سیاسی احتجاج جمہوری معاشروں میں رائے کے اظہار کا ایک تسلیم شدہ حق ہے، مگر جب یہی احتجاج ہنگامہ آرائی، تشدد اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کر لے اور قومی و سرکاری املاک کو نشانہ بنایا جائے تو یہ عمل اپنی اخلاقی اور آئینی حیثیت کھو دیتا ہے۔ ایسے لمحات میں اختلافِ رائے، ریاست سے تصادم میں بدل جاتا ہے اور احتجاج عوامی آواز کے بجائے انتشار کی علامت بن جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ دن کسی تحریک کی کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاہ ترین یاد کے طور پر تاریخ میں درج ہو جاتا ہے، جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی صورت قوم یا جمہوریت کے حق میں نہیں ہوتا۔
9مئی 2023ءکے واقعات محض ایک سیاسی ردعمل نہیں تھے بلکہ انہوں نے پاکستان میں احتجاج، ریاستی رِٹ اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری کے تصورات کو ازسرِنو بحث کا موضوع بنا دیا۔ اب جب پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ منظرِ عام پر آ چکی ہے، تو یہ معاملہ جذبات، بیانیوں اور الزامات سے نکل کر شواہد اور قانون کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔فرانزک رپورٹ کے مطابق پشاور میں ہونے والے واقعات سے متعلق 16 ویڈیو کلپس کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا گیا، جن میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔ یہ تصدیق محض مشابہت کی بنیاد پر نہیں بلکہ پروفائل تصاویر اور ویڈیو فوٹیج کے باقاعدہ موازنے کے بعد کی گئی، جو جدید فرانزک اصولوں کے مطابق ایک مضبوط شہادت تصور کی جاتی ہے۔اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کا م¶قف نہیں بلکہ ایک تکنیکی اور سائنسی تجزیہ ہے، جس کا دائرہ صرف بصری مواد تک محدود رکھا گیا۔ اگرچہ بعض ویڈیوز میں چھیڑ چھاڑ یا کلپ اسپلائسنگ کے آثار کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، مگر اس کے باوجود متعلقہ شخصیات کی موجودگی کی تصدیق اپنی جگہ قائم ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جسے نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی مسلسل یہ م¶قف اختیار کرتی رہی ہے کہ 9 مئی کے واقعات یا تو خود رو تھے یا پھر انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ تاہم جب کسی جماعت کی صوبائی حکومت کے سربراہ کی موجودگی ایسے واقعات میں سامنے آئے، تو یہ معاملہ محض”ورکرز کے جذبات“تک محدود نہیں رہتا بلکہ براہِ راست قیادت کی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری پر سوال اٹھاتا ہے۔ریڈیو پاکستان جیسی قومی علامت کو نذرِ آتش کرنا، ایمبولینسوں کو جلانا اور ٹول پلازوں پر حملے کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کے قابلِ قبول طریقے نہیں سمجھے جا سکتے۔ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت اقتدار میں ہے یا اپوزیشن میں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاستی املاک پر حملے کو کسی بھی صورت سیاسی احتجاج کا نام دیا جا سکتا ہے؟
فرانزک رپورٹ کے بعد پشاور پولیس کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بطور ملزم نامزد کرنے پر غور اور ضمنی چالان کی تیاری اس بات کی علامت ہے کہ معاملہ اب قانونی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ ایک حساس مرحلہ ہے کیونکہ اگر اس کیس میں قانون نے سیاسی دبا¶ کے تحت کمزوری دکھائی تو اس کے اثرات مستقبل کی سیاست اور ریاستی عملداری دونوں پر مرتب ہوں گے۔اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ماضی میں متعدد سنگین سیاسی واقعات تحقیقات کی نذر ہو کر فائلوں میں دفن ہو چکے ہیں۔ مگر 9 مئی کا معاملہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں ڈیجیٹل شواہد، فرانزک تجزیہ اور عدالتی نگرانی شامل ہے۔ یہی عوامل اسے محض سیاسی الزام تراشی کے دائرے سے نکال کر ایک ٹیسٹ کیس بنا دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کےلئے یہ لمحہ احتساب کا لمحہ ہے۔ اگر جماعت واقعی قانون کی بالادستی اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو اسے عدالتوں میں شواہد کا سامنا کرنا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا بیانیوں کے ذریعے مقدمے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح ریاستی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کیس کو کسی سیاسی انتقام کے تاثر سے پاک رکھیں۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بجا طور پر ان واقعات کو ایک منظم سازش قرار دیا ہے، کیونکہ فرانزک رپورٹ یہ تاثر مضبوط کرتی ہے کہ یہ سب اچانک اور جذباتی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تشدد تھا۔ جناح ہا¶س پر حملہ ہو یا ریڈیو پاکستان کو آگ لگانا، یہ سب ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، اور اس کی مثال کسی بھی جمہوری معاشرے میں نہیں ملتی۔مزید برآں پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی آمد پر پیش آنے والے حالیہ ہنگامے اور اس کی تحقیقات بھی اس امر کو باور کرا رہی ہیں کہ سیاسی درجہ حرارت ابھی کم نہیں ہوا۔ ایسے ماحول میں قانون کا غیر جانبدار اور مضبوط کردار ہی واحد راستہ ہے جو ریاست اور سیاست کے درمیان توازن قائم رکھ سکتا ہے۔
آخرکار، 9 مئی کے واقعات اور ان پر آنے والی فرانزک رپورٹ ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ کیا پاکستان میں سیاسی قیادت بھی وہی قانون برداشت کرنے کو تیار ہے جو عام شہری کے لیے ہے؟ اس سوال کا جواب الفاظ میں نہیں بلکہ عدالتی فیصلوں اور عملی اقدامات میں دیا جائے گا۔اگر یہ مقدمہ منطقی انجام تک پہنچا، شواہد کی بنیاد پر فیصلے ہوئے اور ذمہ داری کا تعین بلا تفریق کیا گیا، تو یہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر، 9 مئی بھی ماضی کے ان واقعات کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جن سے سبق سیکھنے کے بجائے صرف بیانیے تراشے گئے۔