Wed, September 16, 2026

پی آئی اے کی نجکاری سے 10 ارب وصول، مزید 45 ارب روپے ملنا باقی

پی آئی اے کی نجکاری سے 10 ارب وصول، مزید 45 ارب روپے ملنا باقی

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل کے تحت وفاقی حکومت کو اب تک 10 ارب روپے وصول ہو چکے ہیں، جبکہ باقی 45 ارب روپے 25 فیصد شیئرز کی منتقلی مکمل ہونے کے بعد ادا کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل طے شدہ معاہدے کے مطابق جاری ہے اور اس میں شامل تمام شرائط پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ایئرلائن کے 100 فیصد حصص کی فروخت کے عوض حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں اب تک 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ مزید 45 ارب روپے بھی کمپنی میں شامل کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے طیاروں کی خریداری ایک مرحلہ وار عمل ہے، اس لیے چند ہفتوں میں اس کی تکمیل ممکن نہیں۔

مشیر نجکاری کے مطابق 30 جون 2025 تک پی آئی اے کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 191 ارب 534 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ ادارے کے مجموعی واجبات 182 ارب 430 کروڑ روپے تھے۔ ان واجبات میں ملازمین کی پنشن سے متعلق 30 ارب 342 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے خدمات انجام دینے والے مالیاتی مشیر کی فیس ایک ارب 90 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، جس میں سے اب تک ایک ارب 70 کروڑ روپے ادا کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی 20 کروڑ روپے جلد ادا کیے جائیں گے۔

کمیٹی کی رکن سحر کامران نے 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق وضاحت طلب کی، جس پر محمد علی نے کہا کہ سرمایہ کار کی جانب سے رقم جمع کراتے ہی اس کے مطابق شیئرز منتقل کر دیے گئے تھے۔

اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ممکنہ سرمایہ کاروں کی جانچ پڑتال جاری ہے، جبکہ مالیاتی مشیر کے طور پر سٹی بینک کی تقرری زیر غور ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بولی کے عمل میں تین اداروں نے حصہ لیا تھا، تاہم ابتدائی جانچ کے بعد سٹی بینک کو شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے۔
 
 

ٹیگز: