Wed, September 16, 2026

پٹرولیات

پٹرولیات

عنوان پڑھ کر یہ مت سمجھئے گا کہ ہم کوئی ماہر تعلیم ہیں اور تدریسی نصاب میں کوئی نیا مضمون متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ کیونکہ اپنے یہاں بہت سے نصابی مضامین کے نام اسی طرح کے ہیں جیسے معاشیات، طبیعات، حیاتیات اور عمرانیات وغیرہ۔ زیر نظر کالم کا عنوان پٹرولیات اس لیے رکھا گیا ہے کہ آج اس میں پٹرول کے فضائل، اس کے حصول کے لیے درکار وسائل اور اس جدوجہد سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ خیال یوں آیا کہ وطن عزیز میں پٹرول اور اس نوع کی دیگر مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور ان کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے کے بعد اب وہ اس سطح پر پہنچ چکی ہیں جسے ”ہوش رُبا“ کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ 
یہ سطورچھپنے تک پٹرول کی قیمت تین سو اسی روپے کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ رواں سال فروری کے اختتام پر امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے وقت یہ قیمت تقریباً دو سو پچپن روپے تھی۔ یوں گزشتہ صرف چھ ماہ کے عرصے کے دوران پٹرول کی قیمت میں ایک سو پچیس روپے کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے اتنا اضافہ چھ سال میں بھی نہیں ہوتا تھا۔ پٹرول کی قیمت میں اس قدر سرعت کے ساتھ اضافے نے حقیقی معنوں میں عوام کی چیخیں نکلوا کر رکھ دی ہیں۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے بھی ان چیخوں کی نمائندگی کرنے کے لیے مختلف شہروں میں دھرنا دے رکھا ہے۔ عوام کی ان چیخوں کی بازگشت اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچی ہے، جبھی تو وزیر اعظم نے موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے ایک لٹر پر ایک سو روپے ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔ 
ابتدائیے میں پٹرول کے فضائل، وسائل اور مسائل کا ذکر ہوا تو ان تینوں چیزوں کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے ہیں۔ فضائل کی بات کی جائے تو پٹرول کا شمار اس وقت زندگی کی بنیادی ترین ضرورتوں میں ہوتا ہے۔ اس وقت زندگی کی بنیادی ترین ضرورتیں تین ہیں۔ تینوں کی درجہ بندی کی جائے تو آدمی کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو پہلے اور کسے آخری نمبر پر رکھے۔ اس لیے ہم انہیں ان کی اہمیت کی بجائے حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دیں تو صورت یوں بنتی ہے کہ بجلی پہلے، پٹرول دوسرے اور گیس تیسرے درجے پر آتی ہے۔ یہی تینوں چیزیں ہیں جن پر عوام الناس کی سب سے زیادہ کمائی خرچ ہوتی ہے اور ان تینوں چیزوں کا کنٹرول حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب چاہتی ہے ان کے نرخ بڑھا دیتی ہے اور جیسے چاہے انہیں لوگوں تک پہنچاتی ہے، چاہے کسی کی ان سے ضرورت پوری ہو یا نہ ہو۔ بجلی سہولت کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے بہت ضروری ہے تو پٹرول نقل و حمل کے لیے ناگزیر ہے اور گیس کھانے پکانے کے لیے اہم ترین چیز ہے۔ یہ تینوں ایسی چیزیں ہیں جن کا اس ملک میں ہر شخص ہی صارف ہے۔
پٹرول استعمال کیے بغیر کوئی شخص آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتا حتیٰ کہ اپنے کام یا روزگار کے حصول کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پٹرول آج کے دور کی سب سے بڑی برکت ہے کیونکہ حرکت میں برکت ہے اور پٹرول حرکت کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرول اس قدر مہنگا ہونے کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک میں کوئی کمی نظر نہیں آتی کیونکہ جسے کہیں جانا ہو، جا کر ہی رہتا ہے، اس کے بغیر بات نہیں بنتی۔
پٹرول کے فضائل کے بعد بات کرتے ہیں وسائل کی جو اس بنیادی ترین ضروری کے حصول کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اس وقت ان وسائل کا حصول ہی لوگوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ لوگ کبھی چیخیں نہ ماریں، اگر پٹرول کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی آمدن میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوتا رہے۔ آج سے چھ ماہ قبل امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا آغاز ہونا شروع ہوا تو اس وقت بیشتر لوگوں، بالخصوص ملازمت پیشہ افراد کی جو ماہانہ اجرت یا آمدن تھی، آج چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی اتنی ہی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت میں ایک سو پچیس روپے کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح اگر کوئی شخص مہینے کی چار یا پانچ چھٹیاں نکال کر باقی ماندہ پچیس دنوں میں ایک لٹر روزانہ کے حساب سے پچیس لٹر پٹرول استعمال کرتا ہے تو اسے اپنی چھ ماہ پہلے والی آمدن میں سے کم و بیش تین ہزار روپے اضافی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اگر ایک گھر کے ایک سے زیادہ افراد الگ الگ موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتے ہیں تو یہ رقم اتنے گنا ہی بڑھ جاتی ہے یعنی کسی گھرانے کی مجموعی آمدن میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا لیکن اس کے صرف پٹرول کے اخراجات میں اچھا خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔ یقینا وہ گھرانہ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے اپنے دیگر اخراجات میں کمی کرے گا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے فضائل کی حامل چیز کے حصول کے لیے وسائل کم پڑ گئے ہیں اور وسائل کم پڑنے سے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ 
آخر میں ان مسائل پر کچھ بات ہو جائے جو پٹرول کے بے تحاشا مہنگا ہونے سے پیدا ہو رہے ہیں۔ اب تک تو ہم نے انفرادی طور پر پٹرول استعمال کرنے والوں کی بات کی جو پٹرول مہنگا ہونے سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ اب کچھ ذکر ہو جائے پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اجتماعی اثرات کا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے کرائے بھی مسلسل بڑھتے چلے جا رہے ہیں جن کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی کوئی استحکام نہیں ہے۔ آج ایک چیز کی قیمت کچھ ہے تو اگلے روز بڑھ کر کچھ ہو چکی ہوتی ہے۔ عام آدمی کو ایک طرف تو اپنی نقل و حرکت ممکن بنانے کے لیے دیگر گھریلو اخراجات میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔ اوپر سے ہر چیز کی قیمت بڑھنے کے نتیجے میں روز مرہ اشیا کی مقدار بھی گھٹانا پڑ رہی ہے۔ کسی نے اپنی اور خاندان کی صحت کی پروا نہ کرتے ہوئے خوراک کے بجٹ کو کم کر لیا ہے تو کوئی اپنے بچوں کی تعلیم پر سمجھوتہ کرتے ہوئے انہیں سکول سے اٹھانے پر مجبور ہے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں کے پاس اپنے کسی بیمار بزرگ کو دواو¿ں سے محروم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ 
اسی صورت حال کے پیش نظر مختلف عوامی حلقوں کی جانب سے وزیر اعظم کے پٹرول ریلیف کو ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔ اوپر سے اس کے حصول کا طریقہ کار اتنا پیچیدہ ہے کہ ہر کس و ناکس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نظر نہیں آ رہا بلکہ اس قسم کی سکیموں سے بھی مراعات یافتہ طبقہ ہی فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ لوگ حکومت سے مطالبہ کرتے نظر آ رہے ہیں کہ انہیں پٹرولیم مصنوعات میں نہ صرف سادہ اور آسان طریقے سے ریلیف فراہم کیا جائے بلکہ مہنگائی کے طوفان میں کمی لانے کے لیے بھی ٹھوس اور مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔

ٹیگز: