Wed, September 16, 2026

سیف علی خان کا قانونی معرکہ جیتنے کے بعد موروثی زمین پر قبضہ دوبارہ بحال

سیف علی خان کا قانونی معرکہ جیتنے کے بعد موروثی زمین پر قبضہ دوبارہ بحال

بھوپال: بالی ووڈ کے مشہور اداکار سیف علی خان اور ان کے خاندان کو بھوپال میں واقع اپنی موروثی زمین سے متعلق ایک طویل اور پیچیدہ قانونی جنگ میں آخرکار بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

یہ عدالتی معرکہ تقریباً پچیس سال تک جاری رہا اور آخرکار پٹودی خاندان کے حق میں فیصلہ آیا، جس سے یہ پرانا تنازعہ اختتام کو پہنچا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق، جس جائیداد پر یہ مقدمہ چل رہا تھا، اس کی مجموعی قیمت تقریباً سولہ ہزار کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 1.6 ارب ڈالر) ہے۔ یہ زمین مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے علاقے نیاپورہ میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ 16.62 ایکڑ ہے۔

مدھیہ پردیش کی ضلعی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس زمین پر پٹودی خاندان کی ملکیت کو بحال کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ یہ جائیداد قانونی طور پر سیف علی خان، ان کی والدہ اور مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور اور ان کی بہنوں کی ہے۔ یہ فیصلہ خاندان کے لیے ایک بڑی قانونی فتح سمجھی جا رہی ہے۔

یہ تنازعہ سب سے پہلے 1998 میں سامنے آیا تھا، جب عقیل احمد اور دیگر افراد نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا اور کہا کہ یہ زمین پٹودی خاندان کی نہیں بلکہ ان کے آبا اجداد کی ملکیت ہے۔ مدعیان کا کہنا تھا کہ سابق نواب حمید اللہ خان نے 1936 میں یہ جائیداد اپنے بزرگوں کو تحفے کے طور پر دی تھی، جس کی بنیاد پر وہ اسے اپنے ملکیت سمجھتے ہیں۔

تاہم، طویل عدالتی کارروائی کے دوران مدعیان اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد یا مستند دستاویزی شواہد پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے کیس کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اس زمین کی منتقلی یا تحفے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔ شواہد کی کمی اور قانونی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے دعوے کو مسترد کر دیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد نیاپورہ بھوپال کی 16.62 ایکڑ زمین پر پٹودی خاندان کی ملکیت دوبارہ قانونی طور پر تسلیم کر لی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ طویل اور پیچیدہ قانونی تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

ٹیگز: