Wed, September 16, 2026

نئے صوبوں کی بحث !

نئے صوبوں کی بحث !

نئے صوبوں کی جو بحث 30 جولائی کو وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان سے شروع ہوئی تھی ، وہ اب کافی آگے بڑھ چکی ہے۔ اس عرصہ میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔کچھ دن خاموش رہنے کے بعد پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر واضح موقف اختیار کیا ہے۔ اس ضمن میں سندھ کی صوبائی اسمبلی میں دھواں دھار تقاریر ہوئیں۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ خوب گرجے برسے۔، صدر زرداری کی ہمشیرہ محترمہ فریال تال پور اور دیگر اراکین نے بھی اپنا موقف پیش کیا۔ لب لباب ساری تقاریر کا یہ تھا کہ سندھ کی تقسیم پیپلز پارٹی کو کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس گرما گرمی کے ہنگام وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک اور بیان داغ دیا۔ واضح کیا کہ ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں ہے، بلکہ جو کچھ غلط ہے اسے درست کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے انتظامی یونٹس عوام کی خواہش اور سیاسی اتفاق رائے سے بننے چاہیں۔اعلان کیا کہ نوکری جاتی ہے تو جائے، نئے صوبے اور انتظامی یونٹس تو بن کر رہیں گے۔ پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے جواباً کہا کہ پھر محسن نقوی کی نوکری ہی جائے گی۔ صدر آصف علی زرداری لندن گئے تو وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان سے ملاقات کی ۔ ذرائع کے توسط سے جو اطلاعات سامنے آئیں ان کے مطابق زرداری صاحب نے محسن نقوی کو دو ٹوک پیغام دیا کہ پنجاب کی تقسیم میں حمایت کریں گے ، تاہم سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ 
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اس سارے منظر نامے میں خاموش تھی۔ اس کی طرف سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔ صحافتی حلقوں میں یہ بات ہوتی رہی کہ مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ وہ خاموش رہے اور پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے حمایتیوں سے یہ لڑائی لڑے۔سیاسی اور صحافتی حلقوں میں تاثر ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نئے صوبوں کی حامی نہیں ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کو صوبوں کی تشکیل پر زیادہ اعتراض نہیں ۔ غالباً اس وجہ سے مسلم لیگ (ن) نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس ہنگام میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے صحافیوں کیساتھ ایک نشست میں کہا کہ اگر بلدیاتی حکومتوں کا نظام قائم ہوتا اور عوام کو ڈلیور کر رہا ہوتا تو نئے صوبوں کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس معاملے پر بحث ہونی چاہیے۔ حمزہ شہباز کوئی عام سیاسی لیڈر نہیں ہیں۔ یہ شریف خاندان کے اہم رکن ہیں، جو عشروں سے پارٹی کارکنان اور اراکین سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اس بیان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مطلب یہ کہ خود مسلم لیگ ن میں ایک مضبوط دھڑا نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا حامی ہے۔ حمزہ شہباز کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 12 سے 15 نئے صوبوں کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس ضمن میں بحث کیلئے کوئی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ خواجہ آصف نے بھی نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کی تاہم اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تقسیم لسانی یا نسلی بنیادوں کے بجائے انتظامی اور قومی مفاد کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگلے دن مسلم لیگ (ن) کے وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خبر دی ہے کہ پارلیمان میں اکتوبر کے مہینے میں یہ بحث متوقع ہے۔ نئے صوبوں کے حوالے سے تحریک انصاف نے ابھی تک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ ماضی میں یہ جماعت اور ان کے سربراہ عمران خان جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کر چکے ہیں۔ تاہم موجودہ بحث میں یہ جماعت کسی ایک طرف اپنا وزن نہیں ڈال رہی۔ چند دن پہلے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب کی تقسیم پر راضی ہے تاہم سندھ کی تقسیم اسے منطور نہیں۔ جبکہ ایم ۔کیو۔ ایم کراچی کو صوبہ بنانا چاہتی ہے۔ اے ۔این ۔پی ہزارہ صوبہ نہیں بنانا چاہتی۔ تحریک انصاف جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس گنجلک صورتحال میں اتفاق رائے کیسے ممکن ہو گا۔
