Wed, September 16, 2026

کفایت شعاری کا بڑا فیصلہ: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی، وزیرِ اعظم کا 'عوامی ریلیف' مشن

کفایت شعاری کا بڑا فیصلہ: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی، وزیرِ اعظم کا 'عوامی ریلیف' مشن

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے ملک میں جاری معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 'بچت مہم' کو سرکاری اداروں تک پھیلا دیا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی اور شاہانہ اخراجات پر مکمل پابندی کے انقلابی فیصلے کیے گئے ہیں۔ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فیصد سے 30 فیصد تک کٹوتی کا اطلاق ہوگا۔ یہ کٹوتی گریڈ اور عہدے کی بنیاد پر متناسب رکھی گئی ہے تاکہ نچلے طبقے پر بوجھ کم پڑے۔
کٹوتی سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم کو عوامی ریلیف کے لیے مختص کیا جائے گا، جس کا مقصد مہنگائی کے مارے عوام کو بنیادی ضرورت کی اشیاء پر سبسڈی فراہم کرنا ہے۔وزراء، معاونینِ خصوصی اور اعلیٰ سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ہے کہ انتہائی ناگزیر صورتحال کے علاوہ کوئی بھی سرکاری شخصیت بیرونِ ملک سفر نہیں کرے گی۔
اجلاس میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ حکومتی بچت کے ذریعے پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ عوام تک منتقل ہونے سے روکا جائے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ  وقت آ گیا ہے کہ حکومتی عہدیدار اور سرکاری افسران عوام کی خاطر قربانی دیں۔ ہم سرکاری وسائل کی ایک ایک پائی بچا کر اسے براہِ راست غریب کی جیب میں ڈالیں گے۔

ٹیگز: