چودہ اگست ہمارے لیے صرف کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں۔ یہ وہ دن ہے جب ایک خواب نے حقیقت کا روپ دھارا، ایک قوم نے آزادی حاصل کی اور دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا۔ آزادی کے اس سفر میں بری، فضائی اور بحری افواج نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ ہماری قومی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی ساخت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہماری سرحد صرف پہاڑوں، میدانوں اور دریاو¿ں تک محدود نہیں۔ جنوب میں بحیرہ عرب ہماری ایک اہم قدرتی سرحد ہے۔ کراچی اور گوادر جیسی بندرگاہیں، سمندری تجارت، درآمدات و برآمدات، توانائی کی ترسیل اور مستقبل کی بلیو اکانومی سب سمندر سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے پاکستان نیوی کی ذمہ داری صرف جنگ کے زمانے میں سمندری حدود کی حفاظت تک محدود نہیں؛ امن کے زمانے میں بھی یہ قومی معیشت کی شہ رگ کی حفاظت کا اہم فریضہ انجام دیتی ہے۔
14 اگست 1947ءکو پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی پاکستان نیوی کا سفر شروع ہوا۔ آزادی کے وقت ہمارے حصے میں ایک بڑی اور جدید بحری قوت نہیں آئی تھی۔ محدود بحری جہاز، محدود تنصیبات، وسائل کی کمی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کا فقدان ایک نئے ملک کے لیے بڑا چیلنج تھا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف وسائل سے طاقتور نہیں بنتیں؛ عزم، نظم و ضبط، تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانی انہیں طاقتور بناتے ہیں۔
پاکستان نیوی نے انہی اصولوں پر اپنے سفر کا آغاز کیا اور چند دہائیوں میں ایک ایسی بحری قوت بن کر سامنے آئی جس نے نہ صرف جنگ کے میدان میں اپنی صلاحیت منوائی بلکہ سمندری سلامتی، بین الاقوامی امن، ہائیڈروگرافی، تربیت، انسانی امداد، تحقیق اور قومی آگاہی کے شعبوں میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو وسعت دی۔
1965ءکی جنگ پاکستان نیوی کی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔ محدود وسائل کے باوجود پاک بحریہ نے آپریشن دوارکا کے ذریعے اپنی جنگی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس کارروائی نے واضح کیا کہ پاکستان کی بحری قوت دشمن کے ساحلی دفاع کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس وقت وسائل آج جیسے نہیں تھے، لیکن پیشہ ورانہ تیاری، منصوبہ بندی اور جذبہ موجود تھا۔
1965ءکی جنگ میں آبدوز غازی کی موجودگی بھی بھارتی بحریہ کے لیے ایک اہم دباو¿ تھی۔ سمندر میں ایک آبدوز کی موجودگی محض ایک جنگی جہاز کی موجودگی نہیں ہوتی بلکہ وہ دشمن کی پوری بحری حکمت عملی کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ پاکستان نیوی نے اسی صلاحیت کو مو¿ثر انداز میں استعمال کیا۔
پھر 1971ءکا مشکل اور المناک دور آیا۔ پاکستان کے لیے یہ جنگ قومی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نیوی کے افسران اور جوانوں نے بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
آبدوز غازی کا انجام آج بھی پاکستان نیوی کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ ایک خطرناک مشن پر جانے والی اس آبدوز کے افسران اور جوان سمندر کی تہہ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ جنگ کے میدان میں کچھ قربانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ غازی اور شہداءبھی انہی قربانیوں کی علامت ہیں۔
1971ءہی میں آبدوز ہنگور نے وہ تاریخی کارروائی انجام دی جس نے پاکستان نیوی کی جنگی تاریخ میں ایک الگ مقام پیدا کیا۔ 9 دسمبر 1971ءکو ہنگور نے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس ک±کری کو تارپیڈو حملے میں نشانہ بنایا۔ ہنگور کے عملے نے پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی بحریہ کی عظمت صرف اس بات سے طے ہوتی ہے کہ اس نے کتنی جنگیں لڑیں؟
میری نظر میں جواب نفی میں ہے۔اصل عظمت یہ ہے کہ جنگ نہ ہو تو بھی دفاع مضبوط رہے، تجارت محفوظ رہے، سمندری راستے کھلے رہیں، ساحلی آبادیوں کو مدد ملے اور عالمی امن کے لیے بھی اپنا کردار ادا کیا جائے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پاکستان نیوی کے کردار کو صرف جنگی قوت کے تصور سے آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آج دنیا کی معیشت میں سمندر بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی تجارت کا ایک بہت بڑا حصہ سمندری راستوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ پاکستان بھی اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے سمندر پر انحصار کرتا ہے۔ ہماری بندرگاہیں اور سمندری راستے جتنے محفوظ ہوں گے، ہماری معیشت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔
یہاں پاکستان نیوی کی میری ٹائم سکیورٹی کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔ بحری قزاقی، دہشت گردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری اور دیگر سمندری جرائم ایسے خطرات ہیں جو صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے چیلنج ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
پاکستان نیوی نے عالمی میری ٹائم سکیورٹی کے لیے مختلف بین الاقوامی اقدامات اور مشترکہ بحری سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ بحرِ ہند میں محفوظ سمندری ماحول پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ہماری تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے وابستہ ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان نیوی کی امن مشقیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ امن مشقوں کا تصور صرف جنگی مشق کا تصور نہیں بلکہ امن، تعاون اور باہمی اعتماد کا پیغام ہے۔ مختلف ممالک کی بحری افواج کا کراچی میں اکٹھا ہونا، مشترکہ مشقیں کرنا، ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا اور بحری دہشت گردی و قزاقی جیسے خطرات کے خلاف تعاون کو فروغ دینا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان سمندر کو محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ (جاری ہے)