Wed, September 16, 2026

میزائل سے قرارداد تک

میزائل سے قرارداد تک

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں 2ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی۔اس موضوع کے متعلق آرٹیکل ،،دی گارڈین(the guardian)نے بھی شائع کیا جس میں اس قرارداد کے متعلق روشنی ڈالی ۔
جنرل اسمبلی نے دو ریاستی حل کی قرارداد کی اہمیت اور عالمی ردعمل پر روشنی ڈالی مگر اس کالم میں کچھ موجودہ اور آنے والے وقت میں ہونے والے چند اہم فیکٹس بتانا چاہوں گی،دو ریاستی حل کی قرارداد کو 142ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظورکر لیا اور 10ممالک نے مخالفت کی اور 12نے ووٹ نہیں دیا۔قرارداد سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں ہونے والی اقوام متحدہ کانفرنس کے نتائج پر مبنی ہے اور عالمی رہنمائوں کی آئندہ ملاقات سے پہلے منظور کیا گیا ہے۔اور یہ بات بھی واضح ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔
غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پر اجتماعی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ دو ریاستی حل کے مؤثر نفاذ کے ذریعے اسرائیل،اور فلسطین کے تنازعے کا منصفانہ پر امن اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔
اگر گہرائی سے موازنہ کیا جائے تو یہ بہت اہم پیش رفت ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر دو ریاستی حل کی قرارداد منظور کر لی گئی۔
اور اس وقت موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کی جائے تو اس قرارداد سے فلسطین عوام اور قیادت کو عالمی سطح پر ایک اخلاقی اور سفارتی جیت ملی ہے۔یہ اس وقت واضح پیغام ہے کہ دنیا کی بڑی اکثریت اب ان کے حق خودرادیت کو تسلیم کرتی ہے۔
اس وقت جہاں فلسطین کو اخلاقی سپورٹ ملی وہاں اسرائیل پر دبائو بھی بڑھا ہے۔اس قرارداد سے اسرائیل کو مزید عالمی سطح پر دبائو کا سامنا ہوگا خاص طور پر مغربی ممالک میں عوامی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں پر سوال بھی اُٹھیں گے۔
ابھی چند روز پہلے دوحہ ،قطر میں حملہ کیا جس میں اسرائیل نے دعوی کیا کہ وہ حماس رہنمائوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔اسرائیل کا مؤقف یہ تھاکہ قطر نے حماس رہنمائوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کر رکھے ہیں۔
ایک دعویٰ یہ بھی تھا جو کہ قطر کا موقف تھا کہ حملہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژکرنے کے مترادف ہے۔یہ عمل ،امن یا مصالحت کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
کئی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اسرائیل کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ایسی کاروائیاں علاقائی استحکام اور امن مذاکرات کو متاثر کرتی ہے۔
اگر ہم بات کریں امریکہ کی وہ تو شروع ہی سے اسرائیل کا حامی ہے ۔دوحہ حملے کے بعد بھی ڈونلد ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی اور دوحہ،قطر حملے کے متعلق تفصیلی بات چیت ہوئی ،مگر موجودہ صورتحال اور جنرل اسمبلی کی بھاری اکثریت کی رائے نے امریکہ کو سفارتی طور پر ایک مشکل پوزیشن پہ لا کھڑا کیا ہے۔
اور اگر تمام مسلم ممالک کی طرف موازنہ کیا جائے تو یہ قرارداد مسلم دنیا کے عوام اور حکومتوں میں فلسطین کے  لئے سیاسی سفارتی لحاظ سے مزید سپورٹ کرے گی۔
تمام صورتحال کا اگر گہرائی سے موازنہ کریں اور اگر عالمی دبائو اسی طرح برقرار رہاتو اسرائیل اورفلسطین کے درمیان کسی نہ کسی شکل میں مذاکرات کے لئے بنیاد بن سکتی ہے کیونکہ اسے عالمی برادری کی اکثریت نے تسلیم کیا ہے۔
اور اگر تمام تر صورتحال کو علاقائی لحاظ سے دیکھیں تو مشرق وسطی میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے خاص طور پہ خلیجی ممالک ترکی اور دیگر ریاستیں اس موقع کو عملی اقدامات میں بدلیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل اس قرارداد کو مسترد کرکے مزید جارحانہ رویہ اختیار کرے جس سے وقتی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
اور فلسطین کی صورتحال اس قرارداد کے بعد اقوام متحدہ کے اندر مزید اداروں اور معاہدوں کے لئے راستہ آسان ہو سکتا ہے حتی کہ مکمل رکنیت کی بحث بھی دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے۔ 
اس وقت کی تمام سورتحال کو اگر مدلل انداز میں بیان کیا جائے تو فلسطین کی یہ سفارتی کامیابی اور اخلاقی جیت ہے مگر حقیقی تبدیلی کا انحصار بڑے طاقتورممالک کے رویے اور اسرائیل کے ردعمل پہ ہوگا۔ 

ٹیگز: