Wed, September 16, 2026

جولائی چارٹر، جین زی اور بنگلہ دیش کے انتخابات

جولائی چارٹر، جین زی اور بنگلہ دیش کے انتخابات

چوپال سجی ہوئی تھی، چپ سائیں اخبار کا مطالعہ کررہے تھے، سب منتظر تھے کہ چپ سائیں اخبار سے نظرہٹائیں اور حالات حاضرہ پر تبصرہ کریں۔ چپ سائیں نے کچھ دیر اخبار کا مطالعہ کیا اوراس کے بعد اخبار سائیڈ پر رکھ دیا۔ نتھو اور پھتو نے ہمت کرکے پوچھا سائیں جی بتائیں کہ ملکی اور غیر ملکی سیاست کیا کہتی ہے۔ اس پر چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور کہا کہ بھئی دوستو! سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں انتخابات ہوگئے ہیںاوراس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ نئی نسل جن کو جین زی کہاجاتا ہے انہوں نے ” جولائی چارٹر“ کے تحت پہلے ریفرنڈم کرایا اوراس کے بعد انتخابات میں اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ نئی نسل کیا چاہتی ہے؟۔۔ یہ سن کر نتھو ، پھتو اور چاچا رفیق بیک زبان بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔۔ یہ جولائی چارٹر کیا تھا؟ اس بارے میں ہی کچھ بتادیں تاکہ ہم بھی اپنی نئی نسل کو کچھ سکھاسکیں۔۔۔ اس پر چپ سائیں خاموش ہوگئے اور کچھ دیر کے بعد گویا ہوئے۔۔۔
صاحبو!بنگلہ دیش کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں ’جولائی چارٹر‘ اور ’جین زی‘ کا رشتہ جسم اور روح جیسا ہے۔ یہ چارٹر محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اس نوجوان نسل کے خون، پسینے اور خوابوں کی تعبیر ہے جس نے 2024 میں دنیا کو حیران کر دیا تھا۔بنگلہ دیش کی ”جین زی“ نے ثابت کیا کہ وہ صرف ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہیں۔ جب 2024 میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج شروع ہوا، تو یہ یہی نوجوان تھے جنہوں نے 15 سالہ آہنی گرفت والے اقتدار کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود پراکسیز اور دیگر ذرائع سے دنیا کو بنگلہ دیش کے حالات سے باخبر رکھا۔انہوں نے روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے اپنے ”سٹوڈنٹ لیڈرز“ پر بھروسہ کیا، جس نے تحریک کو ایک خالص عوامی رنگ دیا۔
جولائی چارٹر کے 84 نکات دراصل ان مطالبات کی قانونی شکل ہیں جو ڈھاکہ کی سڑکوں پر دیواروں پر لکھی گئی گرافٹی میں نظر آتے تھے۔جین زی کا سب سے بڑا غصہ ”کوٹہ سسٹم“اور ”اقربا پروری“ پر تھا۔ چارٹر میں شامل سرکاری ملازمتوں میں 
اصلاحات اور شفافیت کے نکات براہ راست نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہیں۔
یہ نسل ایک ایسے نظام میں بڑی ہوئی جہاں انہوں نے صرف ایک ہی حکمران کو دیکھا تھا۔ جولائی چارٹر میں وزیراعظم کی مدت کی حد مقرر کرنا اس بات کی ضمانت ہے کہ اب کوئی دوسرا شخص ان کے مستقبل پر دہائیوں تک قابض نہیں رہ سکے گا۔چارٹر میں گورننس کو ڈیجیٹلائز کرنے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے جو تجاویز دی گئی ہیں، وہ ”ٹیک سیوی“جین زی کی خواہشات کے عین مطابق ہیں، جو فائلوں کے بجائے کلک پر کام دیکھنا چاہتے ہیں۔12 فروری کے ریفرنڈم میں جو 70 فیصد مثبت ووٹ آئے، ان میں سب سے بڑا حصہ نوجوان ووٹرز کا تھا۔ لاکھوں نوجوانوں نے پہلی بار ووٹ ڈال کر اس چارٹر کو قانونی تحفظ دیا۔بنگلہ دیش میں جین زی نے ثابت کیا کہ وہ صرف سڑکوں پر احتجاج کرنا نہیں جانتے بلکہ بیلٹ باکس کے ذریعے نظام بدلنے کا شعور بھی رکھتے ہیں۔
طارق رحمان کی ممکنہ وزیراعظم کے طور پر آمد اور بی این پی کی جیت کے بعد، جین زی کا کردار مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ہوگا۔ نوجوان نسل اب نئی حکومت کو بھی ”ہنی مون پیریڈ“ دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جولائی چارٹر کے 84 نکات پر فوری عمل ہو۔ چارٹر میں نوجوانوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی بڑھانے کی جو بات کی گئی ہے، اس سے توقع ہے کہ مستقبل میں بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں جین زی کے نمائندے براہ راست قانون سازی کرتے نظر آئیں گے۔
نتھو، پھتو اور چوپال کے دوستو!، آج کل کے بچے ہم سے زیادہ سمجھدار ہیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ان کی گاہے گاہے رہنمائی بھی کرتے رہنا چاہئے تاکہ یہ گمراہ ہونے اور غلط راستے پر چلنے سے بچیں۔ دوستو!بنگلہ دیش کا ’جولائی چارٹر‘ دراصل ’جنریشن زی‘ کا وہ قرض ہے جو ریاست کو اب ادا کرنا ہے۔ یہ نوجوان اب ”رعایا“ بن کر نہیں بلکہ معزز شہری بن کر جینا چاہتے ہیں۔ اگر یہ چارٹر ناکام ہوتا ہے، تو بنگلہ دیشی جین زی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دوبارہ سڑکوں پر آنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ چارٹر کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ طاقت صرف ڈھاکہ (سیکرٹریٹ) تک محدود نہ رہے۔ نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو خود مختار بنایا جائے تاکہ مقامی مسائل وہیں حل ہوں۔ جین زی کا سب سے بڑا گلہ یہ تھا کہ نوکریاں صرف ”سیاسی وفاداری“ کی بنیاد پر ملتی ہیں۔ چارٹر میں وعدہ کیا گیا ہے کہ میرٹ کو 100 فیصد یقینی بنایا جائے گا اور کوٹہ صرف معذوروں یا پسماندہ اقلیتوں کے لیے ہوگا، سیاسی وابستگی کے لیے نہیں۔ شیخ حسینہ دور کے ’ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ‘ جیسے کالے قوانین، جو نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال ہوتے تھے، ان کو مکمل طور پر ختم یا تبدیل کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی نوجوانوں نے روایتی سیاست دانوں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ کار اپنایا، جو اس چارٹر کی کامیابی کی وجہ بنا۔دوستو! اگر کسی نے کچھ سیکھا ہے تو ڈھاکہ کی دیواریں اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ”اوپن ایئر آرٹ گیلری “ بن چکی ہیں۔ ان گرافٹیز میں جو نعرے لکھے گئے ( اصلاح نہیں، انقلا ب ۔۔۔ہمیں ایک نیا بنگلہ دیش چاہیے)، وہی نعرے اب جولائی چارٹر کا حصہ ہیں۔ جین زی نے کسی ایک بڑے لیڈر کے پیچھے چلنے کے بجائے ”کوآرڈینیٹرز“ کا نظام بنایا ہے۔ یہ نوجوان اب طارق رحمان یا کسی بھی نئے حکمران کو” بلینک چیک یا مکمل آزادی“ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر ہر منٹ کی کارکردگی کا حساب مانگ رہے ہیں۔قابل غور اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب 70 فیصد عوام نے ’ہاں‘ کہا ہے، تو اس کا مطلب ہے اب کوئی بھی آنے والی حکومت اس چارٹر کو محض ایک ”سیاسی وعدہ“ کہہ کر ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈال سکے گی کیونکہ اسے عوامی ریفرنڈم کی پشت پناہی حاصل ہے۔
نوجوانوں کو نظام کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی ہیں، بیوروکریسی کی طرف سے مزاحمت ہوگی یعنی پرانا نظام چلانے والے افسران ان انقلابی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔سیاسی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ معاشی دبا¶ کو توفراموش نہیں کیاجاسکتا، اگر نئی حکومت نے مہنگائی پر قابو نہ پایا، تو یہی جین زی جو آج چارٹر کے حق میں ہے، دوبارہ سڑکوں پر آ سکتی ہے۔بنگلہ دیش کی جین زی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اب ”سیاسی ایندھن“ کے طور پر استعمال ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔صاحبو! ’جولائی چارٹر‘ اس نسل کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر اب نئے وزیراعظم طارق رحمان کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔

ٹیگز: