Wed, September 16, 2026

پی ٹی آئی کا نومنتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری کیلئے عدالت سے رجوع

پی ٹی آئی کا نومنتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری کیلئے عدالت سے رجوع

پشاور : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نومنتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے مدد طلب کی ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ 8 اکتوبر کو علی امین گنڈا پور نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا، اور اس استعفیٰ کی تصدیق کے لیے 11 اکتوبر کو دوبارہ استعفیٰ گورنر کو بھیجا گیا تھا، جسے گورنر نے وصول کر لیا۔

سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے تحت جب گورنر کو استعفیٰ موصول ہو جائے تو وزیر اعلیٰ مستعفی سمجھا جائے گا، اور گورنر نے بھی ٹویٹ کر کے استعفیٰ کی وصولی کی تصدیق کی تھی۔ تاہم، ان کے مطابق، گورنر اب استعفیٰ کے بارے میں لاعلمی ظاہر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مسئلہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ چونکہ گورنر صوبے میں موجود نہیں ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں، اس لیے چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ حلف برداری کے لیے کسی اور شخص کو نامزد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق چیف جسٹس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو حلف لینے کے لیے نامزد کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے اس پر سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی گورنر کی غیر موجودگی میں حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کرنا چاہتی ہے، اور آیا سپیکر یا اپوزیشن نے اس بارے میں کوئی رابطہ کیا ہے؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی تک کوئی پٹیشن دائر نہیں کی گئی، اور سوال اٹھایا کہ کیا اتنی جلدی ہے یا گورنر کی واپسی کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گورنر کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا تھا کہ اسمبلی کا اجلاس ہونے والا ہے، اور اب مزید انتظار کرنا ممکن نہیں۔ چیف جسٹس نے اس پر اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کی کہ کیا گورنر کو حلف برداری کی سمری موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ٹیگز: