اہم سوال کی طرف کہ کیا یہ جنگ آسانی سے ختم ہوجائے گی یا طویل ہوکر اس پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے یا تیسری جنگ عظیم ہوسکتی ہے؟بہت سے لوگ ایسا کہہ اور سوچ رہے ہیں کہ جنگ طویل ہوسکتی ہے لیکن میرے تجزیے کے مطابق یہ جنگ طویل نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ طویل ہوئی تو پورا مشرق وسطیٰ اس سے متاثر ہو گا۔ سعودی عرب متاثر ہو گا پھر ایران بھی اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا۔ یمن کی جنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی اور ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے پیچھے جانے کی کوشش کرے گا جو کہ ظاہر ہے کسی نہ کسی عرب ملک میں ہیں یا پھر خلیج میں۔ ایسی صورت میں امریکا بھی اس جنگ کو فوری رکوانے کے لیے آئے گااور کل عین اس وقت جب ایران نے جوابی حملہ کیا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی شہزادے محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس بات چیت کا مرکزی نقطہ بھی یہی تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ نہیں امن ہونا چاہئے۔
ویسے تو ایران بہت غصے میں ہے اور اس کا غصہ بنتا بھی ہے اسرائیل بھی اسی طرح کے نعرے ماررہا ہے کہ وہ یہ جنگ مقاصد حاصل کرنے تک جاری رکھے گا لیکن یہاں بنیادی فرق ہے کہ ایران ایک منظم ملک ہے۔ ایران فلسطین جیسا کمزور اور حزب اللہ جیسی کوئی تنظیم نہیں ہے ۔ایران ایک ملک ہے جس کے پاس ایٹمی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اب تک اسرائیل نے مسلح تنظیموں کے ساتھ جنگ لڑی ہے لیکن کسی ملک کے ساتھ جنگ کرنا بحرحال مشکل ٹاسک ہوتا ہے ہم تین سال سے روس اور یوکرین کی جنگ دیکھ رہے ہیں جس میں روس یوکرین کو قابو کرنے میں ناکام ہے۔ اس لیے ٹرمپ اسرائیل کو حکم دے گا اور دوسری طرف عرب قیادت اور پاکستان ایران کے ساتھ بات چیت کرکے امن کی طرف بڑھیں گے۔