Wed, September 16, 2026

سانحہ گل پلازہ: "ریسکیو اداروں کی سستی ہلاکتوں کی اصل وجہ بنی"، صدر ایسوسی ایشن کا تحقیقاتی کمیشن کے سامنے سنگین الزام

سانحہ گل پلازہ:

کراچی :کراچی کے معروف تجارتی مرکز 'گل پلازہ' میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے تحقیقاتی کمیشن کے سوالنامے کا تحریری جواب جمع کراتے ہوئے امدادی کارروائیوں میں مجرمانہ غفلت اور سستی کو جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔
صدر ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے کمیشن کو دیے گئے اپنے بیان میں ریسکیو آپریشن کی ناکامیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ  آگ بجھانے کے لیے پہنچنے والے پہلے فائر ٹینڈر میں پانی کی مقدار اتنی کم تھی کہ محض 20 منٹ کے اندر پانی ختم ہو گیا اور آپریشن رک گیا۔ پہلی گاڑی کے پانی ختم ہونے کے بعد، مزید دو فائر ٹینڈرز رات ساڑھے گیارہ بجے پہنچے، جب کہ آگ گراؤنڈ فلور پر تینوں اطراف پھیل چکی تھی۔
 جب تک امدادی ٹیمیں مکمل وسائل کے ساتھ پہنچیں، تب تک آگ بے قابو ہو کر قیمتی جانوں اور اربوں روپے کے اثاثوں کو راکھ بنا چکی تھی۔
تنویر پاستا نے اپنے بیان میں دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ اگر فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے بروقت اور منظم طریقے سے کارروائی کرتے تو ہلاکتوں کو روکا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ   صرف آگ لگنے کی وجہ تلاش کرنا کافی نہیں، بلکہ ان عوامل اور اداروں کا بھی تعین کیا جائے جن کی سستی کی وجہ سے ایک حادثہ بڑے سانحے میں تبدیل ہوا۔
تحقیقاتی کمیشن نے تنویر پاستا کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے اور اب اس بیان کی روشنی میں فائر بریگیڈ حکام اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو طلب کر کے ان سے جواب طلبی کی جائے گی۔

ٹیگز: