پاکستان اس وقت شدید معاشی دبا¶ اور کثیرالجہتی چیلنجز کے دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، کمزور صنعتی سرگرمیاں، محدود مالی وسائل، اور کاروباری عدمِ استحکام جیسے مسائل ایک حقیقت ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے، کاروبار غیر یقینی کا شکار ہیں۔ مگر ان تمام مسائل سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان بحرانوں سے نکلنے کے لیے جن اداروں پر انحصار کیا جا رہا ہے وہ معیشت کو ایک انتظامی مسئلہ سمجھ کر حکم کے ذریعے درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں پالیسی سازی کا عمومی مزاج یہ بن چکا ہے کہ معیشت کو ایک زندہ اور متحرک نظام کے بجائے فائل، نوٹیفکیشن اور کنٹرول لسٹ کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔ سرکاری افسران معیشت کو ایک نوٹس اور حکم نامے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مارکیٹ میں کوئی بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کا حل مشاورت، اعتماد سازی یا زمینی حقائق میں تلاش کرنے کے بجائے چھاپوں، طلبی نوٹس اور انتظامی احکامات میں ڈھونڈا جاتا ہے۔اس سوچ کی جڑ بیوروکریسی کا وہ مائنڈ سیٹ ہے جو خود کو عوام کا خادم نہیں بلکہ حاکم سمجھتا ہے۔ چنانچہ ہر پالیسی کو بزورِ طاقت نافذ کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ معاشی اصلاحات حکم سے نہیں بلکہ اعتماد، تسلسل اور شراکت سے کامیاب ہوتی ہیں۔
پنجاب حکومت کی ماحولیاتی پالیسیوں کو دیکھا جائے تو نیت اور سمت درست نظر آتی ہے۔ سموگ پر قابو پانے، ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور پلاسٹک شاپنگ بیگز کے خاتمے جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اسی سوچ کے تحت کاغذ اور کپڑے سے بنے دوبارہ قابلِ استعمال بیگز کو فروغ دیا گیا اور اس حوالے سے آگاہی مہمات بھی چلائی گئیں تاکہ عوام پلاسٹک کے نقصانات کو سمجھ سکیں۔تاہم مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں ایک درست پالیسی کو غلط نفاذ نے تنازع بنا دیا۔ حالیہ دنوں،گوجرانوالہ میں کنزیومر کمپلینٹ کونسل کی جانب سے برانڈ ریٹیل آ¶ٹ لیٹس کو نوٹسز جاری کیے گئے اور شاپ منیجرز کو طلب کر کے کہا گیا کہ مصنوعات کے ساتھ شاپنگ بیگز مفت فراہم کیے جائیں۔ یہ اقدام ایک جانب پنجاب حکومت اور انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کی پالیسی کے منافی ہے جو پلاسٹک بیگز کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے اور دوسری جانب یہ پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 کے رُول 23 سے بھی متجاوز ہے۔ یہ رول کنزیومر کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ہے، مگر کسی کاروبار کو زبردستی اضافی اشیاءمفت دینے کا اختیار نہ تو اس ایکٹ میں دیا گیا ہے اور نہ ہی یہ اس ادارے کی ڈومین میں آتا ہے۔
برانڈ اونرز کے مطابق کلاتھ اور پیپر بیگز کی تیاری پلاسٹک بیگز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے باوجود آرگنائزڈ ریٹیل برانڈز ان بیگز کی قیمت کا بڑا حصہ خود برداشت کرتے ہیں اور صارف سے محض جزوی رقم وصول کی جاتی ہے، تاکہ ری یوز ایبل کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔ دنیا بھر میں یہی پریکٹس موجود ہے۔ مگر جب ریاستی ادارے ایک دوسرے کی پالیسیوں کو خود ہی غیر م¶ثر بنانے لگیں تو نتیجہ صرف بداعتمادی اور انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسی سوچ کے تسلسل میں اب حکومت کیش لیس اکانومی اور ڈیجیٹلائزیشن کو بھی بیوروکریسی کے ذریعے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ حال ہی میں لاہور میں راست ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے حوالے سے ایک اجلاس میں شرکت کا موقع ملا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر لاہور کر رہے تھے۔ اجلاس میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز، سٹیٹ بینک آف پاکستان، نجی بنکوں کے افسران اور چند ایسوسی ایشنز و چیمبرز کے نمائندے بھی موجود تھے۔اصولی طور پر انتظامی سرپرستی میں ایسی کوششیں قابلِ اعتراض نہیں، مگر اصل مسئلہ نفاذ کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوروکریسی کے پاس ان فیصلوں سے جڑے عملی مسائل کا نہ تو حل ہوتا ہے اور نہ ہی اختیار۔ مثال کے طور پر لاہور کی اکبری منڈی میں حالیہ دنوں میں چینی کی قیمت دس روپے فی کلو بڑھ گئی، حالانکہ سرکاری نرخ 150 روپے ہیں مگر مارکیٹ میں چینی 160 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اس معاملے میں بے بس دکھائی دی۔ یہی صورتحال پورے پنجاب میں آٹے کی قیمتوں کی ہے جو اچانک بڑھ گئیں اور تاحال کنٹرول سے باہر ہیں۔ ایک ہی شہر میں اشیائے خورونوش کی مختلف قیمتیں اس بات کی علامت ہیں کہ یا تو گراں فروشی کے خلاف کارروائی میں ارادے کی کمی ہے یا انتظامی صلاحیت ناکافی ہے۔
بالکل یہی مسئلہ ڈیجیٹل اکانومی کے نفاذ میں بھی درپیش ہے۔ ممکن ہے بیوروکریسی دکانوں پر بزورِ طاقت کیو آر کوڈ لگوا دے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس سے ڈیجیٹل اعتماد پیدا ہوگا؟ راست بلاشبہ ایک جدید اور م¶ثر نظام ہے، مگر عملی طور پر صارف اور تاجر دونوں بنکنگ نظام کی خامیوں سے خائف ہیں۔ اگرچہ راست پر فرد سے فرد ادائیگی بظاہر مفت ہے، مگر حقیقت میں صارف کو اکا¶نٹ مین ٹیننس فیس، ایس ایم ایس الرٹس چارجز، مرچنٹ اکا¶نٹس پر بالواسطہ کٹوتیوں، سیٹلمنٹ میں تاخیر اور ہر ٹرانزیکشن پر ڈیٹا کی بنیاد
پر اضافی مالی دبا¶ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گاہک اور دکاندار اپنا پیسہ بنک میں رکھتے ہیں، بنک اسی پیسے سے کاروبار کرتا ہے، منافع کماتا ہے، پھر اسی رقم پر مختلف کٹوتیاں بھی کرتا ہے اور آخرکار صارف اس رقم پر ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنکوں کے منافع اور ان کے شیئرز مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ عام صارف اور تاجر کا اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت واقعی ڈیجیٹلائزیشن کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو بنکنگ سیکٹر کا ایک شفاف اور غیر جانبدار آڈٹ ناگزیر ہے۔ عین ممکن ہے اربوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آ ئیں۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہو گا کہ معاشی اصلاحات نوٹیفکیشن، طلبی نوٹس یا بزورِ طاقت کیو آر کوڈ لگوانے سے نہیں آتیں۔ اصلاحات اعتماد، انصاف، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے جنم لیتی ہیں۔ جب تک بیوروکریسی خود کو پالیسی کا تنہا مالک جبکہ مارکیٹ، تاجر اور صارف کو شراکت دار کی بجائے تابع سمجھتی رہے گی تو ہر اچھی نیت رکھنے والی پالیسی بھی بداعتمادی کی نذر ہوتی رہے گی۔ پاکستان کو اس وقت حکم چلانے والی ریاست نہیں بلکہ سہولت دینے والی، جوابدہ اور اعتماد پر مبنی ریاست کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہم ہر بحران کو فائل میں بند کر کے مطمئن ہوتے رہیں گے اور معیشت خاموشی سے مزید بوجھ تلے دبتی چلی جائے گی۔