اب ایک طرف یہ معاملہ سیاسی سطح پر زیر بحث ہے اور دوسری طرف ٹی وی ٹاک شوز کا موضوع بھی بنا ہوا ہے۔ کچھ نجی جامعات اور پلیٹ فارموں نے بھی اس موضو ع پر مذاکروں کا اہتمام کیا ہے۔ اب بقول طارق فضل چوہدری یہ معاملہ پارلیمانی بحث کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ چند ہفتے قبل شائع ہونے والے کالم میں ، میں نے اپنا طالب علمانہ نکتہ نظر پیش کیا تھا۔ چند سوالات بھی اٹھائے تھے۔ یہ نقطہ نظر اور سوالات ابھی تک موجود ہیں۔ اس کالم میں ایک مرتبہ پھر انہیں پیش کر رہی ہوں۔ 
" نیا صوبہ بنانے کیلئے سیاسی اور قومی اتفاق رائے لازمی امر ہے۔ اصولی طور پر نئے صوبے بنانے یا نہ بنانے کا معاملہ کسی فرد، سیاسی جماعت یا کسی گروہ کی ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے۔ نئے صوبے بنانے کا مقصد کسی جماعت کو کمزور کرنا ہے۔ اپنے پسندیدہ افراد یا خاندانوں کو مضبوط بنانا یا انہیں نوازنا ہے۔ کسی کے شوق یا ضد کو پورا کرنا ہے تو بہتر ہے کہ نظام کو جوں کا توں رہنے دیں۔ مطمع نظر اگر گورننس کے کی اصلاح احوال اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانا ہے ، تو نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں پر بات ہوسکتی ہے۔ 
اس قضیے میں تفہیم کا پہلو یہ ہے کہ نئے صوبے نقشے پر لکیریں کھینچنے کا نام نہیں ہے۔ اس کی اصل روح اقتدار اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اس کا مطلب سیاسی نمائندگی اور شناخت ہے۔ اس کا مطلب متعلقہ انتظامی حصے میں بسنے والے عوام کی سہولت کا اہتمام اور مسائل کا حل ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانے سے یہ سارے اہداف حاصل ہو جائیں گے؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو ہم سب کو نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کرنی چاہیے۔ پاکستان کی آبادی کم و بیش 24 کروڑ ہے۔ پنجاب کی تقریبا 13 کروڑ ، جبکہ سندھ کی 6 کروڑ ہے۔ یہ بات ہم اکثر سنتے ہیں کہ صرف پنجاب کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے بارے میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا ایک ہی صوبائی دارلحکومت کی موجودگی میں تمام شہروں اور علاقوں کے مسائل کی موثر طور پر نگرانی اور ان کا حل کیا جا سکتا ہے۔ ؟ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹوں میں نگرانی اور فیصلہ سازی کرنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ حکمران یا منتظم عوام کے مسائل پر پوری طرح نگاہ رکھ سکتے ہیں۔
 تاہم اس بحث کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ کیا واقعتا کم آبادی والا یونٹ ہی مسائل کا حل ہے؟ صوبہ بلوچستان کی مثال لیجئے۔ اس کی آبادی تقریبا ڈیڑھ کروڑ ہے۔ تو کیا اس کے شہریوں کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں؟ خیبر بختونخواہ کی آبادی بھی 4 کروڑ ہے تو پھر آبادی کے لحاظ سے اس کے شہریوں کے مسائل بھی پنجاب یا سندھ کی نسبت کم ہونے چاہییں۔ تاہم ایسا نہیں ہے۔ در حقیقت عوام کے مسائل کا حل اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اہل اقتدار گورننس بہتر بنائیں۔ وسائل کا استعمال اس عمدگی سے کریں کہ سرکاری وسائل اور فنڈز اللوں تللوں کے بجائے ، عوام الناس کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں۔کیا گارنٹی ہے کہ نئے صوبوں میں ایسا ہی ہو گا۔ اس بات کو کون یقینی بنائے گا کہ نئے صوبے بننے کے بعد چند سیاسی خاندان، بیوروکریسی کا ایک مخصوص طبقہ، ہی اختیارات کا مالک نہیں بن بیٹھے گا؟

ٹیگز: