اس سے پہلے کہ آپ آج کے کالم کا عنوان پڑھ کر جلد بازی میں میرے متعلق کسی قسم کی کوئی رائے قائم کرلیں میںیہ وضاحت کردوں کہ یہ ممبئی ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے۔ البتہ یہ دوسری بات ہے کہ اندر کھاتے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے میںبھی ”آئی لو یو“ کہنے کے اس ” دل بہار“فیصلے پر پوری طرح عدالت کا ہم خیال ہوں ۔ میری اس بات کے بعداب لوگ میرے بارے جیسا بھی سوچیں مجھے اس کی پروا نہیں ہے اس لئے کہ لوگ تو کسی حال میں بھی خوش نہیں رہنے دیتے بقول آنند بخشی”کچھ تو لوگ کہیں گے لوگوں کا کام ہے کہنا“۔2جولائی 2025ءکے ایک بڑے قومی اخبار میںسینئر صحافی صالح ظافرکے نام سے ایک خبر چھپی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ”ممبئی ہائی کورٹ نے ایک مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ”آئی لو یو“کہنا ہراساں کرنا نہیں سمجھا جا سکتابلکہ یہ محض جذبات کا اظہار ہے۔خاتون جج جسٹس ارمیلا جوشی فالکے نے 2015 میں 17 سالہ لڑکی کو چھیڑنے کے مقدمے میں تین سال سزا پانے والے ایک 35 سالہ شخص کو بری کر دیا۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور آئی لو یو کہہ کر اسے ہراساں کیا ہے جس پر سیشن عدالت نے اسے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ خاتون جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس قسم کا کوئی بھی عمل اس وقت ہراساں کہلاتا ہے جب اس میں نامناسب انداز، زور زبردستی ، بُری حرکات یا ایسے بُرے الفاظ شامل ہوںجن کا مقصد عورت کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانا ہو“۔2015ءمیں اپنے وقوعہ یعنی لڑکی کو “آئی لو یو“ کہنے کی تاریخ کے حساب سے یہ خبرزیادہ نہیں تو اندازہ ہے کہ چار پانچ برس تو ضرور پرانی ہوگی۔ایک ایسے وقت میں جب کہ قومی اور بین الاقوامی منظر نامے پر ایک سے ایک اہم،دلچسپ،سنسنی خیزاورمزیدار خبروں کا” گھڑمس “مچا ہوا ہے اللہ جانے صالح ظافر جیسے صالح رپورٹر نے ہمسایہ ملک کی یہ اچھی خاصی پرانی خبرکس نیک جذبے کے تحت قارئین سے شیئر کی ہے۔مگراس بات کی داد انہیں ضروردینا پڑے گی کہ یہ خبر شیئر کرکے انہوں نے ایک بار پھر سے میرے سمیت بہت سے بابوں اور نیم بابوں کے سوئے ہوئے ارمانوں کو جگا دیا ہے۔ جب سے یہ خبر پڑھی ہے دل و دماغ میں ”یہ ایلو ایلو کیا ہے،ایلو کا مطلب آئی لو یو “ جیسے وہ تمام محبت بھرے گانے جنھیں ہم اپنے دور جوانی دن رات سنا کرتے تھے پھر سے ترو تازہ ہو گئے ہیں۔ البتہ چند حوالوںسے یہ خبر تشنہ ہے کہ اس میں اس فیصلے پر بھارتی میڈیا اور بالخصوص وہاں کی عوام کے ردعمل کے بارے کچھ نہیں بتایا گیا حالانکہ عاشقوں کے نقطہ نظر سے یہ ایک ایسی اہم اور ”ٹرینڈ سیٹر“ خبر ہے جس میں اس فیصلے پر عوامی ردعمل کے ساتھ اس کی ”ایچی بیچی“ رپورٹ کرنا بھی بے حد ضروری تھا تاکہ وہ ان جزئیات کی روشنی میں بہترین پلاننگ کے ساتھ اپنا آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دے سکیں۔ اس خبر کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ اس فیصلے کے بعد اب ممبئی میں کسی لڑکی کو”آئی لو یو “ کہنے والے عاشقوںکو کس قسم کاقانونی تحفظ حاصل ہوگا اور کیا اس قانونی سہولت سے مستفیدہونے کے لئے سرکاری نوکری کی طرح عمر کی بالائی حد یا شادی شدہ اورغیر شادی شدہ ہونے کی بھی کوئی شرط ہے یا نہیں۔ یہ نکتہ بھی وضاحت طلب ہے کہ کیا کوئی عاشق اپنی محبوبہ کو اگر زبانی طور پر ہی”آئی لو یو“ کہے تو صرف اسے ہی یہ قانونی تحفظ حاصل ہوگا یا پرانی فلموں اور قصے کہانیوں کی طرح آٹھ دس سالہ منصوبہ کے تحت اشاروں کنائیوں یا کسی رقعے شُکے میں ہلکی آنچ پر عشقیہ اشعار اور ” محبت زندگی ہے اور تم میری محبت ہو“ جیسے رومینٹک گیتوں میں اپنے عشق کا اظہار کرنے والے عاشقوںکو بھی یہ سہولت دستیاب ہوگی۔ صالح ظافر صاحب کو پاکستانی عوام کی رہنمائی کے لئے قانونی ماہرین سے اس سوال کا جواب بھی ضرور رپورٹ کرنا چاہیے کہ کیا ممبئی ہائیکورٹ کے اس تاریخی فیصلے کو ظالم اور سنگدل محبوب کے خلاف ہمارے ہاں بھی معزز عدالتوں
کے سامنے بطور نظیر پیش کر کے کسی قسم کا کوئی”ریلیف“ لیا جاسکتاہے یا نہیں۔یہ سوال اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ جب سے میڈیا پر سنگ دل محبوب کو اپنے عمل کے زور سے موم کرنے والے عامل بابوں کے محبوباﺅں کے ساتھ خود فرار ہونے کے سکینڈل سامنے آئے ہیں ۔محبوب کی بے اعتنائی کے مارے ان بے چارے عاشقوں کی تکلیف کا ازالہ شاید اب صرف معزز عدالتوں میں ہی ممکن ہوسکے ۔صالح ظافر ان سوالوں کے جواب اگر کسی قانونی ماہر کی رائے کے ساتھ دوبارہ تفصیل سے رپورٹ کر سکیں تو انجمن تحفظِ حقوق عاشقاں کے سبھی رجسٹرڈ اور نان رجسٹرممبران اس کارخیر کے لئے ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔ میرے دوست احباب اور مستقل قارئین یقینا اس حقیقت سے واقف ہونگے کہ میں” کوئی غلط قسم کا لڑکا ہوں“ اور نہ ہی مستقبل قریب یا بعید میں میرا کسی کو ”آئی لو یو“ کہنے کا پروگرام ہے۔ کیوں جس زمانے سے میراتعلق ہے میرے جیسے شریف لڑکوں کو محبت تو خیر اس زمانے میں بھی ہوتی تھی مگر ابا جی کے”لِتر پولوں“ اور لڑکی سے بے عزتی کے ڈر سے اسے ”آئی لو یو“ کہنے کی کبھی ہمت نہ ہوتی تھی۔ اپنا بھولپن ملاحظہ کریں کہ اپنی اب تک ساری عمر اسی خوش فہمی کے سہارے گزار دی کہ ”ضروری تو نہیں کہہ دوں لبوں سے داستاں اپنی / زباں اِک اور بھی ہوتی ہے اظہارِ تمنا کی“۔ اس پر قسمت کی کارستانی بھی دیکھیں کہ اس دوران مجھے اس میدان کے بڑے بڑے نامی گرامی استادوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کا موقع بھی ملا مگر مجال ہے اس حوالے سے کبھی کسی ایک استاد نے بھی بڑا بن کر میری مدد کی ہو یا مجھے اپنا کوئی قیمتی گُر سکھایا ہو۔ استادوں کو اپنے کاموں سے ہی فرصت نہیں ملی۔ لیکن کیا ہے کہ دیر سے سہی مگر ممبئی ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے حوصلہ پا کر میرے دل میں بھی امید کی ایک نئی شمع روشن ہوئی ہے اور اب میرا بھی جی چاہ رہا ہے کہ اس بار ہمت کر کے میں بھی جسے چاہتا ہوں اسے ”آئی لو یو“ کہہ ہی دوں شاید قبولیت کی کسی گھڑی میں یا کسی ممکنہ سرکاری آرڈر کے چکر میں اُس کے دل میں اُتر جائے میری بات۔ ورنہ عمر کے اس حصے میں ایک بار پھر سے اپنی محبوبہ کی شادی پر باراتیوں کی خاطر مدارت کرنے کی اب مجھ میں بالکل بھی ہمت نہیں ہے۔ سو ”آئی لو یو! ڈارلنگ“۔