Wed, September 16, 2026

خیبرپختونخوا کا بجٹ حقیقت پسندانہ، ترقیاتی منصوبے واضع:مزمل اسلم

خیبرپختونخوا کا بجٹ حقیقت پسندانہ، ترقیاتی منصوبے واضع:مزمل اسلم

پشاور:خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبے کا موجودہ بجٹ زمینی حقائق کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ وفاق کی بہتر کارکردگی سے صوبے کی ترقی مزید ممکن ہے۔

مزمل اسلم نے بتایا کہ گزشتہ سال وفاق کی کم ٹیکس وصولیوں کی وجہ سے صوبے کو 90 ارب روپے کم ملے۔ وفاق کی طرف سے خیبرپختونخوا کو ملنے والی ترقیاتی رقم سندھ اور پنجاب کے مقابلے میں کم ہے۔ این ایف سی اور اے ڈی پی کی مکمل ادائیگی کبھی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ رواں سال 93 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل کر سکے گا۔ قبائلی علاقوں میں 20 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں اور 47 ارب روپے کرنٹ بجٹ میں خود مختاری سے خرچ کیے گئے۔

مزمل اسلم نے بتایا کہ صوبے کا ترقیاتی بجٹ 153 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اگلے مالی سال میں 810 منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن کی مجموعی لاگت 500 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال میں کوئی نیا قرضہ نہیں لیا جائے گا، لیکن بڑے منصوبوں کے لیے قرض کی گنجائش موجود ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے 150 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

مزمل اسلم کے مطابق وفاق اگلے سال 70 ارب روپے کی مکمل ادائیگی کرے گا جبکہ پن بجلی کے لیے ماہانہ 3 ارب روپے صوبے کو مل رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کے ملازمین کو مختلف الاؤنسز دیے جا رہے ہیں، پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں پنجاب کے برابر کی گئی ہیں اور ان میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط، عوامی فلاح اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح دے گی۔

ٹیگز: