اسلام آباد/راولپنڈی:پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرنے والے دشمن عناصر کے خلاف پاک افواج نے فیصلہ کن معرکے کا آغاز کر دیا ہے۔ "آپریشن غضب للحق" کے تحت سرحد پار دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں، اسلحہ کے ذخائر اور سپلائی لائنز کو نشانہ بنا کر انہیں مفلوج کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان کے اندر درج ذیل مقامات پر کاری ضرب لگائی۔ کابل میں قائم 313 کور کے مرکزی اسلحہ خانے کو تباہ کر دیا گیا، جس سے دہشت گردوں کی جنگی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔قندھار ایئر فیلڈ میں موجود آئل سٹوریج اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا گیا ہے۔
قندھار کے علاقے ترہ وو اور صوبہ پکتیا کے علاقے شیرِ ناؤ میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔سرحد پار کارروائیوں کے ساتھ ساتھ، پاک فوج کے جوانوں نے شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشت گرد بھاری جانی نقصان اٹھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ "آپریشن غضب للحق" دشمن کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے یا کسی بھی قسم کی مداخلت کا جواب اسی کی زبان میں دیا جائے گا۔ پاک فوج دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